Friday, October 30, 2026
 

غیر ضروری آن لائن خریداری کا بڑھتا رجحان، صارفین خریداری کے عادی کیسے بنتے ہیں؟

 



سوشل میڈیا پر چند منٹ کی اسکرولنگ بھی غیر ضروری خریداری کی طویل فہرست میں بدل سکتی ہے۔ کبھی جلد کے لیے کسی کریم کا اشتہار، کبھی باورچی خانے کو منظم کرنے کے لیے نئے ڈبے اور کبھی ایسے کپڑے سامنے آتے ہیں جن کی شاید ہمیں ضرورت بھی نہیں ہوتی۔ یوں انسان ان چیزوں کی قیمتیں تلاش کرنے لگتا ہے جنہیں خریدنے کا خیال کچھ دیر پہلے تک ذہن میں بھی نہیں تھا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اکثر افراد جانتے ہیں کہ ان کے پاس پہلے ہی ضرورت کی بیشتر چیزیں موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود آن لائن شاپنگ کارٹ میں نئی اشیا جمع ہوتی رہتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق خریداری اب صرف ضرورت پوری کرنے کا ذریعہ نہیں رہی بلکہ تفریح اور وقت گزارنے کی سرگرمی بھی بن چکی ہے۔ سوشل میڈیا پر مصنوعات کی تشہیر، انفلوئنسرز کی سفارشات اور چند کلکس میں آرڈر دینے کی سہولت نے ضرورت اور خواہش کے درمیان فرق دھندلا دیا ہے۔ مسئلہ خریداری کرنا نہیں، بلکہ اسے سوچ سمجھ کر کیے گئے فیصلے کے بجائے فوری ردعمل بنا لینا ہے۔ بعض افراد بوریت، تنہائی یا ذہنی دباؤ سے وقتی چھٹکارا پانے کے لیے بھی خریداری کا سہارا لیتے ہیں۔ موبائل فون ایک مؤثر سیلز مین بن چکا ہے ماضی میں نئی اشیا دیکھنے کے لیے بازار جانا پڑتا تھا، لیکن اب خریداری کا پورا بازار موبائل فون میں موجود ہے۔ صبح آنکھ کھلنے سے رات سونے تک سوشل میڈیا پر ایسی مصنوعات سامنے آتی رہتی ہیں جو خریدنے کی خواہش پیدا کرتی ہیں۔ انفلوئنسرز اپنی پسندیدہ مصنوعات کی تشہیر کرتے ہیں، جبکہ برانڈز عام استعمال کی چیزوں کو بھی زندگی کے مسائل کا حل بنا کر پیش کرتے ہیں۔ ورزش کے لیے وقت نہ نکالنے والے شخص کو خوبصورت جم لباس خریدنے کی ترغیب دی جاتی ہے، جیسے نیا لباس خریدتے ہی ورزش کی عادت بھی بن جائے گی۔ دوسروں کی خوبصورت زندگیوں کی تصاویر بھی اس رجحان کو بڑھاتی ہیں۔ کسی کا صاف ستھرا گھر، جدید لباس یا جلد کی دیکھ بھال کا معمول دیکھ کر انسان بھی ویسی ہی تبدیلیوں کی خواہش کرنے لگتا ہے اور اپنی موجودہ زندگی میں کمی محسوس کرنے لگتا ہے۔ جتنا زیادہ اسکرول کریں گے، خواہشات کی فہرست اتنی ہی طویل ہوگی کسی ایک چیز کی تلاش میں خریداری کی ایپ کھولنے والا صارف کچھ ہی دیر میں نئی بیڈ شیٹس، ہینڈ بیگ آرگنائزر یا باورچی خانے کے مختلف آلات دیکھنے لگتا ہے۔ ہر نئی ویڈیو ایک نئی چیز سے متعارف کراتی ہے اور یوں خواہشات کی فہرست بڑھتی چلی جاتی ہے۔ سوشل میڈیا کے الگورتھمز صارف کی سرگرمیوں کا جائزہ لیتے ہیں کہ وہ کون سی ویڈیو زیادہ دیر دیکھتا ہے، کس چیز پر کلک کرتا ہے اور کن موضوعات میں دلچسپی لیتا ہے۔ پھر اسی مناسبت سے مزید مصنوعات اس کی اسکرین پر دکھائی جاتی ہیں۔ گھر کو منظم کرنے والی ویڈیوز دیکھنے والے کو اسٹوریج باکسز، جبکہ فیشن میں دلچسپی رکھنے والے کو نئے ملبوسات کی تجاویز ملنے لگتی ہیں۔ بار بار کسی چیز کو دیکھنے سے غیر ضروری مصنوعات بھی اہم محسوس ہونے لگتی ہیں۔ کسی جوتے یا سیرم کی مسلسل تشہیر انسان کو یہ سوچنے پر مجبور کرسکتی ہے کہ اس کے بغیر اس کی الماری یا جلد کی دیکھ بھال کا معمول نامکمل ہے۔ اس کے علاوہ محدود وقت کی رعایتیں، الٹی گنتی اور اسٹاک ختم ہونے کے دعوے فوری خریداری کا دباؤ پیدا کرتے ہیں۔ صارف کو لگتا ہے کہ ابھی آرڈر نہ دیا تو یہ موقع ہاتھ سے نکل جائے گا۔ اس عادت سے بچنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ پسند آنے والی چیز فوراً خریدنے کے بجائے خواہشات کی فہرست میں شامل کرلی جائے اور کم از کم ایک ہفتہ انتظار کیا جائے۔ اس وقفے کے بعد دوبارہ جائزہ لینے سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ چیز واقعی ضروری ہے یا محض وقتی خواہش تھی۔ بوریت دور کرنے کے لیے خریداری کا سہارا بعض اوقات انسان ضرورت کے بجائے بوریت، پریشانی یا تنہائی سے بچنے کے لیے خریداری کرتا ہے۔ ایسی کیفیت میں آن لائن شاپنگ ایپ کھولنا آسان تفریح محسوس ہوتا ہے۔ مصنوعات دیکھنا، تبصرے پڑھنا اور قیمتوں کا موازنہ کرنا کچھ دیر کے لیے خوشگوار لگتا ہے۔ کسی کو امید ہوتی ہے کہ نیا پلانر اسے زیادہ منظم بنادے گا، کسی کو لگتا ہے کہ نئے اسپورٹس شوز خریدنے سے وہ صبح دوڑنے لگے گا۔ لیکن صرف چیزیں خریدنے سے عادات تبدیل نہیں ہوتیں، اس کے لیے عملی کوشش ضروری ہوتی ہے۔ خریداری سے ملنے والی خوشی عموماً مختصر ہوتی ہے، جبکہ خرچ ہونے والی رقم واپس نہیں آتی۔ یوں ایک سلسلہ بن سکتا ہے: پہلے بوریت یا بے چینی، پھر آن لائن شاپنگ، اس کے بعد خریداری اور کچھ دیر کا اطمینان۔ اگلی بار یہی کیفیت پیدا ہونے پر انسان دوبارہ اسی راستے کا انتخاب کرتا ہے۔ اس عادت پر قابو پانے کے لیے خریداری کی خواہش پیدا ہوتے ہی خود سے پوچھنا چاہیے کہ کیا واقعی کسی چیز کی ضرورت ہے یا محض ذہن مصروف رکھنے کے لیے ایپ کھولی جارہی ہے۔ دوست سے بات کرنا، چہل قدمی، کھانا پکانا یا کسی پرانے مشغلے کی طرف لوٹنا بہتر متبادل ہوسکتا ہے۔ پارسل پہنچنے کے بعد خوشی کے ساتھ پچھتاوا بھی آن لائن آرڈر دینے کے بعد پارسل کا انتظار اور اسے کھولنے کا جوش اکثر کسی تحفے سے کم نہیں ہوتا۔ لیکن بعض اوقات چیز توقع کے مطابق نہیں نکلتی۔ لباس کا سائز مختلف ہوتا ہے، آرگنائزر چھوٹا نکلتا ہے یا مہنگا باورچی خانے کا آلہ استعمال ہونے کے بجائے دراز میں پڑا رہ جاتا ہے۔ ایسے میں صارف کو خرچ کی گئی رقم اور اس کے بہتر استعمال کا خیال آنے لگتا ہے۔ بعض گھروں میں غیر ضروری اشیا کا ڈھیر جمع ہوجاتا ہے، جنہیں رکھنے کے لیے بھی اضافی جگہ درکار ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسی صورتحال میں خود کو برا بھلا کہنے کے بجائے خریداری کی اصل وجہ سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ کیا بوریت تھی، موڈ بہتر بنانا مقصود تھا یا دوسروں کو دیکھ کر وہی چیز حاصل کرنے کی خواہش پیدا ہوئی؟ اس محرک کی شناخت آئندہ غیر ضروری خریداری سے بچنے میں مدد دے سکتی ہے۔ اگر خریدی گئی چیز استعمال نہیں ہوئی اور واپسی کی سہولت موجود ہے تو ریٹرن پالیسی کے مطابق اسے واپس کیا جاسکتا ہے۔ صرف اس لیے غیر ضروری چیز اپنے پاس رکھنا ضروری نہیں کہ اس پر رقم خرچ ہوچکی ہے۔ آن لائن خریداری بذاتِ خود بری عادت نہیں، لیکن ضرورت اور خواہش میں فرق سمجھنا، فیصلہ کرنے سے پہلے کچھ وقت لینا اور اپنے جذبات کو پہچاننا غیر ضروری اخراجات سے بچا سکتا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل