Wednesday, October 21, 2026
 

یمن پر حملہ نہیں کریں گے لیکن سعودی عرب کے بھرپور دفاع کیلیے تیار ہیں؛ مصر

 



مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے کہا ہے کہ سعودی عرب کو مجوزہ فوجی مدد کا مقصد اس کی سرزمین اور سرحدوں کا دفاع کرنا ہے، یمن پر حملہ کرنا نہیں۔ عرب میڈیا کے مطابق مصر کے صدارتی دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر الفتاح السیسی نے یہ بات ’مصر فورم 2026‘ کے عنوان سے منعقدہ سرکاری تقریب میں کہی۔ انھوں نے کہا کہ کہ مصر کا مقصد سعودی عرب کی سرزمین اور سرحدوں کا دفاع ہے اور درخواست کیے جانے پر مصر کسی بھی دوسرے عرب ملک کے دفاع کے لیے بھی مدد فراہم کرسکتا ہے۔ مصری صدر کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ مصر سمیت کسی بھی ملک کی یمن جنگ میں فوجی مداخلت اس جنگ کو دور تک پھیلا دے گی۔  یاد رہے کہ مصری صدر الفتاح السیسی نے ہفتے کو پارلیمان سے سعودی عرب کو حوثیوں کے خلاف جنگ میں مدد فراہم کرنے کی اجازت دینے کی درخواست کی تھی تاہم یہ مدد سعودی عرب کی جانب سے درخواست کیے جانے سے مشروط ہے۔ مصری پارلیمان نے اس معاملے پر دو غیر معمولی خفیہ اجلاس منعقد کیے تاہم مزید غور و خوض کے لیے اجلاس آئندہ ہفتے تک ملتوی کردیا گیا۔ پارلیمان میں صدر کے حامی ارکان کی اکثریت ہونے کے باعث منظوری کا  قوی امکان ہے۔  خیال رہے کہ حال میں کیے گئے سعودی عرب کے دورے میں مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی اور انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ حسن رشاد نے سعودی ولی عہد اور حکمرانِ وقت محمد بن سلمان کو السیسی کا خط پہنچایا۔ خط کے مندرجات ظاہر نہیں کیے گئے۔ تاہم یہ سفارتی رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب مصر سعودی عرب کی حمایت کے ممکنہ فوجی کردار پر غور کر رہا ہے۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل