Saturday, October 31, 2026
 

طالبان کا دہشتگردی کے خلاف کارروائی سے انکار تعلقات کی بحالی میں بڑی رکاوٹ ہے، وزارت اطلاعات

 



وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان ترجمان کے بیان کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان حکومت کا دہشت گردی کے خلاف کارروائی سے مسلسل انکار معمول کے تعلقات کی بحالی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ وزارت اطلاعات و نشریات سے جاری بیان میں کہا کہ افغان طالبان کے ترجمان کا حالیہ ٹویٹ ان کی گمراہ کن سوچ اور پاک-افغان کشیدہ تعلقات کی اصل وجہ تسلیم نہ کرنے کا واضح ثبوت ہے، طالبان قیادت مسلسل اسلام آباد کی پالیسیوں پر الزام تراشی کر رہی ہے جبکہ افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کو دیدہ دانستہ نظر انداز کر رہی ہے۔ بیان میں کہا کہ پاکستان کا مؤقف دو ٹوک ہے، دہشت گردی ایک ریڈ لائن ہے اور پاکستان کے شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، افغان طالبان کو سمجھنا ہوگا کہ پاکستان اپنی سرحدوں کے پار ایسی دہشت گرد پناہ گاہوں کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا جو اس کی سلامتی کو متاثر کریں۔ وزارت اطلاعات و نشریات نے بتایا کہ پاکستان بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنی قومی سلامتی کو درپیش خطرات کے خاتمے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے، کابل کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ان خطرات سے نمٹنے کی ذمہ داری براہ راست افغان طالبان حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ افغان طالبان کے ترجمان پر ردعمل میں وفاق وزارت اطلاعات و نشریات نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے اپنے عوام کی حفاظت کے عزم کو ہرگز کمزوری نہ سمجھا جائے، طالبان حکومت کا دہشت گردی کے خلاف کارروائی سے مسلسل انکار معمول کے تعلقات کی بحالی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ Ministry of Information and Broadcasting 31 October 2026 The Afghan Taliban spokesperson’s latest tweet exposes the regime’s deeply misguided approach and unwillingness to confront the root cause of deteriorating relations with Pakistan. The Taliban leadership continues to blame… pic.twitter.com/gNnBnoAJfI — Ministry of Information & Broadcasting (@MoIB_Official) October 31, 2026 وزارت اطلاعات و نشریات نے کہا کہ الزام تراشی، کھوکھلی یقین دہانیاں اور پاکستان کی پالیسیوں پر سوال اٹھانے سے نہ تو بحران حل ہوگا اور نہ ہی کابل اپنی ذمہ داریوں سے بری الذمہ ہو سکے گا، افغان طالبان قیادت کو جان لینا چاہیے کہ پاکستان کی سلامتی کو ان کی بے عملی، ٹال مٹول یا غلط ترجیحات کی بھینٹ نہیں چڑھنے دیا جائے گا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل