Wednesday, October 21, 2026
 

نرسنگ کونسل نے ماتحت اداروں کی رجسٹریشن فیس میں اضافہ کردیا

 



پاکستان نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل نے  اداروں کی رجسٹریشن فیس میں اضافہ کر دیا جبکہ مختلف مدوں میں نظرثانی کی منظوری دے دی ہے۔ پاکستان نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق کونسل نے مختلف مدوں میں فیسوں پر نظرثانی کی منظوری دے دی ہے، نرسنگ اداروں کی درخواست پراسیسنگ فیس دو لاکھ روپے اور نرسنگ کے ہر ڈگری پروگرام کی فیس 5 لاکھ روپے مقرر کردی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن میں بتایا گیا کہ ہر ڈپلومہ پروگرام کی فیس ڈیڑھ لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے، نرسنگ اداروں کی انسپیکشن فیس 5 لاکھ روپے، رجسٹریشن اور منظوری کی فیس 3 لاکھ روپے مقرر کردی ہے۔ اس حوالے سے بتایا گیا کہ نظرثانی شدہ فیس شیڈول سابقہ شیڈول کی جگہ نافذ کردیا گیا ہے اور اس کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔ پاکستان نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل نے ہدایت کی ہے کہ تمام متعلقہ ادارے نئی فیسوں کے شیڈول پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔ نوٹیفکیشن کے مطابق نرسنگ کے اداروں کی فیسوں میں نظرثانی کا فیصلہ کونسل کے 23 ستمبر 2026 کے اجلاس میں کیا گیا تھا۔   پاکستان نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل کا بڑا فیصلہ پاکستان نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل نے جگہ تبدیل کرنے والے نرسنگ اداروں کی دوبارہ تصدیق کا فیصلہ کرلیا ہے، جس کے مطابق کونسل کی پیشگی منظوری کے بغیر عمارتیں تبدیل کرنے والے نرسنگ اداروں کی انسپیکشن لازمی قرار دی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ تمام متعلقہ نرسنگ اور مڈوائفری اداروں کو نئی عمارتوں کی انسپیکشن اور تصدیق کرانا ہوگی اور متعلقہ اداروں کو نوٹیفکیشن کے اجرا سے 15 روز کے اندر درخواست جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ فیصلے کے تحت اداروں کو انسپیکشن اور تصدیق کے لیے مقررہ فیس بھی جمع کرانا ہوگی، مقررہ مدت میں درخواست نہ دینے والے اداروں کی منظوری معطل رکھی جائے گی اور متعلقہ اداروں کی منظوری مجاز اتھارٹی کے آئندہ احکامات تک معطل رہے گی۔ کونسل سیکریٹریٹ کو متاثرہ نرسنگ اداروں کی نشان دہی اور ضروری کارروائی کی ہدایت کی گئی ہے، نرسنگ اداروں کے خلاف کارروائی متعلقہ قواعد و ضوابط کے مطابق ہوگی۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پاکستان نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل کے 23 ستمبر 2026 کے اجلاس میں کیے گئے اس فیصلے میں کونسل نے تمام متعلقہ اداروں کو نوٹیفکیشن پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کردی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل