Monday, October 26, 2026
 

سعودی عرب کو بدنام کرنے کیلیے حوثیوں کے نئے حربے؛ ایپسٹین فائل پروپیگنڈا عام کرنے لگے

 



یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے خلاف میزائلوں اور ڈرونز حملوں کے ساتھ اب پروپیگنڈا جنگ بھی تیز کردی ہے جس کے لیے تمام اخلاقی حدیں پار کرلیں۔ امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق سعودی شاہی خاندان سے وابستہ افراد کی جانب سے خانہ کعبہ پر چڑھائے جانے والے غلاف کے کپڑے جیفری ایپسٹین کے نجی جزیرے پر بھیجے جانے سے متعلق اطلاعات کو حوثی اب اچھال رہے ہیں۔ حوثی رہنما عبدالملک الحوثی اپنی تقاریر میں بھی ایپسٹین فائلوں کا حوالہ دیتے رہے ہیں۔ اس منفی درگرمی کا مقصد سعودی حکمرانوں کو بدعنوان ثابت کرنا اور اسلام کے مقدس مقامات کی حفاظت کے دعوے پر سوالات اٹھانا ہے۔ یہ مہم ایسے وقت میں چلائی جا رہی ہے جب سعودی عرب نے رواں ہفتے حوثیوں پر مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے علاقوں کی جانب ڈرون بھیجنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اسے مسلمانوں کو اشتعال دلانے کی کوشش قرار دیا تھا۔ جس پر حوثی رہنما مہدی المشاط نے جوابی الزام لگایا کہ خانہ کعبہ کے غلاف کا کپڑا ایپسٹین کو دینے والے ہی مکہ مکرمہ کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ یمن کے امور کے ماہرین کے مطابق حوثیوں کا ذرائع ابلاغ کا نظام وقت کے ساتھ منظم ہوچکا ہے جس میں ٹیلی وژن، ویب سائٹس، ریڈیو، اخبارات اور سماجی ذرائع ابلاغ کے سرکاری و غیر سرکاری اکاؤنٹس شامل ہیں۔ ان کے حامی فنکار اور دیگر اثرورسوخ رکھنے والے افراد بھی اس مہم کو آگے بڑھاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایران سے وابستہ مزاحمتی گروہ ان دستاویزات کو امریکا اور اسرائیل کی مبینہ بدعنوانی کے بیانیے کے لیے استعمال کرتے ہیں اور سعودی قیادت کو بھی اسی تناظر میں پیش کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ ایپسٹین فائلز میں سعودی عرب میں بعض افراد پر عائد الزام کے تاحال کوئی ثبوت و شواہد سامنے نہیں آسکے ہیں اور اسے محض پروپیگنڈا تصور کیا جا رہا ہے تاہم حوثیوں نے اسے اپنی نفرت آمیز مہم کا حصہ بنالیا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل