Loading
نشتر روڈ گارڈن ایسٹ میں بدھ کی صبح فائرنگ سے ایک شخص کی ہلاک اور 2 افراد کے زخمی ہونے کا مقدمہ سولجر بازار تھانے میں درج کر لیا گیا۔
مقدمہ تعمیراتی کاموں سے وابستہ بلڈر عمران عبدالستار کی مدعیت میں گینگ وار کے سرغنہ جمیل چھانگہ اور اس کے گروپ کے خلاف قتل ، اقدام قتل ، بھتہ خوری سمیت دیگر دفعات کے تحت درج کیا گیا ، تاہم واقعے میں پولیس تاحال کسی ملزم کو گرفتار نہیں کر سکی ۔
سولجر بازار تھانے کی حدود میں آئے دن بھتہ خوری سمیت جرائم کے دیگر واقعات رپورٹ کرائے جاتے ہیں تاہم اعلیٰ افسران نے پراسرار خاموشی اختیار کی ہوگئی ہے ۔
تفصیلات کے مطابق سولجر بازار تھانے کی حدود نشتر روڈ علی بھائی آڈیٹوریم کے قریب واقعے پلاٹ نمبر 149 پر زیرتعمیر عمارت جمانی اسکوائر پر بدھ کی صبح تقریبا 9 بج کر 25 منٹ پر فائرنگ سے ایک شخص کے جاں بحق اور 2 افراد کے زخمی ہونے کا مقدمہ الزام نمبر 339/2026 شعبہ تعمیرات کے بلڈر عمران عبدالستار کی مدعیت میں جرائم دفعہ 302 ، 324 ، 384 ، 385 ، 34 کے تحت درج کر لیا ۔
مدعی عمران عبدالستار نے مقدمہ درج کراتے ہوئے اپنے بیان میں بتایا کہ میرا بھائی فرحان بلڈنگ کی تعمیرات و خریدو فروخت کا کام کرتا ہے ، ہمارے کئی پروجیکٹ کراچی میں زیر تعمیر ہیں ، کچھ عرصہ قبل ہمیں اپنے دیگر پروجیکٹ پر بھتہ کی کالز وغیرہ آئیں تھیں جن میں سے لیاری گینگ وار کے سرغنہ جمیل عرف چھانگا گروپ نے بھتہ طلب کیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 10 سے 12 روز قبل میرے آفس کے باہر بھی فائرنگ کی گئی تھی ۔ مدعی نے اپنے بیان میں اپنے مذکورہ زیر تعمیر پروجیکٹ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اس میں کئی مزدور اور چوکیدار کام کرتے ہیں اور وہیں رہائش پذیر بھی ہیں ۔ 28 اکتوبر 2026 کو مجھے اطلاع ملی کہ میرے زیر تعمیر پروجیکٹ پر فائرنگ ہوئی ہے جو کہ ایک لڑکا جوان العمر صحت مند جسم پینٹ شرٹ میں ملبوس 125 لال موٹرسائیکل پر آیا اور پستول سے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں میرے مزدور 25 سالہ محمد شاہد ولد بلاول کے دائیں ہاتھ پر گولی لگی ، شاکر علی ولد اللہ بخش کے بائیں ٹانگ پر گولی لگی جبکہ گارڈ 30 سالہ محمد اسلم ولد محمد صدیق کے سینے پر دائیں طرف اوپر کی جانب گولی لگی ۔ زخمیوں کو سول اسپتال لایا گیا جہاں محمد اسلم دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا ۔
مدعی مقدمہ نے پولیس کو اپنے بیان میں بتایا کہ مجھے شبہ ہے کہ یہ فائرنگ جمیل عرف چھانگا اور اس کے گروپ نے بھتہ کے لیے کی ہے، لہذا میں اب یہ بیان دیتا ہوں میرا دعویٰ جمیل چھانگا اور اس کے گروپ کے نامعلوم اشخاص فائرنگ کرنے والا شخص جو کو میرے زخمی مزدور محمد شاہد اور شاکر علی سامنے آنے پر شناخت کر سکتے ہیں ۔
مقدمے کی تفتیش اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ ( سی آئی اے ) صدر کے حوالے کر دی گئی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل