Wednesday, October 28, 2026
 

تشد کا راستہ فرعون نے اختیار کیا، ملک کسی فوجی، کسی جرنیل کا نہیں، ہم سب کا ہے، مولانا فضل الرحمان

 



جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ  ہم آپ کے ہاتھوں مرنے کو تیار ہیں تاریخ کے ہاتھوں مرنے کو تیار نہیں، یہ ملک کسی فوجی کسی جرنیل کا نہیں ہم سب کا ہے۔ قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ پارلیمنٹ عوام کا نمائندہ ادارہ ہے، برداشت کی قوت ختم ہو گئی ہے، معاملات بگڑتے چلے جارہے ہیں، جب لانگ مارچ اسلام آباد کی طرف آرہا تھا تو پی ٹی آئی کے دوستوں نے مجھے کہا کہ اس میں آپ کا کوئی کردار ہونا چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگلے دن آپ تشریف لائے، رانا ثناء اللہ تھے ، اس موضوع پر تفصیلی بات ہوئی، رات کو وزیراعظم کے دفتر سے فون آیا کہ کھانے پر بلانا چاہتا ہوں، میں نے ان کی دعوت قبول کی، تفصیلی گفتگو ہوئی، اس کے بعد وزیراعظم نے کہا کہ وہ لانگ مارچ کو کال آف کریں۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ساڑھے دس بجے اسحق ڈار کا فون آیا کہ کابینہ نہیں مان رہی، ہم نے تو کوشش کی معاملے کو ٹھیک طریقے سے حل کیا جائے، وہاں پر گورنر راج بھی لگایا گیا اور ایمرجنسی بھی، حکومت کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ ہم نے تو آئینی پروسیجر مکمل کیا ہے۔ سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ حکومت نے آئین کو غلط استعمال کیا ہے،  طاقت کے ذریعے انتقال اقتدار کا عمل لایا گیا، آپ نے آرٹیکل 2 اے کو نظر انداز کیا ، غیر سیاسی اقدام کیا، کیا بلوچستان میں حالات اس سے خراب نہیں ہیں، وہاں پر کمشنر بھی اغوا ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سنا ہے کہ خان آف قلات کے بیٹے کو بھی اغوا کر لیا گیا، کیا وفاق ملک میں امن و امان برقرار رکھنے میں کامیاب ہے، میری جماعت شہداء کی جماعت ہے، آپ مجھے طعنہ دیتے ہیں، ہماری قربانیوں کا مذاق اڑایا گیا، آپ کو میرے شہداء نظر نہیں آتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور آپ ہمیں کہاں سمجھتے ہیں، آپ تشدد کی طرف جائیں گے تو تشد کا راستہ فرعون نے اختیار کیا تھا، اسپیکر نے مولانا فضل الرحمان کا ایک جملہ اجلاس کی کاروائی سے حذف کردیا، ہم کافی عرصے سے لڑے نہیں ہیں ہمارے ہاتھ خارش کر رہے ہیں لڑنے کے لئے، آئیں ایک میز پر بیٹھیں اور نیا میثاق جمہوریت کریں، اس میں حکومت بھی ہو اپوزیشن بھی ہو۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پی ڈی ایم کا سر ادھر، دھڑ ادھر ہے، حکومتی بنچوں سے کہنا چاہتا ہوں وہ وقت یاد کریں جب پا پر مشکل وقت تھا مولانا فضل الرحمان فرنٹ فٹ پر کھیل رہا تھا، ہم. درخواست کرتا ہوں کہ نیندیں حرام کرکے آپ سے جو بات کر رہا تھا اس خون خرابے سے بچنا چاہتا تھا، ملک میں کوئی جمہوریت کوئی آئین و قانون نہیں۔ سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ دعوت دیتا ہوں آئیں ایک میز پر بیٹھیں اور ایک نیا میثاق جمہوریت قائم کریں، آئیں اپوزیشن بھی ہو حکومت بھی ہو، اس ملک کو کسی غیر آئینی اقدام اور تشدد سے بچانے کو تیار ہیں، ہم مرنے کو تیار ہیں، ہم آپ کے ہاتھوں مرنے کو تیار ہیں تاریخ کے ہاتھوں مرنے کو تیار نہیں، یہ ملک کسی فوجی کسی جرنیل کا نہیں ہم سب کا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دفاعی معاہدہ کہیں ہورہاہے اور وزیر دفاع خواجہ آصف یہاں بیٹھے ہیں، اپنے عزت اور وقار کا خیال رکھنا ضروری ہے، کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے۔اس بات کو مدنظر رکھیں، خواجہ آصف کو دیکھ کر مولانا نےمسکراتے ہوئے  جملہ کس دیا جب کہ  مولانا کی بات پر ایوان میں قہقہے بلند ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی بینچوں سے نہیں لڑے مگر ہمارے ہاتھ بھی لڑنے کے لئے خارش کر رہے ہیں، معاملات بھائی چارے اور مذاکرات سے چلیں گے، اس وقت ملک میں کوئی قانون اور حکومت نہیں ہے، آئیں ملک کے مستقبل کے لئے نیا میثاق جمہوریت کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ ہر قیمت پر ہمیں رسوا کرنا چاہتے ہیں تو ہم تاریخ کی ہاتھ نہیں حکومت کے ہاتھوں مرنا پسند کریں گے، پی ڈی ایم کا سر اس طرف اور دھڑ اِس طرف ہے،  تہران میں مذاکرات ہورہے ہیں وزیر اعظم اور وزیر دفاع یہاں پر ہیں کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے، اس وقت ملک میں کوئی حکومت نہیں ہے کوئی آئین نہیں ہے۔  سربراہ جے یو آئی (ف) نے کہا کہ آئین مل کر بیٹھیں حکومت اور اپوزیشن نیا  میثاق جمہوریت معاہدہ کریں، ہم آپ کے ہاتھوں مرنے کے لیے تیار ہیں مگر تاریخ میں مرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، یہ ملک صرف فوج کا نہیں ہم سب کا ہے۔ اسپیکر ایاز صادق  نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کی تقریر سنوں گا، تقریر میں جو غیر پارلیمانی الفاظ ہوں گے انہیں حذف کر دوں گا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل