Loading
پنجاب کے شہر شیخوپورہ کے دو مختلف علاقوں میں کمسن گھریلو ملازماؤں پر تشدد کے واقعات سامنے آئے جن میں سے ایک جاں بحق ہوگئی جبکہ دوسری کمسن بچی کا بازو ٹوٹ گیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پنجاب کے علاقے شیخو پورہ میں گھر سے 9 سالہ گھریلو ملازمہ کی لاش آمد ہوئی جس پر پولیس نے ایک شخص کو گرفتار کرلیا۔
متوفی بچی کی شناخت زینب کے نام سے ہوئی جو گھر میں کام کرتی تھی اور معمولی غلطی پر اُسے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس میں وہ جاں بحق ہوگئی۔
اُدھر شیخوپورہ کے تھانہ صدر کے علاقے نبی پورہ میں کم عمر گھریلو ملازمہ ایمان فاطمہ پر مبینہ تشدد کا واقعہ سامنے آیا ہے جس کے باعث بچی کا بازو ٹوٹ گیا۔
پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق ایمان فاطمہ وارث نامی شہری کے گھر میں گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرتی تھی، جہاں اس پر تشدد کیا گیا۔
ڈی پی او شیخوپورہ بلال ظفر شیخ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کی گرفتاری اور قانونی کارروائی کی ہدایت کی، جس پر ایس ایچ او صدر شیخوپورہ محمد سجاد نے کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
ڈی پی او بلال ظفر شیخ کے مطابق بچوں اور خواتین پر تشدد کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا اور کم عمر بچوں پر تشدد میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔
ایمان فاطمہ تشدد کیس کی تفتیش ایس پی انویسٹی گیشن شیخوپورہ رانا غلام عباس کی سربراہی میں جاری ہے، جس میں تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ڈی پی او شیخوپورہ بلال ظفر شیخ نے متعلقہ افسران کو میرٹ پر تفتیش مکمل کرنے اور تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کی ہدایت کی ہے۔آر پی او شیخوپورہ ریجن اطہر اسماعیل کے مطابق وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن کے مطابق خواتین پر تشدد کرنے والے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل