Monday, October 26, 2026
 

ٹرمپ کا ایران سے معاہدے یا فیصلہ کن کارروائی کا عندیہ، فوری حملہ نہ کرنے کا اعلان

 



واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف آئندہ حکمت عملی سے متعلق دو امکانات کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تہران کے ساتھ معاہدہ کرنے یا اسے ’’مکمل طور پر ختم کرنے‘‘ کے لیے کارروائی کرنے میں سے کسی ایک کا فیصلہ کر رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا ہے کہ امریکا آج ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔ ٹرمپ نے امریکی ٹی وی چینل فاکس نیوز کے پروگرام ’سنڈے مارننگ فیوچرز‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ان کے سامنے سوال یہ ہے کہ آیا ایران کے ساتھ معاہدہ کیا جائے یا اس کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی جائے۔ ٹرمپ نے جمعے کو بھی اشارہ دیا تھا کہ امریکا ایران کے خلاف ایک اور محدود فوجی آپریشن، جسے انہوں نے ’’ایپک فیوری‘‘ سے تعبیر کیا، کر سکتا ہے۔ ان کے تازہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن ایران کے حوالے سے سفارتی اور فوجی دونوں امکانات پر غور کر رہا ہے، تاہم کسی نئے حملے کے لیے حتمی فیصلے کی تصدیق نہیں کی گئی۔ امریکی صدر نے فوری فوجی کارروائی کے امکان سے متعلق سوال پر کہا کہ آج ایران پر حملہ نہیں کیا جائے گا۔ وائٹ ہاؤس سے مشی گن روانگی کے موقع پر ان سے پوچھا گیا تھا کہ کیا امریکی حملے آج ہی دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں؟ ٹرمپ نے جواب دیا کہ کیا وہ اس بارے میں پہلے سے بتائیں گے؟ تاہم انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ آج کوئی حملہ نہیں ہوگا۔   ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکا اب آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرتا ہے۔ یہ اہم آبی گزرگاہ عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہے، اس لیے اس پر کنٹرول سے متعلق بیانات خطے کی صورت حال اور عالمی توانائی منڈیوں کے تناظر میں اہمیت رکھتے ہیں۔ Trump on Iran: There will be no attack today pic.twitter.com/LbOnwCW7hL — Open Source Intel (@Osint613) October 25, 2026 امریکی صدر نے سابق صدر باراک اوباما کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور 2015 میں ایران کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے پر اعتراض کیا۔ ٹرمپ نے اپنی پہلی صدارتی مدت کے دوران امریکا کو اس معاہدے سے الگ کر لیا تھا۔ فی الحال ٹرمپ کے بیان میں ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کی شرائط یا کسی نئی فوجی کارروائی کے وقت سے متعلق تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آج حملہ نہیں ہوگا، تاہم ایران کے حوالے سے آئندہ امریکی حکمت عملی کے بارے میں حتمی فیصلہ واضح نہیں ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل