Loading
سیکریٹری اطلاعات پی ٹی آئی کے پی شوکت یوسف زئی نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی آمد پر توقع تھی کہ کے پی کو بڑا پیکیج ملے گا مگر انہوں ںے مایوس کیا۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ 14 یونیورسٹیاں، بی آر ٹی، سوات موٹروے پی ٹی آئی کے پراجیکٹس ہیں، ایک صحت کارڈ نظام صحت میں انقلاب ہے،وزیراعظم صاحب آپ نے مایوس کیا، وہ دودھ اور شہد کی نہریں کہاں ہیں جو آپ کو یہاں بہانی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ آپ نے وہی الزامات لگائے جو آپ کے وزراء صبح شام ٹی وی پر دہراتے ہیں، احتساب کرنا ہے تو بسم اللہ کریں صرف الزامات نہ لگائیں، جس بی آر ٹی کو کرپشن کا شاہکار کہا وہ دو انٹرنیشنل ایوارڈ جیت گئی، پی ٹی آئی نے کچھ نہیں کیا تو عوام یونہی ووٹ دیتی ہے؟
شوکت یوسف زئی نے کہا کہ عوام مہنگائی سے پریشان ہیں اور اس کے ذمہ دار آپ ہیں، لیپ ٹاپ بانٹنے سے خوشحالی نہیں آتی، ملک کو آج ڈائیلاگ کی جتنی ضرورت ہے پہلے کبھی نہ تھی،کسی کا انتظار کرنے کے بجائے پی ٹی آئی خود مذاکرات کرے، سلیم اللہ سے کلیم اللہ اور کلیم اللہ سے پھر سمیع اللہ والا چکر اب ختم ہونا چاہیے۔
شوکت یوسف زئی نے کہا کہ باہر بیٹھے یوٹیوبرز کا بیانیہ پی ٹی آئی کا بیانیہ نہیں، شہزاد اکبر کیوں بھگوڑا بنا ہے اس کو تو پاکستان نے بہت عزت دی ہے، باہر بیٹھ کر فائرنگ کرنا اور مشورے دینا سب سے آسان کام ہے، ہمارے ورکرز تھوڑا کر رہے ہیں یا زیادہ، گراؤنڈ پر تو موجود ہیں، ہمارے لیڈران اور ورکرز یہاں رہ کر سختیاں جھیل رہے ہیں، شہزاد اکبر جیسے لوگوں نے پارٹی کو بہت نقصان پہنچایا، غیرت ہے تو پاکستان آئیں اور پارٹی کے ساتھ کھڑے ہو جائیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل