Monday, November 02, 2026
 

کرپٹو کا فریب اور6 ارب ڈالر کی چوری

 



بٹ کوائن نے اکیسویں صدی کے انسان کو ایک نہایت دلکش اور ماورائی وعدہ دیا تھا کہ ’’کوڈ پر بھروسا کرو، ادارے پر نہیں۔‘‘ اس وعدے کی تہہ میں جدید انسان کی ایک پرانی آرزو پوشیدہ تھی۔ انسان ناقابل اعتماد ہے، ریاست طاقت کی بھوکی ہے اور تجارتی بینک منافع کے اسیر، لہٰذا کیوں نہ انسانی معاشی لین دین کو انفرادی نیت، ریاستی جبر اور مالیاتی اداروں کی اجارہ داری سے یکسر آزاد کر دیا جائے؟ درمیان سے صراف اور بینک کو نکال دیں اور اپنا تمام تر معاشی اعتماد ریاضی، کرپٹوگرافی اور بلاک چین یعنی ڈیجیٹل لیجر کے ان غیر جانبدار قوانین کے سپرد کر دیجیے جو کسی انسان کے مرہون منت نہ ہوں۔ ایک ایسی دنیا کی تشکیل کا خواب دیکھا گیا جہاں کوئی درمیانی شخص آپ کا پیسہ روک نہ سکے، کوئی ریاست آپ کے اکاؤنٹ پر ہاتھ نہ ڈال سکے اور کوئی بینک آپ کی معاشی ملکیت کے درمیان حائل نہ ہو سکے، لیکن ہوا اس کے قطعی برعکس۔ اکتوبر 2026 کے آخری ایام میں دنیا کے سب سے بڑے ڈیجیٹل صرافی ادارے بائنانس کے مرکزی نظام پر اب تک کا سب سے بڑا حملہ ہوتا ہے اور صرف چند لمحات کے اندر تقریباً 6.3 ارب ڈالر کے عظیم الشان اثاثے صاف ہو جاتے ہیں۔بائنانس کی ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ محض کسی ایک والٹ کا مسئلہ نہیں تھا، بلکہ حملہ آوروں نے بائنانس کے داخلی انتظامی انجینئرنگ نظام یعنی ڈیواپس تک غیر مجاز رسائی حاصل کی اور ان کے انٹرنیٹ سے ہمہ وقت جڑے خودکار ڈیجیٹل بٹووے، جسے تکنیکی زبان میں ہاٹ والٹ کہا جاتا ہے، کو اپنے نادیدہ کنٹرول میں لے لیا، لیکن بائنانس کے اس نظام پر حملے کا سب سے خوفناک اور پیچیدہ پہلو ایتھریم بلاک چین کا وہ نیا ضابطہ تھا جسے ’’ای آئی پی 7702 کا نام دیا گیا ہے۔ یہ خودکار بٹوا عارضی طور پر ایک ایسے بیرونی کوڈ کے تابع ہو گیا جس نے حملہ آور کو تمام اثاثے کسی دوسرے کھاتے میں منتقل کرنے کا قانونی راستہ فراہم کر دیا۔یہاں معاملہ کہیں زیادہ باریک اور روح فرسا تھا؛ چور نے تالہ توڑنے کی زحمت ہی نہیں کی، اس نے گھر کی عقل کو ہی اپنا غلام بنا لیا تاکہ گھر کا نظام خود اپنے مالک کے بجائے چور کے احکامات بجا لائے ۔اس پوری داستان کا سب سے بڑا دھماکہ اور فکری زلزلہ اس وقت آیا جب اس 6.3 ارب ڈالر کی چوری کو روکنے کی کوششیں شروع ہوئیں۔ متاثرہ رقم میں سے تقریباً تین ارب ڈالر کے اثاثوں کو بلاک چین پر حرکت کرنے سے اچانک روک کر منجمد کر دیا گیا اور یہ کام کسی خودکار الگورتھم یا غیر جانب دار ریاضی نے نہیں کیا، بلکہ اس میں سب سے مرکزی اور کلیدی کردار ان نجی امریکی اداروں کا تھا جو امریکی ڈالر سے مساوی قیمت رکھنے والے ڈیجیٹل سکے جاری کرتے ہیں، جنھیں مالیاتی زبان میں ’’اسٹیبل کوئن‘‘کہا جاتا ہے۔ ٹیتھر نامی ادارے نے ڈیڑھ ارب ڈالر سے زائد کے ’’یو ایس ڈی ٹی‘‘ اور سرکل نامی ادارے نے اسی کروڑ ڈالر سے زائد کے ’’یو ایس ڈی سی‘‘ کو محض اپنے انتظامی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ایک لمحے میں فریز کر دیا۔یہ وہ مقام ہے جہاں کرپٹو کا سب سے بڑا تہذیبی اور جیو پولیٹیکل تضاد ننگا ہو کر سامنے آتا ہے۔ بلاک چین کا بنیادی کھاتا تو شاید غیر مرکزی ہو سکتا ہے، لیکن اس کھاتے کے اوپر جو پیسہ دوڑ رہا ہے، وہ ہرگز غیر مرکزی نہیں ہے۔ بٹ کوائن کو چونکہ کوئی کمپنی جاری نہیں کرتی، اس لیے دنیا کی کوئی طاقت اسے ایک کلک پر منجمد نہیں کر سکتی، لیکن ’’اسٹیبل کوئنز‘‘ کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔ ان کے اسمارٹ کانٹریکٹس کے کوڈ کے اندر اج کو جاری کرنے والے اداروں کے پاس ایک مرکزی چابی موجود ہوتی ہے، جس کے ذریعے وہ کسی بھی بٹوے کے پتے کو بلیک لسٹ کر کے اس کے تمام فنڈز مفلوج کر سکتے ہیں۔ یہ صلاحیت اس حادثے میں اربوں ڈالر کے پیمانے پر استعمال کی گئی۔جس مرکزی اختیار کو کرپٹو کے انقلابی مفکرین اس نظام کی سب سے بڑی کمزوری اور خیانت قرار دیتے تھے، اسی مرکزی اختیار کو انھوں نے اپنے لیے روا رکھا۔ پرانے معاشی اور سیاسی نظام میں طاقت کا مرکز بالکل واضح اور نظر آنے والا تھا۔ ایک عام شہری اچھی طرح جانتا تھا کہ تجارتی بینک اس کے بٹوے کا ضامن اور حکمران ہے، مرکزی بینک زر کی قیمت اور شرح سود کو کنٹرول کرتا ہے اور ریاست اپنی پولیس، عدالت اور قانون کے ذریعے اس تمام تر نظام کی پشت پناہی کرتی ہے۔کرپٹو اور جدید ویب تھری کی دنیا نے انسان کو ایک مختلف سراب دکھایا۔ یہاں یہ دعویٰ کیا گیا کہ اداروں کو بلاک چین کے ضوابط سے بدل دیا جائے گا اور انسانی نیت کے بجائے صرف ریاضی کی غیر جانبدارانہ شفافیت پر تکیہ کیا جائے گا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ طاقت ختم نہیں ہوئی، وہ صرف اپنے پرانے دفاتر سے نکل کر نئی گمنام جگہوں پر منتقل ہو گئی۔ وہ طاقت اب اس پروٹوکول کو ڈیزائن کرنے والے ماہرین کے پاس ہے، وہ کوڈ لکھنے والے گمنام انجینئرز کے پاس ہے، وہ صرافی اداروں کے داخلی سرور رومز اور ہاٹ والٹس کے ڈھانچے میں موجود ہے، اور وہ ان نجی کارپوریشنز کے پاس محفوظ ہے جو ایک ای میل اور نوٹس پر اربوں ڈالر کا پہیہ جام کر سکتی ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پرانے بینک کی عمارت اور اس کا صدر دفتر سامنے نظر آتا تھا، جب کہ نئے نظام کی طاقت کبھی ایک پیچیدہ الگورتھم کے اندر چھپی ہوتی ہے، کبھی کسی بلیک لسٹ کرنے والی سینٹرل کی، کے پاس ہوتی ہے اور کبھی اس تکنیکی تحریر کی ایک ایسی سطر میں مدفون ہوتی ہے جسے دنیا کے کروڑوں صارفین میں سے شاید چند سو لوگ بھی پوری طرح سمجھنے کی صلاحیّت نہیں رکھتے۔’’کوڈ پر بھروسا کرو‘‘ کا نعرہ دراصل اتنا سادہ اور معصوم نہیں ہے جتنی خوبصورتی سے اسے بیچا جاتا ہے، کیونکہ کوڈ آسمان سے نازل نہیں ہوتا بلکہ اسے انسان ہی لکھتا ہے، اس کی حدود اور ترجیحات انسان ہی طے کرتا ہے اور اس پیچیدہ نظام کے اندر اقتدار کی ایک نئی اور غیر مرئی تقسیم جنم لیتی ہے۔ بائنانس کا یہ حادثہ محض ایک ہیکنگ یا چوری کی خبر نہیں ہے، بلکہ یہ اکیسویں صدی کے اس بنیادی فریب پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے کہ ٹیکنالوجی بذاتِ خود انسان کو معاشی اور سیاسی جبر سے نجات دلا سکتی ہے؟ انسان نے بینکوں سے آزادی مانگی تھی، مگر اسے ایک ایسی تکنیکی پیچیدگی میں الجھا دیا گیا جہاں اس کی بے بسی پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی۔ اس نے درمیانی آدمی کو نکالنے کا خواب دیکھا تھا، مگر درمیانی آدمی غائب نہیں ہوا، وہ صرف بدل گیا۔ کبھی وہ ایکسچینج کے سرور میں بیٹھا نظر آتا ہے، کبھی ڈیجیٹل ڈالر کے انتظامی احکامات میں، اور کبھی کوڈ کی اس ایک سطر میں جسے سمجھنا ایک عام انسان کے بس سے باہر ہے۔ بائنانس کا 6 ارب ڈالر کا یہ حادثہ دراصل اسی تلخ حقیقت کی ایک انتہائی مہنگی یاد دہانی ہے۔ہم نے سمجھا تھا کہ ہم نے اپنے مالیاتی گھر کے دروازے سے خطرے کو دور کر دیا ہے، مگر بعد میں معلوم ہوا کہ یہ صرف ایک فریب تھا، خطرہ کہیں نہیں گیا تھا، اس نے صرف اپنا پرانا روپ بدل کر الگورتھم اور کوڈ کا نیا نقاب اوڑھ لیا تھا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل