Loading
افغانستان سے پاکستان کو درپیش سلامتی کے مسائل محض سرحدی کشیدگی یا دوطرفہ تعلقات کی سردمہری تک محدود نہیں رہے، بلکہ ان کے پس منظر میں علاقائی طاقتوں کی رقابت، غیرریاستی مسلح گروہوں کا پھیلاؤ، سرحد پار دہشت گردی اور ریاستی نظم و نسق کے بنیادی سوالات بھی شامل ہوچکے ہیں۔
ایسے حالات میں پاکستان کا مطالبہ صرف اپنی سرزمین کے تحفظ کا نہیں، بلکہ اس اصول کی پاسداری کا بھی ہے کہ کسی ملک کی سرزمین دوسرے ملک کے خلاف مسلح کارروائیوں کے لیے استعمال نہ ہونے پائے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے حالیہ انٹرویو نے اسی پیچیدہ صورت حال کو ایک مرتبہ پھر عالمی توجہ کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔ ان کے بیان کردہ نکات محض عسکری تشویش کا اظہار نہیں، بلکہ افغانستان کے موجودہ انتظامی ڈھانچے، اس کے علاقائی تعلقات اور جنوبی ایشیا کے مستقبل سے وابستہ ایسے سوالات ہیں جنھیں نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔
افغانستان کی موجودہ صورت حال کو سمجھنے کے لیے اس حقیقت کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ یہ سرزمین گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی اور علاقائی طاقتوں کی کشمکش کا میدان رہی ہے۔ سابق سوویت یونین کی مداخلت، امریکی قیادت میں طویل جنگ، سوویت افواج کی واپسی، افغانستان کی سوویت نواز حکومت کا خاتمہ، افغان مجاہدین کے دھڑوں کی باہمی خانہ جنگی، پھر طالبان کا اقتدار، نائن الیون کے بعد امریکا کے ہاتھوں طالبان کے اقتدار کا خاتمہ، حامد کرزئی اور اشرف غنی کی امریکا نواز حکومت کا خاتمہ، امریکا اور نیٹو افواج کا انخلا اور اگست 2021میں طالبان کی دوبارہ اقتدار میں واپسی، ان تمام مراحل نے افغان ریاست کے ادارہ جاتی ڈھانچے کو تباہ کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان مختلف مسلح دہشت گرد تنظیموں، انتہاپسند نظریاتی گروہوں اور کریمنلز نیٹ ورکس کو بھی اپنی سرگرمیاں منظم کرنے کے مواقع مل گئے ہیں۔ طالبان دوہا میں جو معاہدہ کرکے افغانستان میں اقتدار میں آئے تھے ، ان پر عمل نہیں کیا جا رہا ہے۔
دہشت گردی وہ بنیادی مسئلہ ہے جس کا حل سامنے نہیں آسکا کہ افغانستان کی سرزمین کو بین الاقوامی دہشت گردی اور ہمسایہ ممالک کے خلاف کارروائیوں سے کس طرح محفوظ بنایا جائے۔ طالبان کے لیے اصل امتحان یہی تھا کہ وہ عسکری تنظیم سے نکل کر ایک ایسی انتظامیہ کا کردار ادا کریں جو ریاستی ذمے داریوں کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو لیکن وہ اس امتحان میں فیل نظر آتے ہیں۔ افغان طالبان حکومت پاکستان میں اپنی پراکسزیز جن میں کالعدم ٹی ٹی پی اور کالعدم بی ایل اے سرفہرست ہیں، ان کے ذریعے دہشت گردی میں ملوث ہے۔
دہشت گردی کی اس لہر نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے کئی علاقوں میں معمولات زندگی کو متاثر کیا ہے۔ سیکیورٹی اہلکاروں اور پرامن شہریوں کی شہادتیں، شہری آبادی کا عدم تحفظ، کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور ترقیاتی منصوبوں کی سست روی اس بحران کے مختلف پہلو ہیں۔ کسی بھی ریاست کے لیے یہ صورت حال ناقابل قبول ہوتی ہے کہ اس کے شہریوں کو نشانہ بنانے والے مسلح گروہ سرحد پار محفوظ ٹھکانوں سے کارروائیاں منظم کریں اور ان کے خلاف موثر اقدامات کرنے کے بجائے متعلقہ انتظامیہ ان کی موجودگی ہی سے انکار کرتی رہے۔
اس حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹ بھی قابل توجہ ہے۔ اس میں افغانستان میں کالعدم ٹی ٹی پی ، داعش خراسان، القاعدہ اور دیگر تنظیموں کی موجودگی کا ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کالعدم ٹی ٹی پی نے افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف متعدد حملے کیے۔
طالبان حکومت کی جانب سے اس تنظیم کوآزادی اور حمایت ملنے کے خدشات بھی سامنے آئے ہیں۔ دوسری جانب افغان طالبان ان الزامات کو تسلیم نہیں کرتے اور اپنی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کا مؤقف اختیار کرتے ہیں۔ تاہم جب بین الاقوامی نگرانی کے ادارے بھی ایسے خدشات کی نشاندہی کریں تو محض تردید سے مسئلے کی سنگینی ختم نہیں ہوسکتی۔ کابل انتظامیہ کو ان الزامات کے ازالے کے لیے قابل تصدیق اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
یہاں ایک بنیادی سوال طالبان قیادت کے طرز حکمرانی سے متعلق بھی پیدا ہوتا ہے۔ کسی ملک پر اقتدار حاصل کرلینا اور اسے ایک باقاعدہ ریاست کی حیثیت سے چلانا دو مختلف امور ہیں۔ ریاستی نظم کا تقاضا ہے کہ حکومت اپنی سرحدوں پر کامل اختیار رکھے، مسلح گروہوں پر ریاست کی رٹ نافذکرکے انھیں قانون کے تابع کرے، اپنے شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کرے اور اپنی سرزمین کو دوسرے ممالک کے خلاف استعمال ہونے سے روکے، اگر کسی حکومت کے زیر انتظام علاقے میں متعدد مسلح تنظیمیں آزادانہ سرگرمیاں جاری رکھیں تو اس سے نہ صرف ہمسایہ ممالک کا اعتماد مجروح ہوتا ہے بلکہ خود افغانستان کی خودمختاری اور داخلی استحکام بھی سوالات کی زد میں آجاتا ہے۔ طالبان قیادت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ماضی کی جنگی رفاقتیں موجودہ ریاستی ذمے داریوں کا متبادل نہیں بن سکتیں۔
اقتدار کے ساتھ جواب دہی بھی لازم ہوتی ہے۔پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کا ایک اہم پہلو سرحدی جغرافیہ اور باہمی معاشی انحصار ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مذہبی، ثقافتی، نسلی اور تجارتی رشتے صدیوں پر محیط ہیں۔ لاکھوں افغان شہریوں نے مشکل اوقات میں پاکستان میں پناہ حاصل کی، جب کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت، آمدورفت اور روزگار کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ ایسے تاریخی رشتوں کو دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیوں کے باعث مستقل کشیدگی کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔ تاہم دوستی اور ہمسائیگی کا تقاضا یک طرفہ برداشت نہیں بلکہ باہمی احترام، ذمے داری اور اعتماد ہے۔
پاکستان کو اپنے شہریوں کے تحفظ کا حق حاصل ہے اور افغانستان پر بھی لازم ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے پاکستان کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کی روک تھام کرے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان تاریخی تنازعات، بالخصوص کشمیر، اور دونوں ممالک کی سلامتی سے متعلق بداعتمادی ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ اگر کسی بیرونی قوت کی جانب سے افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کے شواہد سامنے آتے ہیں تو یہ محض دو ممالک کا مسئلہ نہیں رہے گا بلکہ پورے خطے کے امن کو متاثر کرے گا۔ افغانستان کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی کو کسی ایسی علاقائی رقابت کا حصہ نہ بننے دے جس کے نتائج بالآخر افغان عوام کو بھگتنا پڑیں۔
منشیات کے مسئلے پر بھی حقائق کو درست تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں پوست کی کاشت جاری ہے حالانکہ طالبان کا دعویٰ ہے کہ پوست کی کاشت پر پابندی ہے۔ منشیات کی غیرقانونی تجارت، ذخیرہ اندوزی اور متبادل منشیات کے نیٹ ورکس کی مکمل روک تھام اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ اس معاملے میں افغان انتظامیہ کو عالمی اداروں کے ساتھ تعاون بڑھانا ہوگا تاکہ انسداد منشیات کی کوششیں محض اعلانات تک محدود نہ رہیں۔ پاکستان کے لیے اس بحران کا مستقل حل ایک ایسی جامع حکمت عملی میں پوشیدہ ہے جس میں سرحدی تحفظ، انٹیلی جنس تعاون، داخلی سلامتی، علاقائی سفارت کاری اور عالمی دباؤ ایک دوسرے کے معاون ہوں۔
سرحد پار دہشت گردی کے واقعات کی مشترکہ تحقیقات، مطلوب دہشت گردوں کے خلاف کارروائی، ان کے مالی وسائل کی بندش، اسلحے کی غیرقانونی ترسیل کی روک تھام اور سرحدی نگرانی کا مؤثر نظام اعتماد سازی کی بنیاد بن سکتا ہے، اگر کابل انتظامیہ ایسے اقدامات سے گریز کرتی ہے تو پاکستان کو اپنے دفاع اور شہریوں کے تحفظ کے لیے دستیاب قانونی و سفارتی راستے اختیار کرنے کا حق حاصل ہے۔اس تمام صورت حال میں عالمی برادری کی ذمے داری بھی محض تشویش کے بیانات جاری کرنے تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ اقوام متحدہ، علاقائی تنظیموں اور بااثر ممالک کو افغانستان میں سرگرم دہشت گرد نیٹ ورکس کے بارے میں موجود معلومات کی بنیاد پر مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دینا ہوگا۔چین، وسطی ایشیائی ریاستوں، ایران اور دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ تعاون افغانستان میں امن کے قیام کے لیے اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔افغان طالبان قیادت کے سامنے اب فیصلہ کن سوال یہ ہے کہ وہ افغانستان کو ایک ذمے دار ریاستی نظم کی طرف لے جانا چاہتی ہے یا ماضی کے جنگی ماحول اور مسلح گروہوں کی پیچیدہ وابستگیوں کو برقرار رکھنا چاہتی ہے۔
تاریخ کا سبق واضح ہے کہ بندوق کے زور پر اقتدار حاصل کیا جاسکتا ہے، لیکن پائیدار ریاست کی تعمیر کے لیے قانون، ادارے، عوامی اعتماد اور بین الاقوامی ذمے داری درکار ہوتی ہے۔ پاکستان کو بھی اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے ساتھ خطے میں تصادم کے بجائے استحکام کی راہ ہموار کرنے کی کوشش جاری رکھنی چاہیے۔ افغانستان کا امن پاکستان کے مفاد میں ہے، مگر یہ امن اس وقت تک حقیقت کا روپ نہیں دھار سکتا جب تک دہشت گردی کے خلاف دوٹوک اور عملی اقدامات نہیں کیے جاتے۔ سرحدوں پر امن، ہمسایوں کے درمیان اعتماد اور خطے میں معاشی تعاون ہی وہ راستہ ہے جو اس خطے کو جنگی معیشت اور انتہا پسندی کے دائرے سے نکال سکتا ہے۔ کابل کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ پاکستان کے تحفظات کسی سیاسی رعایت کے محتاج نہیں، بلکہ ایک خودمختار ریاست کے بنیادی سلامتی حقوق سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان حقوق کا احترام ہی دونوں ملکوں کے درمیان پائیدار تعلقات کی پہلی شرط ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل