Loading
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار ہونے والی غیر ملکی لڑکی کا ملزمان کے بارے میں بیان سامنے آنے کے بعد معاملہ نیا رخ اختیار کر گیا جب کہ ملزم احمد تنویر کا تعلق کروڑ پتی بااثر خاندان سے ہے۔
پولیس ذرائع نے کہا کہ ملزم کا باپ پاکستان کا ایک بڑا کنٹریکٹر ہے، زیادتی کی شکار لڑکی ڈیانا نے بھاری رقم کے عوض ملزمان کے بے گناہ ہونے کا بیان دیا، ملزم احمد تنویر کے رشتہ داروں کے لڑکی سے فون پر رابطے رہے، ڈیانا سے بیان دلوانے کے لئے فون پر ملزمان کے ایک وکیل اور رشتہ داروں نے آمادہ کیا۔
پولیس ذرائع نے کہا کہ ڈیانا کی آمادگی کے بعد ملزم احمد کا والد لندن سے آزر بائیجان گیا، ڈیانا نے پاکسانی دو کروڑ لے کر ملزمان کے بارے بیان دیا، ڈیانا رقم لینے کے بعد اس وقت دبئی میں موجود ہے۔
غیر ملکی خاتون نے دفعہ 164 کے بیان میں احمد تنویر سمیت تین ملزمان پر ریپ کا الزام لگایا تھا، غیر ملکی خاتون اپنے بیان سے منحرف ہوگئی اور وڈیو بیان جاری کردیا۔
مرکزی ملزم کو بچانے کے لیے بھاری رقم کی آفر یا کوئی دباؤ، معاملہ نیا رخ اختیار کر گیا۔
پولیس نے متاثرہ لڑکی کے ویڈیو بیان کو قانونی طور پر لاحیثیت قرار دیدیا، دفعہ 376 ذیادتی اور 295 سی میں مدعی بیان بدلے تو ریاست مدعی بن سکتی ہے۔
پولیس نے متاثرہ لڑکی کے 164 کے بیان کو حتمی قرار دے دیا، پولیس نے کہا کہ 164 کے بیان میں لڑکی احمد تنویر کو ملزم قرار دے چکی، مرکزی ملزم کے گرفتار دو ساتھی تیسرے ملزم احمد تنویر کے ملوث ہونے کا اعتراف کر چکے، متاثرہ لڑکی کے بیان کے برعکس تیسرے ملزم کو ہر صورت شامل تفتیش کیا جائے گا۔
پولیس تفتیش نے کہا کہ جائے وقوعہ، حالات و واقعات، بیانات اور شواہد تیسرے ملزم کے ملوث ہونے کی تائید کرتے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل