Loading
لاہور کے تاریخی باغِ جناح میں سینکڑوں اقسام کے درخت موجود ہیں، لیکن قائدِ اعظم لائبریری کے عین سامنے کھڑا 1935 کا ایک 90 سالہ قدیم درخت اپنی پراسرار شہرت اور منفرد خصوصیات کی وجہ سے خاص توجہ کا مرکز ہے۔ عام زبان میں شیطان درخت کہلانے والا یہ شجر حقیقت میں خوف کی علامت نہیں، بلکہ انسانی صحت اور ماحولیات کا ایک خاموش محافظ ہے۔
ایکسپریس نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے باغِ جناح کے ٹورسٹ آفیسر سید نجم گیلانی نے بتایا کہ اس درخت کا سائنسی نام ’السٹونیا‘ ہے، جو اسکاٹ لینڈ کے ماہرِ نباتات اور بوٹینیکل گارڈن کے نگران سر چارلس السٹن کے نام پر رکھا گیا ہے۔ اپنی دیگر خصوصیات کی بنا پر اسے مختلف ناموں سے بھی جانا جاتا ہے۔ اس کی لکڑی سے بلیک بورڈ تیار کیے جانے کے باعث اسے بلیک بورڈ ٹری اور اس کے تنے سے دودھ جیسا سفید مادہ نکلنے کی وجہ سے اسے ملکی ٹری بھی کہا جاتا ہے۔
اسے شیطان درخت کیوں کہا جاتا ہے؟ اس درخت سے جڑے خوف اور توہمات کی وضاحت کرتے ہوئے سید نجم گیلانی نے بتایا کہ قدیم چین اور دیگر علاقوں میں پیپل کے درخت کی طرح السٹونیا کے بارے میں بھی یہ مفروضہ عام تھا کہ اس پر شیاطین اور بھوتوں کا بسیرا ہوتا ہے، تاہم اس مفروضے کی اصل وجہ اس کے پھولوں کی مسحور کن خوشبو ہے۔
رات کے وقت جب اس درخت پر پھول کھلتے ہیں تو ان سے ’رات کی رانی‘ کی طرح انتہائی تیز اور دلکش مہک اٹھتی ہے جس سے انسان بے ساختہ اس کی طرف کھنچا چلا آتا ہے۔ قدیم زمانے میں لوگ اس کشش کو ماورائی طاقتوں یا شیاطین کا جال سمجھتے تھے جس کی وجہ سے اس کا نام ’شیطان درخت‘ پڑ گیا۔
ماہرین کے مطابق اپنے نام کے برعکس یہ درخت طبی لحاظ سے بے حد فائدہ مند ہے۔ ایلوپیتھک اور ہومیوپیتھک طریقہ علاج کی ایجاد سے قبل قدیم حکیم اور ماہرینِ نباتات اس درخت کے اجزاء سے نزلہ، زکام اور بخار کا علاج کرتے تھے۔ یہ بہترین اینٹی ملیریل خصوصیات رکھتا ہے؛ ملیریا کے بخار، جسمانی درد اور سوجن کے خاتمے کے لیے اس کا قہوہ آج بھی انتہائی مفید مانا جاتا ہے ۔
درخت سے نکلنے والے سفید دودھیا مادے کے حوالے سے ٹورسٹ آفیسر نے واضح کیا کہ یہ انسانی جلد کے لیے ہرگز نقصان دہ نہیں ہے البتہ، اس مادے میں مخصوص کیمیائی ادویات کی آمیزش کر کے چوہے مارنے والی گولیاں تیار کی جاتی ہیں۔
باغِ جناح میں اس وقت السٹونیا کے 100 سے 125 کے قریب مکمل تناور درخت موجود ہیں اس درخت کی سب سے بڑی خوبی اس کی تیز رفتار نشوونما ہے، جو چند ہی سالوں میں ایک گھنے درخت کی شکل اختیار کر لیتا ہے ۔
لاہور کو درپیش اسموگ اور فضائی آلودگی کے سنگین مسئلے پر بات کرتے ہوئے سید نجم گیلانی نے بتایا کہ السٹونیا ماحولیاتی آلودگی کے خلاف بہترین مزاحمت رکھتا ہے۔ یہ زہریلی فضا کو برداشت کر کے اپنی ساخت کو مضبوط رکھتا ہے اور وافر مقدار میں آکسیجن فراہم کرتا ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی شہر کی گرین بیلٹس، سڑکوں کے کناروں اور نئے بننے والے پارکوں میں السٹونیا کی شجرکاری کو اولین ترجیح دے رہی ہے تاکہ لاہور کی فضا کو صاف اور شہریوں کو بیماریوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل