Loading
ایتھوپیا کے وزیراعظم ابی احمد نے اپنی کابینہ کے وزرا اور دیگر اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کو فوجی تربیت کے لیے فوجی مرکز بھیج دیا جہاں انہیں فوجی نظم و ضبط، جسمانی تربیت اور اجتماعی سرگرمیوں میں حصہ لینا پڑ رہا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق وزیراعظم ابی احمد نے سوشل میڈیا پر تصاویر شیئر کی ہیں جن میں وہ خود بھی وزرا، نائب وزرا اور سرکاری اداروں کے سربراہان کے ہمراہ فوجی مشقیں کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
یہ تربیت ایتھوپیا کے علاقے ہرشو میں قائم فوجی تربیتی مرکز میں دی جا رہی ہے۔ تربیت میں ایوانِ وفاق کی اسپیکر موفریات کامل، وزیر خزانہ فیتسم آسفا اور وزیر صحت میکدیس ڈابا سمیت اہم حکومتی شخصیات شریک ہیں۔
وزیراعظم ابی احمد کا کہنا ہے کہ ملک کی ترقی اور خوشحالی کے اہداف حاصل کرنے کے لیے قیادت کا جسمانی طور پر مضبوط، اخلاقی اعتبار سے مستحکم اور ذہنی طور پر اہل ہونا ضروری ہے۔
انہوں نے فوجی اداروں کو نظم و ضبط، حب الوطنی، ٹیم ورک، جواب دہی اور قیادت کی صلاحیتیں سیکھنے کا اہم ذریعہ قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ فوجیوں کے سامنے اہداف ہوتے ہیں جبکہ عام شہریوں کے مقاصد ہوتے ہیں، لیکن دونوں کی کامیابی کا مقصد فتح ہے۔
ایتھوپیا کو مختلف سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔ شمالی علاقے تیگرائے میں دوبارہ لڑائی جاری ہے، جبکہ امہارا اور اورومیا میں بھی بدامنی پائی جاتی ہے۔
اس کے علاوہ ہمسایہ ملک اریٹیریا کے ساتھ کشیدگی میں اضافے نے دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ نئے تصادم کے خدشات بھی بڑھا دیے ہیں۔
تاہم حکومت نے تربیت کے دورانیے اور اختتام کی تاریخ سے متعلق تفصیلات جاری نہیں کیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل