Loading
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کے باعث امریکا کی توجہ یوکرین تنازع ختم کرانے سے ہٹ گئی اور اب امریکی انتظامیہ کی ترجیح ایران کا معاملہ بن چکا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ بات روسی صدر پیوٹن نے سینٹ پیٹرزبرگ میں غیر ملکی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
صدر پیوٹن کا مزید کہا تھا کہ امریکی انتظامیہ کو اپنی توجہ کا رخ تبدیل کرنا پڑ رہا ہے اور اس وقت وہ دیگر معاملات کے مقابلے میں ایران کے مسئلے کو ترجیح دینے پر مجبور ہے۔
قبل ازیں یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی بھی امریکی توجہ میں کمی پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔ اس وقت ایران امریکا کی اولین ترجیح ہے، جبکہ یوکرین دوسرے نمبر پر ہے۔
خیال رہے کہ روس نے 2022 میں یوکرین کے نیٹو میں شمولیت کی سرگرمیوں کے خلاف حملہ کردیا تھا اور چار شہروں پر قبضہ کرلیا تھا۔
دونوں کے درمیان تاحال جاری جنگ میں دونوں جانب بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان ہو رہا ہے لیکن جنگ ختم ہوتی نظر نہیں آرہی ہے۔
گزشتہ برس جنوری میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار سنبھالتے ہی یوکرین اور روس کے درمیان جنگ جلد ختم کرانے کا وعدہ کیا تھا۔
انھوں نے روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات کے لیے متعدد بار کوششیں بھی کیں تاہم دونوں ممالک کے درمیان علاقائی کنٹرول، سلامتی کی ضمانتوں اور پابندیوں کے معاملے پر اختلافات برقرار رہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل