Loading
پاکستان کو جہاں مختلف نوعیت کے داخلی چیلنجز درکار ہیں وہیں ان چیلنجز کی ایک بڑی نوعیت علاقائی سیاست یا علاقائی ممالک سے بھی جڑی ہوئی ہیں۔ ایک عمومی رائے یہ ہی ہے کہ اگر آپ داخلی سطح پر مضبوط ہوں تو پھر بطور ریاست علاقائی اور عالمی سطح پر موجود چیلنجز کا مقابلے کی صلاحیت پیدا کرسکتے ہیں۔لیکن کیونکہ ہمارے داخلی مسائل جن میں معیشت کے خراب حالات، گورننس کے مسائل ہوں یا عسکریت پسندی اور دہشت گردی کی موجودگی میں علاقائی مسائل کی اہمیت اور حساسیت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔اس وقت پاکستان کو اگر دیکھیں تو بڑے چیلنجز بھارت اور افغانستان سے درپیش ہیں۔
اس اہم وقت میں ہمارے علاقائی تعلقات کی بڑی خرابی براہ راست بھارت اور افغانستان سے جڑی ہوئی ہے۔کیونکہ بھارت اور افغانستان میں جو باہمی تعلق پاکستان مخالفت کی بنیاد پر قائم ہوا ہے یا جو ہمیں بھارت کی حمایت کے ساتھ افغانستان میں اپنے خلاف پراکسی جنگ کا سامنا ہے اس نے نہ صرف ہمارے ملک میں بلکہ خطہ کی مجموعی صورتحال میں دہشت گردی کے سائے بڑھا دیے ہیں۔یہ جو پاکستان میں دہشت گردی کی صورت میں ہو رہا ہے اس کے تانے بانے بھارت اور افغانستان سے ہی جڑتے ہیں۔
افغان طالبان حکومت پاکستان سے اپنے تعلقات کی بہتری میں وہ موثر کردار ادا نہیں کررہی جو دونوں ملکوں کی ضرورت بنتا ہے۔اس میں ایک بڑا مسئلہ افغان طالبان حکومت کی عملًا ٹی ٹی پی کی حمایت ہے۔پاکستان کے ٹی ٹی پی پر تمام تر تحفظات اورٹی ٹی پی کے خلاف دیے جانے والے شواہدکے باوجود افغان حکومت ان کو روکنے اور لگام دینے کے لیے تیار نہیں۔حالانکہ ایک سے زیادہ مرتبہ افغان حکومت ہمیں، عالمی اور علاقائی ممالک کو یہ یقین دہانی کرا چکی ہے کہ افغان سرزمین کسی بھی صورت میں پاکستان کے خلاف دہشت گردی میں استعمال نہیں ہوگی۔قطر،ترکیہ،سعودی عرب،چین کی طرف سے افغان طالبان اور پاکستان کے درمیان مفاہمت کی سجائی جانے والی بیٹھک کا بھی ابھی تک کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکل سکا۔اس کی ایک وجہ افغان طالبان کا سخت رویہ ہے جو ٹی ٹی پی کے بارے میں انھوں نے اختیار کیا ہوا ہے۔
اصل میں افغان طالبان سمجھتے ہیں کہ ٹی ٹی پی کی عملی موجودگی اور سرپرستی ان کو داعش سے نمٹنے میں مدد دے سکتی ہے اور اگر ہم نے ٹی ٹی پی کی حمایت چھوڑی تو یہ گروہ ہمارے خلاف داعش کی حمایت میں کھڑا ہوسکتا ہے۔دوسری وجہ بھارت کا مجموعی رویہ ہے جس کا افغان طالبان کارڈ کھیل کر پاکستان کی داخلی سیاست کی سطح پر اپنا دباؤ بڑھا رہے ہیں۔
بھارت سمجھتا ہے کہ افغان طالبان کی حمایت اس کی کنجی کی حیثیت رکھتی ہے۔بھارت کو دفاعی محاذ پر پاکستان سے جس ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ،اس سے بھارت کو اپنی داخلی بلکہ عالمی سطح پر کافی سبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔بھارت کی اس جنگی مہم جوئی کا پاکستان کو بہت فائدہ ہوا اوربھارت اس کا بدلہ بھی لینا چاہتا ہے۔بھارت سے تعلقات کی خرابی میں ہمیں سیکیورٹی،معیشت، پانی اور سفارتی تعلقات متاثر کرتے ہیں۔اسی طرح افغانستان سے ہمیںدہشت گردی،سرحدی جھڑپیں،فضائی حملے، سرحدی بندش اور تجارت کا تعطل سمیت ڈورنڈ لائن کا تنازعہ بھی موجود ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم علاقائی سطح پر موجود چیلنجز سے کیسے نمٹ سکتے ہیں اور ہماری سیاسی اور سفارتی حکمت عملی کیا ہونی چاہیے۔بنیادی مسئلہ تو افغانستان سے سفارتی سطح پر مذاکرات کی بحالی اور اعتماد سازی کو بحال کرنے سے جڑا ہوا ہے۔افغان حکومت کو ہی باور کروانا ہوگا کہ وہ ٹی ٹی پی کی سرپرستی سے خود کو علیحدہ کرے اور اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی میں استعمال نہ ہونے دے اور اس پر دونوں ممالک کے درمیان دہشت گردی کے خاتمے یا معلومات کے تبادلے اور معاونت کے لیے مشترکہ میکنزم بنائیں اور اس پر دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کریں۔کیونکہ دہشت گردی کے خاتمے سے ہی اس خطہ میں سیاسی،معاشی،سیکیورٹی اور تجارتی مسائل حل ہوسکتے ہیں۔اس کام میں پاکستان کو مختلف ممالک کی ضرورت ہے جو پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑی ثالثی کا کردار ادا کرسکیں۔
ان میں چین ،قطر،ترکیہ اور سعودی عرب جیسے ممالک ہوسکتے ہیں۔کیونکہ اس وقت پاکستان اور افغانستان کے درمیان جہاں بڑا ڈیڈ لاک ہے وہیں بداعتمادی کا ماحول ایسے میں ثالثی کی حکمت عملی میں کارگر نہیں ہوسکتا ہے۔پاکستان کو ان ثالث ممالک کی مدد سے افغانستان کو یہ باور کروانا ہوگا کہ وہ مشترکہ سرحدی مینجمنٹ،انٹیلی جینس شیرنگ اور ٹی ٹی پی کے خلاف ٹھوس اقدامات اٹھائے۔یہ ہی صورتحال ہمیں بھارتی حکومت کے ساتھ بھی درپیش ہے۔ان میںکشمیر تنازعہ،انڈس واٹر ٹریٹی کی معطلی،تجارتی بندش اور فوجی سطح پر محاذ آرائی شامل ہیں۔اسی طرح جو کچھ بلوچستان میں ہورہا ہے یا وہاں جس طرح سے علیحدگی پسندوں کی بھارت کی جانب سے حمایت کی جارہی ہے وہ بھی ہمارے یہاں دہشت گردی کو فروغ دینے کا سبب بن رہی ہے۔ اگرچہ ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ بلوچستان اور خیبر پختون خواہ میں ہونے والی دہشت گردی کے بہت سے معاملات ہماری علاقائی سیاست سے جڑے ہوئے ہیں۔
بلوچستان و خیبر پختون خواہ میں سیاسی سطح پر اختیار کی جانے والی سیاسی حکمت عملیوں اور حکومت سمیت مقامی لوگوں میں سیاسی تقسیم بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔ایک حل طاقت کی بنیاد پر دہشت گردی سے نمٹنے کا ہے اور دوسرا حل ساتھ ساتھ سیاسی حکمت عملی کا ہے۔یہ دونوں حکمت عملیاں ساتھ ساتھ ہی چلانی ہوگی تاکہ بہتر نتائج حاصل ہوسکیں۔فوجی آپریشن کی اپنی اہمیت ہوتی ہے لیکن اگر ہم سیاسی حکمت عملی کو نظر انداز کرکے آگے بڑھنے کی کوشش کریں گے تو مثبت نتائج پیچھے رہ جاتے ہیں۔یہ لڑائی اس لیے بھی ختم ہونی چاہیے کہ یہ دہشت گردی کا عمل ہماری مجموعی معیشت کو بھی متاثر کرتا ہے۔اسی طرح ہمیں چین کے ساتھ اپنے سیکیورٹی تعاون کو مضبوط کرنا ہے تو دوسری طرف ہمیں ایران کے ساتھ مل کر بلوچ مسلح گروہوں کے خلاف مشترکہ کارروائی کی حکمت عملی بھی تیار کرنا ہوگی۔ساتھ ساتھ ہمیں ایران کے ساتھ تجارتی اور سرحدی مسائل کا حل بھی تلاش کرنا ہے۔
پاکستان کا ایک بڑا مسئلہ علاقائی سیاست میںخود کو معیشت کی ترقی اور تعلقات یا سرمایہ کاری کے ساتھ جوڑنا ہے۔کیونکہ یہ جو ہمیںاس وقت عالمی دنیا میں سفارتی محاذ پر پذیرائی ملی ہے اور ہمیں اس پر خوش بھی ہونا چاہیے۔لیکن اگر ہم اپنی اس سفارتی کامیابیوں کو معاشی ترقی سے نہ جوڑ سکے تو یہ بڑی ناکامی ہوگی۔ہم نے اپنی نیشنل سیکیورٹی پالیسی میں جہاں جیو پالیٹکس یا جیو سیکیورٹی کو اہمیت دی تھی وہیں ہمارا ایک بڑا نقطہ جیو معیشت اور انسانی ترقی سے جڑا ہوا ہے۔اس لیے ہمیں اپنی نیشنل سیکیورٹی کے تناظر میں اپنی پہلے سے طے شدہ پالیسی کے فریم ورک پر توجہ دینی ہوگی۔آج کی دنیا میں جنگیں ہتھیاروں کی مدد سے بھی لڑی جاتی ہیں لیکن اب اس کی توجہ کا بڑا محاذ سفارت کاری ہے۔
اس لیے ہمیں اپنے مسائل کے حل کے لیے عالمی اور علاقائی سطح پر سفارت کاری کے محاذ پر خود کو زیادہ سرگرم کرنا ہوگا۔بالخصوص جو بھی عالمی اور علاقائی سطح پر مختلف نوعیت کے فورمز ہیں ان سے ہمیں اپنے دوست ممالک کی مدد سے ہر سطح پر استفادہ کرنا چاہیے اور اپنے پارلیمانی فورمزکا بھی استعمال کیا جانا چاہیے۔
ہمیں بھارت کے مقابلے میں علاقائی سیاست میں اپنا کردار اگر بڑھانا ہے یا اس میں اپنا توازن قائم رکھنا ہے تو ہمیں خطہ میں شامل دیگر ممالک کو اپنے ساتھ کھڑا کرنا ہوگا۔اسی طرح یہ بیانیہ بھی ہمیں عالمی اور علاقائی سیاست میں برقرار رکھنا ہے کہ ہماری پالیسی بھارت اور افغانستان سے دشمنی پر مبنی نہیں۔ہم ان ممالک سے بھی دیگر ملکوں کی طرح بہتر تعلقات چاہتے ہیں لیکن ان دونوں ممالک کی پالیسی اور سوچ ہم سے بہتر تعلقات کی بجائے ہمیں کمزور رکھنے کی ہے۔پاکستان کو عالمی سیاست میں یہ باور کروانا ہوگا کہ ہم خطہ میں امن کی سیاست اور معیشت سمیت سیکیورٹی کے بہتر حالات چاہتے ہیں۔کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ اگر خود پاکستان نے ترقی کرنی ہے یا خود کو محفوظ بنانا ہے تو وہ پرامن خطہ کی سیاست سے ہی جڑا ہوا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل