Thursday, October 29, 2026
 

اسلامک میوچل فنڈز کے زیر انتظام اثاثے 1.7 سے بڑھ کر 2.2 ٹریلین روپے ہوگئے

 



سیکورٹیز اینڈ ایکس چینج کمیشن آف پاکستان کے کمشنر امتیاز حیدر نے کہا ہے کہ اسلامک میوچل فنڈز کے زیرِ انتظام اثاثے 1.7 ٹریلین سے بڑھ کر 2.2 ٹریلین روپے ہوگئے ہیں۔اسٹاک میوچل فنڈز میں شریعہ کمپلائنٹ فنڈز کی تعداد روایتی فنڈز سے زیادہ ہے۔ پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں شریعہ کمپلائنٹ ٹریڈنگ کاؤنٹر کے قیام کے موقع پر گونگ بیل تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ایس ایکس میں شریعہ کمپلائنٹ ٹریڈنگ کاؤنٹر کا آغاز ایک اہم سنگ میل ہے، شریعہ کمپلائنٹ سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے سے سرمایہ کاروں کا اعتماد مضبوط ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پی ایس ایکس میں 537 لسٹڈ کمپنیوں میں سے 309 شریعہ کمپلائنٹ ہیں اور پاکستان کی لسٹڈ ایکویٹی مارکیٹ کی 65فیصد مالیت شریعہ کمپلائنٹ سیکیورٹیز پر مشتمل ہے۔ پاکستان میں اسلامی مالیاتی مصنوعات اور سرمایہ کاری کے مواقع میں اضافے کی گنجائش موجود ہے، حکومتی سکوک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے مزید مواقع موجود ہیں، شریعہ کمپلائنٹ ٹریڈنگ کاؤنٹر سے بروکریج انڈسٹری اور کیپٹل مارکیٹ کو نئے مواقع ملیں گے، پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہوں تو غیرملکی سرمایہ کار بھی متوجہ ہوں گے۔ امتیاز حیدر نے کہا کہ ایس ای سی پی نے 5 نان بینکنگ فنانس کمپنیوں کو شریعہ کمپلائنٹ سرٹیفکیشن دی ہے، پاکستان کی کپٹل مارکیٹ میں لیکویڈٹی کی کمی اہم چیلنج ہے۔ شریعہ کمپلائنٹ سرمایہ کاری میں رسک کور کرنے کے لیے مؤثر انتظامات ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کے ایم آئی انڈیکس کی شریعہ اسکریننگ کا طریقہ کار مزید مضبوط بنانے اور لسٹڈ کمپنیوں سے ڈیٹا جمع کرنے کا نظام خودکار بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شریعہ انڈیکس کی اپ ڈیٹ 6 ماہ کے بجائے ہر 3 ماہ بعد ہونی چاہیے۔ مختصر مدت کے کارپوریٹ سکوک کی لسٹنگ کو فروغ دینے کی ضرورت ہے لہٰذا سکوک کے اجرا میں لاگت کم اور منظوری کا عمل تیز کیا جائے۔ اسلامک بروکریج انڈسٹری کی ترقی کے لیے ریگولیٹری فریم ورک پر نظرثانی کی ضرورت ہے، نئے بروکرز کی مارکیٹ میں شمولیت اور سرمایہ کاروں کی آن بورڈنگ آسان بنائی جائے۔ قبل ازیں پاکستان اسٹاک ایکس چینج کے سی ای او فرخ ایچ سبزواری نے کہا کہ پی ایس ایکس میں ٹریڈنگ کاؤنٹر کے قیام پر 2016 سے کام جاری تھا۔ اسٹاک ایکسچینج میں لسٹڈ کمپنیوں میں سے 70 فیصد شریعہ کمپلائنٹ ہیں، یومیہ ٹریڈنگ ٹرن اوور کا 80 فیصد شریعہ کمپلائنٹ کمپنیوں سے منسلک ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شریعہ کمپلائنٹ ٹریڈنگ کاؤنٹر کے قیام میں ایس ای سی پی، بروکرز اور شریعہ ماہرین کا تعاون شامل ہے۔ کے ایم آئی 30 انڈیکس کا سفر 2008 میں شروع ہوا، شریعہ انڈیکس میں قرض اور اثاثوں کی حد 37 فیصد سے کم کرکے 33 فیصد کردی گئی۔اسلامی سکوک کی روزانہ اوسط ٹریڈنگ 100 سے 110 ارب روپے تک پہنچ گئی، گرین، ہائبرڈ اور قلیل مدتی سکوک میں جدت متعارف کرائی گئی۔پی ایس ایکس کے 9 ای ٹی ایف میں سے 2 شریعہ کمپلائنٹ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے 7 ریئٹ میں سے 5 شریعہ کمپلائنٹ ہیں، پی ایس ایکس میں ای ایس جی انڈیکس نومبر میں متعارف کرانے کا منصوبہ ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل