Loading
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ایران جنگ کے باعث توانائی کی بڑھتی ہوئی عالمی قیمتوں کے ابتدائی اثرات سے پاکستان اب تک نمٹنے میں کامیاب رہا ہے تاہم خلیجی ممالک میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے ملکی معیشت کے لئے تشویش کا باعث ہیں۔
فرانسیسی خبررساں ادارے کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ملک میں نہ ایندھن کی کمی پیدا ہوئی، نہ پیٹرول پمپس پر قطاریں لگیں اور نہ ہی امن و امان کی ایسی صورتحال پیدا ہوئی جیسی بعض دیگر ممالک میں دیکھی گئی۔
پاکستان نے نومبر تک کیلئے توانائی کی ضروریات کا انتظام کر رکھا ہے اور اب موسم سرما کے مہینوں کیلئے منصوبہ بندی کی جا رہی ہے،حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے کو صنعتوں، کچھ گروپوں اور مفاداتی حلقوں کی مزاحمت کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فوج جن تجارتی اداروں کو چلا رہی ہے وہ منافع بخش ہیں، ہم سرکاری خزانے سے انہیں کوئی فنڈز فراہم نہیں کر رہے۔
وزیرخزانہ سے بنکاک میں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا کیلئے ڈائریکٹر آئی ایم ایف جہاد ازور، یو این ڈی پی کے ایڈمنسٹریٹر اور اقوام متحدہ کے انڈر سیکریٹری جنرل الیگزینڈر ڈی کرو ،بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی جے پی مورگن ،شارجہ اسلامک بینک ، ابو ظہبی کمرشل بینک اور عجمان بینک کے وفود سمیت دیگر اہم شخصیات سے ملاقاتیں کی ہیں۔
آئی ایم ایف کے ڈائریکٹر سے ہونیوالی ملاقات میں معاشی کارکردگی اور اصلاحات پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے محصولات، مہنگائی، معاشی نمو اور جاری کھاتے کے حوالے سے پیش رفت کا جائزہ لیا گیا ۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل