Loading
کراچی میں پابندی کے اوقات میں ہیوی ٹریلر نے موٹرسائیکل سوار سے جینے کا حق چھین لیا، گزشتہ تین روز میں حاملہ خاتون سمیت تین شہری ٹریلر حادثے میں جاں بحق ہوچکے ہیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق شہر میں موت بانٹتی ہوئی ہیوی گاڑیوں سے جان لیوا ٹریفک حادثات میں ٹریلر نے ایک اور موٹر سائیکل سوار سے جینے کا حق چھین لیا، حادثے کا ذمہ دار ڈرائیور ہیوی گاڑیوں کے شہر میں داخلے کی پابندی کی خلاف ورزی کرتا ہوا اورنگی ٹاؤن بنگلہ بازار تک پہنچ گیا اور ایک موٹر سائیکل سوار کی جان لیکر موقع سے ٹریلر چھوڑ کر فرار بھی ہوگیا۔
ٹریفک پولیس کی عدم دلچسپی کے باعث ہیوی ٹریفک کے شہر میں داخلے کی پابندی کی کھلی خلاف ورزی پر قابو نہ پا سکی۔
جمعے کی رات سے پیر کی شام تک ٹریلر اور واٹر ٹینکر نے حاملہ خاتون سمیت 3 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا جبکہ 4 افراد شدید زخمی بھی ہوگئے۔
لیاقت آباد اور کریم آباد میں عوام کی جانب سے جمعے کی شب اور اتوار کی شب حادثات کے زمہ دار 2 ٹریلروں کو نذر آتش بھی کیا جا چکا ہے لیکن اس کے باوجود ہیوی گاڑیوں سے جان لیوا حادثات روکنے کا نام ہی نہیں لے رہے ہیں۔
اورنگی ٹاؤن کے علاقے سیکٹر 15 بنگلہ بازار کے قریب پیر کی شام ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار جاں بحق ہوگیا، جس کی لاش کو ضابطے کی کارروائی کیلیے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق متوفی کی شناخت 30 سالہ طلحہٰ کے نام سے کی گئی۔ اس حوالے سے موقع پر موجود شہریوں کا کہنا تھا کہ جس وقت ٹریلر سے موٹر سائیکل سوار کا جان لیوا حادثہ ہوا اس وقت ٹریلر سمیت دیگر ہیوی گاڑیوں کی شہر میں داخلے کی پابندی عائد ہوتی ہے.
تاہم ٹریفک پولیس کی غفلت و لاپروئی کا اندازہ اس بات سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا کہ پابندی کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ ایک قیمتی انسانی جان بھی چلی گئی اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟۔
شہریوں نے کہا کہ افسران اجلاسوں میں ٹریفک کنٹرول کرنے کے بجائے زمینی حقائق کا جائزہ لیں کہ شہر میں ہیوی گاڑیوں سے روز کی بنیاد پر شہری زندگی سے محروم بلکہ شدید زخمی بھی ہو رہے ہیں۔
ٹریفک پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ہیوی گاڑیوں کا شہر میں داخل ہونے کا وقت رات 10 بجے سے صبح 7 بجے تک ہے تاہم مذکورہ حادثے میں شہر میں داخلے کی پابندی کی خلاف ورزی ہوئی ہے حادثے کا ذمہ دار ٹریلر اورنگی ٹریفک سیکشن کے حدود عبور کرتا ہوا منگھوپیر ٹریفک سیکشن کی حدود میں داخل ہو جو کہ گلشن بہار کی جانب جا رہا تھا۔
واضح رہے کہ جمعے کی شب لیاقت آباد 10 سندھ گورنمنٹ اسپتال کے قریب ٹریلر سے موٹر سائیکل پر شوہر کے ہمراہ سوار حاملہ خاتون 40 سالہ جمیلہ کو زندگی سے محروم کردیا تھا جبکہ شوہر بھی زخمی ہوا تھا۔
مشتعل عوام نے حادثے کے ذمہ دار ٹریلر کو نذر آتش کر دیا جس میں اس میں لدا ہوا سامان جل کر خاکستر ہوگیا تھا ، ہفتے کی صبح سپرہائی وے جمالی پل کے قریب واٹر ٹینکر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ آصف جاں بحق ہوا تھا جبکہ بلدیہ حب ریور روڈ خورشید پورہ قبرستان کے قریب ٹینکر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 3 افراد زخمی ہوئے تھے جبکہ اتوار کی شب کریم آباد فلائی اوور پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 50 سالہ غلام عباس زخمی ہوا۔
حادثے میں مضروب کی ایک ٹانگ شدید متاثر ہوئی اور اس حادثے کے بعد بھی مشتعل افراد نے ٹریلر کے اگلے حصے کو آگ لگا دی جو جل کر خاکستر ہوگیا۔
شہر میں روز کی بنیاد پر ہیوی گاڑیوں سے پیش آنے والے جان لیوا حادثات پر شہری حلقوں کی جانب سے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ٹریفک پولیس کے افسران ہیوی ٹریفک کو قوانین کی پابندی پر عمل درآمد کرانے میں ناکام دکھائی دیتی ہے جس کے باعث شہر میں ہیوی گاڑیوں سے جان لیوا خونی حادثات معمول بنتے جا رہے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل