Loading
کراچی: شہر قائد کے علاقے سائٹ ایریا میں قائم ولیکا اسپتال کے بچوں میں ایچ آئی وی پھیلنے کے معاملے پر وفاقی سطح کی جے آئی ٹی بنانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق شعبہ سندھ سوشل سیکیورٹی کے ماتحت ولیکا اسپتال میں مبینہ طبی غفلت کے باعث ایچ آئی وی سے 169 بچے متاثر جبکہ 9 جاں بحق بچوں ہوئے۔
ایچ آئی وی سے متاثر ہونے والے خاندانوں کے وکیل ایڈووکیٹ طارق منصور نے وفاقی حکومت سے معاملے کی جامع، شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے تجویز دی ہے کہ جے آئی ٹی میں انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی)، ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی)، انٹیلی جنس بیورو (آئی بی)، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) سمیت دیگر متعلقہ وفاقی اداروں کے نمائندوں کو شامل کیا جائے تاکہ بچوں میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کے اسباب، مبینہ طبی غفلت، انتظامی کوتاہیوں اور ممکنہ مالی بے ضابطگیوں کی مکمل چھان بین کی جاسکے۔
ایکسپریس نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ایڈووکیٹ طارق منصور نے کہا کہ ولیکا اسپتال میں مبینہ طور پر استعمال شدہ سرنجوں اور خون کی منتقلی کے لیے استعمال ہونے والے بلڈ بیگز سمیت مختلف طبی امور میں غفلت کے باعث بچوں میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کا معاملہ انتہائی سنگین صورت اختیار کرگیا ہے۔
ان کے مطابق متاثرہ بچوں کی تعداد 169 سے بڑھ کر تقریباً 200 تک پہنچنے کا خدشہ ہے جبکہ اب تک 9 بچے جاں بحق ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاملے کی سنگینی کے پیش نظر وفاقی سطح پر آزادانہ جے آئی ٹی تحقیقات ضروری ہے تاکہ حقائق سامنے آنے کے ساتھ ذمہ داروں کا بھی تعین کیا جاسکے۔
ایڈووکیٹ طارق منصور نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت پاکستان کمیشن آف انکوائری ایکٹ کی دفعہ 3 کے تحت اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے اور متاثرہ بچوں میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کے محرکات، طبی طریقہ کار، اسپتالوں کی انتظامی کارکردگی اور مبینہ مالی بے ضابطگیوں کا فارنزک بنیادوں پر جائزہ لیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات کا دائرہ صرف ولیکا اسپتال تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ سندھ سوشل سیکیورٹی کے دیگر اسپتالوں، لانڈھی سوشل سیکیورٹی اسپتال، چانڈکا اسپتال لاڑکانہ، گمبٹ انسٹی ٹیوٹ اور دیگر متعلقہ طبی اداروں کے گزشتہ 20 سال کے ریکارڈ کو بھی تحویل میں لے کر اس کی فارنزک جانچ پڑتال کی جائے، تاکہ ممکنہ انتظامی کوتاہیوں، طبی غفلت اور مالی بے ضابطگیوں کا پتا چلایا جاسکے۔
انہوں نے بتایا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے 5 اگست 2026 کو بھی سوشل سیکیورٹی کمیشن کو نوٹس جاری کیا گیا تھا جبکہ 2 ستمبر 2026 کو چیف سیکریٹری سندھ کی سربراہی میں کمشنر کراچی، چیئرمین اینٹی کرپشن اور متعلقہ انسپکشن حکام پر مشتمل کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تھی، تاہم اب تک اس کمیٹی کی رپورٹ بھی جمع نہیں کرائی گئی۔
انہوں نے اس صورت حال پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ بچوں کو انصاف دلانے اور واقعے کے اصل حقائق سامنے لانے کے لیے تحقیقات میں پیش رفت اور شفافیت ضروری ہے۔ ایڈوکیٹ نے پولیس کے کردار پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اب تک واقعے کے حوالے سے مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ پولیس اور متعلقہ محکموں کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا جائے اور یہ معلوم کیا جائے کہ واقعے کے بعد قانونی کارروائی اور تحقیقات میں تاخیر کیوں ہوئی۔
متاثرہ بچوں کے لیے مختص مالی وسائل کے حوالے سے ایڈووکیٹ طارق منصور نے 2 ارب روپے سے زائد کے انڈومنٹ فنڈ سمیت تمام فنڈز کی وصولی، تقسیم اور استعمال کا مکمل آڈٹ کرانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مالی وسائل مختص کرنا کافی نہیں، بلکہ یہ بھی یقینی بنایا جائے کہ رقم مستحق بچوں اور ان کے خاندانوں تک پہنچ رہی ہے اور اسے شفاف طریقے سے استعمال کیا جارہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ بچوں کو تاحیات علاج، ضروری ادویات، طبی سپلیمنٹس اور دیگر سہولیات کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے، اس لیے ان کے علاج معالجے اور خاندانوں کی معاونت کے لیے مؤثر نظام قائم کرنے کے ساتھ مختص فنڈز کی باقاعدہ نگرانی اور آڈٹ کا طریقہ کار بھی وضع کیا جائے۔
ایڈووکیٹ طارق منصور نے گفتگو کے دوران بتایا کہ متاثرہ بچوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے پر انہیں سخت دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور مختلف ذرائع سے انہیں فون کالز کروائی جارہی ہیں، جس کے باعث انہیں اپنی اور اپنے اہل خانہ کی جان و مال کے حوالے سے بھی خدشات لاحق ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بچوں کے حقوق کے لیے بلا معاوضہ آواز اٹھانے کے باوجود انہیں بے بنیاد الزامات کے تحت توہینِ عدالت کی کارروائی کا بھی سامنا ہے۔ تاہم، مبینہ دباؤ کے باوجود وہ متاثرہ بچوں کے حقوق کے تحفظ اور انہیں انصاف دلانے کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ متاثرہ بچوں کی مدد، ان کے مسائل کو اجاگر کرنے اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او)، اقوام متحدہ کے ادارۂ اطفال (یونیسف)، عالمی ادارۂ محنت (آئی ایل او)، یورپی یونین اور یورپی کمیشن سمیت بین الاقوامی اداروں سے تعاون حاصل کرنے کے لیے خطوط بھی ارسال کیے ہیں۔
انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سمیت متعلقہ ریاستی اداروں سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ بچوں کو علاج معالجے کی مکمل سہولیات فراہم کرنے، ان کے انسانی حقوق کے تحفظ، مختص مالی وسائل کے شفاف استعمال اور واقعے کی آزادانہ، منصفانہ اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر کردار ادا کیا جائے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل