Monday, November 02, 2026
 

بے روزگاری و غربت پر تشویش ناک رپورٹ

 



عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق 2018 سے ہر چھٹا پاکستانی بے روزگار اور غربت میں سات فی صد اضافے کی وجہ سے ملکی معیشت کو چار خطرات لاحق ہو چکے ہیں اور پاکستان میں مہنگائی 8.2 فی صد رہنے کا امکان ہے جس کے لیے 6 فی صد سالانہ نمو کے لیے تیز رفتار اصلاحات اور نجی شعبے کے ذریعے روزگار کے نئے مواقعے پیدا کرنے ہوں گے۔ یہ انتباہ عالمی بینک نے ملک میں معاشی استحکام کے باوجود جاری کیا ہے جس کا ڈھنڈورا موجودہ حکمران مسلسل پیٹ رہے ہیں جو عالمی بینک کے لیے اطمینان بخش ہوتی تو عالمی بینک کو یہ تشویشناک رپورٹ جاری نہ کرنا پڑتی۔ آئی ایم ایف نے بھی پاکستان کی بیرونی مالیاتی پوزیشن کمزور ہونے کا خدشہ ظاہر کر دیا ہے اور جاری کھاتے کا خسارہ مجموعی جی ڈی پی کے ایک فی صد تک پہنچنے کی پیشگوئی بھی کر دی ہے۔ آئی ایم ایف نے ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مانیٹری پالیسی مزید سخت کرنے اور عالمی بینک نے شعبہ توانائی میں سبسڈیز ختم اور ٹیکس بیس مزید بڑھانے کا کہا ہے۔ ورلڈ بینک نے مزید کہا ہے کہ پاکستان میں غربت کی شرح بڑھ کر 29 فی صد تک پہنچ گئی ہے اور تجارتی خسارے میں اضافے کا بھی خدشہ ہے۔ ایکسپریس کے تجزیہ کار کے مطابق رواں برس اگست کے مہینے میں 11.1 فی صد ریکارڈ کی گئی ہے۔ عالمی ادارے نے پاکستان کی معیشت کے متعلق اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ غربت کی شرح 2019 کے 22 فی صد سے بڑھ کر 2025 میں 29 فی صد تک پہنچ گئی تھی۔ معاشی ترقی گزشتہ سال کے آخری تین ماہ میں صرف دو فی صد سالانہ شرح نمو 3.65 تک محدود رہی۔ عام پاکستانی کی مجموعی فی کس آمدنی میں صرف 1.6 فی صد اضافہ ہوا۔ عالمی اداروں کے مطابق ملک میں بے روزگاری، مہنگائی اور معیشت کی یہ صورت حال ہے جس سے عام آدمی بری طرح متاثر ہے مگر محکمہ خزانہ کے نزدیک پاکستان کی اندرونی صورتحال تشویشناک نہیں ہے۔ ملک میں روزگار کے نئے ذرائع میسر نہیں ۔ حکومت کے پاس لوگوں کو دینے کے لیے نوکریاں نہیں اور نجی شعبے کے ذریعے روزگار کے نئے ذرائع کی توقع کی جا رہی ہے۔ ملک میں اس وقت ہر تیسرا گریجویٹ بے روزگار ہے اور بے روزگار افراد کی مجموعی تعداد 80 لاکھ ہے جن میں 24 سال کے نوجوان زیادہ ہیں۔ پی ٹی آئی حکومت میں وزیر اعظم نے ایک کروڑ نوکریاں دینے کا بڑا اعلان کیا تھا جو نہ ملیں تو ان کے وزیر اطلاعات نے کہہ دیا تھا کہ جو دے سکتے تھے وہ دے دیں اب وہ نوکریاں مزید نہیں دے سکتے۔ موجودہ حکومت میں نوکریاں دینے کا کوئی اعلان تو نہیں ہوا مگر ان کے غیر سیاسی وزیر خزانہ نے بھی کہہ دیا کہ حکومت عوام کو نوکریاں نہیں دے سکتی۔ حکومت نے مہنگائی گھٹانے کا کوئی اعلان نہیں کیا تھا مگر اس کی توجہ صرف مہنگائی بڑھانے پر مرکوز رہی ہے جس کے نتیجے میں بے روزگاری ہی نہیں ملک میں غربت کے باعث خودکشیاں بھی بڑھیں مگر حکومت اب بھی صرف غربت میں کمی لانے کی بات نہیں کر رہی اور وزیر توانائی نے کہا ہے کہ بجلی صارفین کو غربت کی بنیاد پر ریلیف دینے پر کام ضرور ہو رہا ہے۔ حکومت صرف یہ کام ہی نہیں کر رہی بلکہ مسلسل بجلی کے نرخوں میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کرنے پر عمل کر رہی ہے اور 2.56 روپے فی یونٹ مزید بجلی مہنگی بھی کرنے کا ارادہ بھی رکھتی ہے۔ اب تو کچھ سینیٹر نے بھی غریبوں کی تائید کر دی ہے کہ بجلی نہ صرف انتہائی مہنگی ہے بلکہ ٹیرف بھی غیر منصفانہ بلکہ عوام پر ظلم کے مترادف ہے۔ موجودہ حکومت چار سال سے اقتدار میں ہے جس نے چار سال میں صرف پٹرول پر مشروط طور پر ہی ریلیف دیا ہے اور معاشی بدحالی کی بنیاد پر جو چار سال میں بھی پہلے جیسی ہی ہے نے پٹرولیم مصنوعات، بجلی و گیس کو اپنی آمدنی بڑھانے کا ذریعہ بنا رکھا ہے کیونکہ حکومت کو پتا ہے کہ مہنگائی و بے روزگاری تلے دبے عوام پاکستانی ہیں۔ ساٹھ پینسٹھ سالوں میں حکومتی فیصلوں کے خلاف فرانس کی طرح سڑکوں پر آ کر احتجاج نہیں کر رہے بلکہ اسے چھوڑ چکے ہیں اور اتنے خوفزدہ ہیں کہ کوئی ان کے لیے آواز بھی اٹھائے تو وہ اس کا ساتھ نہیں دیتے جس کا ثبوت پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کا احتجاج تھا مگر حکومتی وزراء نے آسرے میں رکھے بغیر صاف جواب دے دیا ہے کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات پر لیوی ختم تو کرنا دور کی بات کم بھی نہیں کرے گی جو 1.6 روپے لیٹر بنتی ہے مگر حکومت صرف 80 روپے فی لیٹر دے رہی ہے جب کہ جماعت اسلامی کا موقف ہے کہ لیوی آئی ایم ایف کی مقررہ حد سے زائد وصول کی جا رہی ہے جو بھتہ ہے مگر حکومت کو عوام کا کوئی احساس نہیں۔ حکومت نے 227 ارب روپے سے زیادہ لیوی وصول کر لی ہے۔ حکومت بھی چاہتی ہے کہ نجی شعبہ عوام کو ملازمتیں دے مگر صنعتکاروں کو حکومت کوئی سہولت نہیں دے رہی جس کے نتیجے میں ملک میں بڑی تعداد میں صنعتیں نہ صرف بند ہیں بلکہ حکومت کی غلط پالیسی کے باعث بیرون ملک منتقل ہو چکی ہیں جس سے بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔ اس لیے نجی شعبہ خود پریشان ہے اور صنعتکار حکمرانوں سے مایوس ہو چکا ہے حکومت نے شرح سود کم کرنے کی بجائے مزید بڑھا دیا ہے جسے صنعتکار مسترد کر چکے ہیں۔ جب ان کی صنعتیں ہی نہیں چل رہیں اور وہ مجبور ہو کر اپنے ملازمین کو فارغ کر رہے ہیں تو وہ کیسے ملازمتیں فراہم کر سکتے ہیں؟ انھوں نے ٹھیکہ نہیں لے رکھا یہ کام تو عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے کے دعویداروں کا ہے جو صاف کہہ چکے ہیں کہ وہ ملازمتیں نہیں دے سکتے۔ بے روزگاری اور بڑھتی غربت کو حکومت اپنی ذمے داری سمجھتی ہی نہیں تو ورلڈ بینک کی رپورٹ کو وہ کیوں اہمیت دے گی۔ غیر ہنرمند اور تعلیم سے محروم قانونی طور پر تو حصول روزگار کے لیے بیرون ملک جانے کا سوچ ہی نہیں سکتے مگر اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ہنرمند تقریباً انیس لاکھ پاکستانی ملک کو چھوڑ کر جا چکے جن کی سوچ یہ ہے کہ اگر وہ بیرون ملک کامیاب ہو گئے تو کبھی وطن واپس نہیں آئیں گے کیونکہ انھیں وطن میں اپنا مستقبل تاریک نظر آ رہا ہے۔ سرکاری سوچ یہ ہے کہ جو پاکستانی باہر جا کر واپس نہیں آئیں گے تو کیا ہوا، جن کے خاندان یہاں ہیں اور انھوں نے بمشکل اپنے پیاروں کو بڑی رقم خرچ کرکے بیرون ملک بھیجا ہے ظاہر ہے وہ وہاں سے اپنوں کے لیے رقم ضرور بھیجیں گے جس سے حکومت کو زرمبادلہ ہی حاصل ہوگا۔ سوشل میڈیا کے مطابق ملک کی اکثریت باہر جانا تو چاہتی ہے مگر جا نہیں سکتی۔ یہاں رہنا ان کی مجبوری ہے تو حکومت نے عوام پر مزید مہنگائی بڑھانا اپنی مجبوری بنا رکھی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل