Sunday, November 01, 2026
 

افغان طالبان حکومت بھارت کی پراکسی ہے، کرائے کے جنگجو استعمال کر رہےہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر

 



پاک فوج کے ترجمان لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ افغانستان کو غیرریاستی عناصر چلا رہے ہیں اور یہ ایک رجیم ہے، افغان طالبان حکومت بھارت کی پراکسی ہے اور کرائے کے جنگجو استعمال کر رہے ہیں۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے عالمی خبر ایجنسی رائٹرز کو دو روز قبل دیے گئے انٹرویو میں افغان طالبان حکومت کے حوالے سے واضح کرتے ہوئے کہا کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی  کا سب سے بڑا اسپانسر ہے اور افغان طالبان رجیم بھارت کی پراکسی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد تنظیمیں ٹی ٹی پی اور بی ایل اے بھی پاکستان کے خلاف بھارتی پراکسی ہیں، افغان طالبان اپنے مذموم مقاصد کے لیے غیرریاستی عناصر اور کرائے کے جنگجو استعمال کرتے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغانستان کو اب بھی غیرریاستی عناصر چلارہے ہیں، یہ ایک رجیم ہے، افغانستان میں روسی مداخلت کے بعد وہاں متعدد ایجنسیوں اور پراکسیز نے اپنی جڑیں مضبوط کرلی ہیں اور جیش العدل، القاعدہ، آئی ایس کے پی جیسی بین الاقوامی دہشت گرد تنظیمیں بھی افغانستان میں موجود ہیں اور اس بات کی نشاندہی  اقوام متحدہ اورامریکہ کے علاوہ  کئی ممالک کرچکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان افغان طالبان سے صرف یہ کہتا ہے کہ وہ پاکستان کے اندردہشت گردوں کی حمایت کرنا بند کرے، افغان طالبان رجیم نے نورولی خارجی، بشیرزیب، گل بہادر جیسے دہشت گردوں کو پناہ دے رکھی ہے، پاکستان میں دہشت گردی کے لیے تشکیل افغانستان سے آتی ہے اور وہیں سے انہیں اسلحہ بھی فراہم کیا جاتا ہے۔ افغان حکومت کی پالیسی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اگر طالبان رجیم دہشت گردی کے حوالے سے ہماری بات نہیں مانتا تو اسے سنگین قیمت چکانا پڑے گی، افغان طالبان رجیم کی عالمی سطح پر کوئی ساکھ نہیں ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دنیا افغان رجیم کو نارمل ریاست والا رویہ اختیار کرنے پر مجبور کرے، بین الاقوامی برادری افغان طالبان کو مجبور کرے کہ وہ منشیات کی کاشت اور پیداوار روکے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ پاکستان کی افواج افغان رجیم کی طرف سے تمام خطرات بشمول ڈرونز کا سدباب کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل