Saturday, October 31, 2026
 

سیاپا

 



 لفظ ’’سیاپا‘‘ رونے پیٹنے، نوحہ کرنے، ماتم اور غم و اندوہ کے اظہار کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے قیامِ پاکستان سے آج تک عام آدمی کی زندگی محرومیوں اور معاشی مشکلات کے گرداب میں پھنسی ہوئی ہے۔ مہنگائی نے قوت خرید چھین لی ہے، بے روزگاری نے گھروں کا سکون برباد کر دیا ہے اور اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے زندگی کو دشوار بنا دیا ہے۔ اس کے باوجود حکمران اشرافیہ کے دعوے عوام کے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔ جاگیرداروں، وڈیروں، سرمایہ داروں اور مراعات یافتہ طبقے کے مفادات کے مقابلے میں عام شہری کے مسائل مسلسل نظرانداز ہو رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر کب تک عوام اس صورتِ حال کو اپنی قسمت سمجھ کر برداشت کرتے رہیں گے؟ پاکستان کے معاشی بحران کا ایک بنیادی پہلو یہ بھی ہے کہ قدرتی وسائل اور پیداواری صلاحیت رکھنے کے باوجود ہم ان سے عوامی خوش حالی کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکے۔ اقتدار کی سیاست میں ذاتی اور طبقاتی مفادات کو ترجیح دی جائے تو قومی وسائل کے ثمرات عام آدمی تک نہیں پہنچتے۔ آج غریب طبقہ ہی نہیں، متوسط طبقہ بھی دو وقت کی روٹی، بچوں کی تعلیم اور علاج معالجے کے اخراجات پورے کرنے میں مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے حالات میں عوامی مسائل پر خاموشی اختیار کرنا یا انھیں محض قسمت کا لکھا سمجھنا صورتِحال کو مزید پیچیدہ بناتا ہے۔ عوام کو بھی اپنے اجتماعی کردار کا جائزہ لینا چاہیے۔ حکمرانوں کی کوتاہیوں پر تنقید اپنی جگہ، لیکن اپنے حقوق کے لیے منظم اور پُرامن جدوجہد سے گریز بھی مسائل کے تسلسل کا سبب بنتا ہے۔ اہل قلم اپنے الفاظ کے ذریعے معاشرے کو جھنجھوڑ سکتے ہیں، مگر حقیقی تبدیلی کے لیے ضروری ہے کہ عوام اپنے مسائل کا ادراک کرتے ہوئے اجتماعی شعور کو عملی جدوجہد میں تبدیل کریں۔ میرا مقصد بھی اپنے کالموں کے ذریعے عوام میں یہی شعور بیدار کرنا ہے کہ معاشی آزادی اور آئینی حقوق کے حصول کے لیے انھیں ذاتی اور گروہی اختلافات سے بالاتر ہو کر جدوجہد کرنا ہوگی۔ یہ جدوجہد کسی انتشار یا انارکی کے لیے نہیں، بلکہ ایسے نظام کے قیام کے لیے ہونی چاہیے جس میں عام شہری کو اپنے حقوق کے حصول کے لیے بے بسی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ فرانس اور دیگر ممالک میں عوامی احتجاج کے دوران سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے، توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔ میرے نزدیک احتجاج کا یہ طریقہ درست نہیں۔ ہڑتال، ریلی، لانگ مارچ اور مظاہرے شہریوں کے جائز جمہوری ذرائع ہیں، لیکن انھیں پُرامن اور آئینی حدود کے اندر رہنا چاہیے۔ سرکاری املاک دراصل عوام کے ٹیکسوں سے تعمیر ہوتی ہیں۔ انھیں نقصان پہنچانے کا بوجھ بالآخر شہریوں ہی کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے حقوق کی جدوجہد میں نظم و ضبط اور پُرامن مزاحمت کو بنیادی اہمیت حاصل ہونی چاہیے۔ معاشی آزادی محض ایک نعرہ نہیں، بلکہ باوقار زندگی کی بنیادی شرط ہے۔ جب کسی شخص کی آمدنی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہو اور روزگار کے مواقع محدود ہوں تو اس کے لیے اپنے بنیادی حقوق سے بھرپور استفادہ کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ کسی فرد کو معاشی طور پر بے بس رکھنا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔ مظلوم خواہ پاکستان میں ہو یا کسی دوسرے ملک میں، اس کے حقوق کے لیے آواز اٹھانا انسانی ہمدردی کا تقاضا ہے۔پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں پر کسی قسم کا شک نہیں ہونا چاہیے، لیکن دفاعی استحکام کے ساتھ معاشی قوت کا حصول بھی ناگزیر ہے۔ ہم ایک زرعی ملک ہیں اور ہمارے پاس معدنی وسائل بھی وافر مقدار میں موجود ہیں۔ اس کے باوجود ان وسائل کو معاشی خوش حالی میں تبدیل نہ کر پانا ہماری پالیسیوں اور انتظامی ترجیحات پر سوال اٹھاتا ہے۔ زراعت، صنعت اور چھوٹے کاروباروں کو فروغ دیے بغیر روزگار کے وسیع مواقع پیدا کرنا ممکن نہیں۔ حکمرانوں کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ اقتدار ذاتی مفادات کے حصول کا ذریعہ نہیں، بلکہ عوام کے سامنے جواب دہی کی ذمے داری ہے۔جب شہری بنیادی ضروریات کے حصول میں ناکام رہیں اور ان کی مشکلات حکومتی ترجیحات میں مناسب جگہ نہ پا سکیں تو ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھنے لگتے ہیں۔ یہی فاصلہ بے چینی اور عدم اعتماد کو جنم دیتا ہے۔ اس کا تدارک نعروں سے نہیں، بلکہ ایسی معاشی پالیسیوں سے ممکن ہے جن کے نتائج عام آدمی کی زندگی میں محسوس کیے جا سکیں۔ریاست کے متعلقہ اداروں اور حکمرانوں کو باہمی مشاورت سے یہ طے کرنا چاہیے کہ دستیاب وسائل کو عوامی فلاح کے لیے کس طرح موثر انداز میں استعمال کیا جائے۔ روزگار کی فراہمی، مہنگائی پر قابو پانے، پیداواری شعبوں کی بحالی اور بنیادی سہولتوں تک عام شہری کی رسائی کو ترجیح دی جائے۔ عوام کو بھی اپنے حقوق کے لیے آئینی اور پُرامن راستہ اختیار کرتے ہوئے حکمرانوں سے جواب دہی کا مطالبہ کرنا چاہیے۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل