Loading
دنیا کے امیر ترین کاروباری شخص ایلون مسک نے امریکی وسط مدتی انتخابات میں صدر ٹرمپ کے امیدواروں کی حمایت کے لیے تقریباً 44 کروڑ 60 لاکھ ڈالر خرچ کردیے۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق امریکی انتخابات پر مجموعی اخراجات تقریباً 12 ارب ڈالر تک پہنچنے کا تخمینہ ہے جو ملکی تاریخ میں کسی بھی وسط مدتی انتخابی مہم کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہیں۔
امریکی انتخابی کمیشن میں جمع کرائی گئی دستاویزات کے مطابق ایلون مسک کی جانب سے فراہم کی گئی رقم کا بڑا حصہ ان کے اپنے قائم کردہ سیاسی فنڈ امریکا پی اے سی اور ریپبلکن امیدواروں کی حمایت کرنے والے دیگر سیاسی گروہوں کو ملا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایلون مسک نے سب سے زیادہ مالی معاونت ٹیکساس کے سینیٹ انتخاب میں کی جہاں ریپبلکن امیدوار کین پیکسٹن کا مقابلہ ڈیموکریٹ امیدوار جیمز ٹالاریکو سے ہے۔
ایلون مسک کے قائم کردہ سیاسی گروپ نے اس انتخابی مقابلے میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر سے زیادہ خرچ کیے ہیں۔
امریکی انتخابی مہم میں بڑے عطیہ دہندگان کی مجموعی مالی معاونت بھی ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہے جن میں ایلون مسک کے علاوہ جارج سوروس اور مائیکل بلومبرگ سمیت کئی ارب پتی شخصیات شامل ہیں۔
واضح رہے کہ انتخابی اخراجات کا بڑا حصہ ٹیلی وژن اشتہارات، انٹرنیٹ مہمات، جلسوں اور ووٹروں تک رسائی کی سرگرمیوں پر خرچ کیا جا رہا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل