Sunday, October 18, 2026
 

کاٹن، ٹیکسٹائل کا شعبہ مالیاتی بحران سے دوچار، 50 فیصد پاور لومز بدستورعدم فعال

 



ملک میں ناموافق موسم سے کپاس کی پیداوار ابتدائی تخمینوں سے بھی کم ہونے کے خدشات، چین ودیگر ممالک سے ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن اسکیم کے تحت کروڑوں میٹر فیبرکس کی امپورٹ میں انڈرانوائسنگ اور درآمدی کپڑے سے مطلوبہ فنشڈ پراڈکٹس کی برآمدات نہ ہونے کے باعث مقامی کاٹن و ٹیکسٹائل کی صنعت تاحال مالیاتی بحران سے نہ نکل سکی اور سینکڑوں جننگ فیکٹریاں اور ٹیکسٹائل ملوں کی بندش کے بعد پچاس فیصد کے لگ بھگ پاور لوموں کی بھی عدم فعالیت برقرار ہے۔ چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے بتایا کہ پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے اعدادو شمار کے مطابق 15 اکتوبر تک ملک بھر کی جننگ فیکٹریوں میں 8 فیصد کے اضافے سے مجموعی طور پر 40 لاکھ 81 ہزار گانٹھوں کے مساوی پھٹی پہنچی ہے، پنجاب میں  یہ کپاس کی پیداوار 16لاکھ 38ہزار گانٹھ اور سندھ میں 24لاکھ 43 ہزار گانٹھ ریکارڈ کی گئی ہے جو گزشتہ سال کے اسی مدت کی نسبت بالترتیب 8فیصد اور 7فیصد زائد رہی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسی مدت میں ٹیکسٹائل ملوں نے جننگ فیکٹریوں سے 34 لاکھ 52 ہزار گانٹھ جبکہ برآمد کنندگان نے 97ہزار گانٹھوں کی خریداری کی ہیں۔ اعداد وشمار کے مطابق فی الوقت 5لاکھ 32ہزارگانٹھوں کے قابل فروخت ذخائر دستیاب ہیں، پنجاب کی جننگ فیکٹریوں میں سب سے زیادہ کپاس ضلع بہاولنگر میں 4لاکھ 19ہزار گانٹھ، بہاولپور میں 2لاکھ 95ہزار گانٹھ، ڈی جی خان میں 2لاکھ 36ہزار گانٹھوں کی پیداوار ہوئی ہے اور سندھ میں سب سے زیادہ کپاس ضلع سانگھڑ میں 4لاکھ 19ہزار گانٹھ ریکارڈ کی گئی۔ احسان الحق نے بتایا کہ گزشتہ چند سال سے پاکستان میں پیداواری لاگت میں ریکارڈ اضافے اور ای ایف ایس کے غلط استعمال کے باعث چین و دیگر ممالک سے انڈر انوائسنگ کے ذریعے لاکھوں ٹن سوتی دھاگہ اور کروڑوں میٹر کپڑے کی درآمدات کی گئیں لیکن درآمدہ دھاگے اور فیبرکس سے ویلیوایڈڈ مصنوعات بیرونی ممالک کو برآمد کرنے کے بجائے خام مال کی صورت میں اندرون ملک ہی فروخت کردی گئی جس کے باعث مقامی کاٹن انڈسٹری تاریخ کے بد ترین معاشی بحران میں مبتلا ہوکر کافی حد تک غیر فعال ہوگئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاور لومز ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ ای ایف ایس کے تحت صرف چین سے 4 سے 5کروڑ میٹر کے لگ بھگ کپڑا درآمد کیا گیا جبکہ اپٹما کے مطابق مالی سال 2027/28 کی پہلی سہ ماہی میں مین میڈ یارن کی درآمدات بڑھ کر 12ہزار 773میٹرک ٹن اور مین میڈ فیبرک کی درآمدات 660 میٹرک ٹن سے بڑھ کر  8ہزار 628میٹرک ٹن ہوگئی ہے لیکن حیران کن طور پر برآمدات میں اضافہ پچھلے سال کی اسی سہہ ماہی کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے جس کے باعث ان پراڈکٹس کی اندرون ملک ہی فروخت کے باعث ملکی کاٹن انڈسٹری زوال پذیر ہے کیونکہ اندرون ملک ان پراڈکٹس کی خرید و فروخت پر 18فیصد سیلز ٹیکس کا نفاذ ہونے کے باعث یہ پراڈکٹس کافی مہنگی ہیں۔ احسان الحق نے بتایا کہ کئی سال قبل بھارت سے سوتی دھاگے کی سیلز ٹیکس فری یا رعایت پر درآمدات سے پاکستان کی کاٹن انڈسٹری غیر معمولی طور پر متاثر ہوچکی ہے، جس کے باعث 500 کے لگ بھگ کاٹن جننگ فیکٹریاں، 150 سے زائد ٹیکسٹائل ملیں اور اب 50فیصد کے لگ بھگ پاور لومز غیر فعال ہوچکی ہیں اور ان میں اضافہ بھی جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اپٹما نے مطالبہ کیا ہے کہ ای ایف ایس کے تحت مین میڈ یارن اور مین میڈ فیبرک کی درآمد پر بھی پابندی عائد کی جائے تاکہ مقامی کاٹن انڈسٹری میں جاری معاشی بحران کا خاتمہ ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی سی جی اے کی رپورٹ کے مطابق 15اکتوبر تک پنجاب میں کپاس کی پیداوار 16لاکھ 38ہزار گانٹھ رہی ہے جبکہ حیران کن طور پر کراپ رپورٹنگ سروسز پنجاب کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق یہ پیداوار 29 لاکھ 83ہزار گانٹھ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بنگلہ دیش کی ٹیکسٹائل پراڈکٹس کی بڑھتی ہوئی مقدار کے باعث بنگلہ دیش کی حکومت نے اپنی کپاس کی کاشت بڑھانے کے لئے ہنگامی اقدامات کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت بنگلہ دیش جہاں اس وقت کپاس کی پیداوار 2لاکھ 24ہزار گانٹھ ہے اور اسے اب سال 2050 تک بڑھا کر 19لاکھ گانٹھوں تک بڑھائی جائے گی، اس مقصد کے لیے بنگلہ دیش کے 64 میں سے 53اضلاع میں کپاس کی منظم کاشت کی جائے گی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل