Tuesday, November 03, 2026
 

کراچی کے اسٹریٹ کرائم میں 14 فیصد کمی آگئی، آئی جی سندھ

 



آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ دنیا میں کوئی بھی پولیس عوام کے تعاون کے بغیر پولیسنگ نہیں کرسکتی، کراچی میں آسمانوں کو چھونے والے جرائم کو نیچے لانے میں تاجروں کا کردار اہم ہے، رواں سال اسٹریٹ کرائم میں 14فیصد کمی آئی ہے۔ یہ بات انہوں نے منگل کو سی پی کے، کے تحت کمیونٹی پولیسنگ کی افادیت کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ آئی جی سندھ نے بتایا کہ 2012ء میں جب ڈی آئی جی تھا اس وقت اسٹریٹ کرائم کی بات ہی نہیں ہوتی تھی، آج فخر کی بات ہے بیرون ملک سے آرٹسٹ کراچی آ کر ٹھہرے اور آرٹ کی ترویج کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں پہلے 32 ہزار کیمرے تھے، سی پی کے سے مل کر 2 سے 3 سال میں تعداد 40 ہزار کر دی ہے، کیمروں سے جرائم اور سماجی واقعات کی پکڑ ہو رہی ہے، گاڑیاں چھیننے والے زیادہ تر کیمروں یا مقابلوں میں پکڑے جا رہے ہیں، سی پی کے سینٹرز کو کمیونٹی سینٹرز بنانے کی تجویز پر غور کریں گے، جوڈیشل مجسٹریٹ اس کی قیادت کریں تاکہ گھریلو مسائل وہیں حل ہوں کیونکہ یہی مسائل قتل اور دیگر جرائم کی طرف جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں گھریلو ملازماؤں کی شکل میں کرمنل شامل ہو گئی ہیں، ایک ملزمہ نے اکیلی 18 ڈکیتیاں کروائیں۔ کراچی میں 42 ہزار اہلکار ہیں، 60 ہزار کی ضرورت ہے جو تعلیم و ٹیکنالوجی سمجھتے ہوں۔ پورے سندھ میں ڈکیتی مزاحمت پر قتل میں 17 فیصد اور زخمی ہونے میں 32 فیصد کمی آئی ہے۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی آزاد خان نے کہا کہ کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، اس کی پولیسنگ ہمارے لیے چیلنج ہے جو آپ کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔ کراچی کی بزنس کمیونٹی اپنی ذمہ داری بھرپور طریقے سے ادا کرتی ہے، سی پی کے منصوبوں کو مزید آگے بڑھنا چاہیے۔ انہوں نے بتایا اسٹریٹ کرائم میں 15 فیصد، قتل اور دیگر سنگین جرائم میں 32 فیصد، گاڑیاں چھیننے میں 15 فیصد، ڈکیتی مزاحمت پر قتل میں 89 فیصد اور زخمی ہونے میں 80 فیصد کمی آئی ہے۔ کراچی میں مزید کیمروں کی ضرورت ہے، کوشش ہے کمیونٹی پولیسنگ کے کیمرے سیف سٹی سے لنک ہوں۔ سی پی کے پیٹرن انچیف مراد علی سونی نے کہا کہ شہر میں چھوٹے تاجروں کی 70 تنظیمیں سرگرم ہیں جنہیں کمیونٹی پولیسنگ کی افادیت سے آگاہی کے لیے مدعو کیا ہے۔ جب تک تاجر برادری کراچی کی اونرشپ نہیں لے گی شہر تبدیل نہیں ہوگا۔ سی پی کے نے 18 تھانوں کی حدود میں 2 ہزار کیمرے نصب کیے ہیں، 600 پائپ لائن میں ہیں، یہ ایک تحریک ہے جس کا مقصد شہر کو پرامن اور سرسبز بنانا ہے۔ جدید کیمرے 2 کلومیٹر تک کوریج دیتے ہیں، ہم پچھلے 30 سال سے سندھ پولیس کے ساتھ ہیں۔ تاجر تنظیمیں اپنی مارکیٹوں میں کم از کم 50 کیمرے لگا کر کنٹرول متعلقہ تھانوں کو دیں۔ ہمارا گرین پراجیکٹ شہر کو کنکریٹ سے نکال کر سرسبز بنانے کی کوشش ہے، خواتین کو بااختیار بنانے پر توجہ ہے، سی پی کے ہیلتھ کے تحت جیلوں میں قیدیوں کو مفت ادویات اور صاف پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔ صدر کراچی چیمبر طلعت محمود نے کہا شہر کی اونرشپ کے لیے کراچی چیمبر اپنی ذمہ داریاں بھرپور طریقے سے پوری کرے گا۔ پولیس کی افرادی قوت 2 کروڑ کے حساب سے تھی، آبادی سوا تین کروڑ ہو گئی لیکن تعداد نہیں بڑھی۔ ہمارا فرض ہے پولیس کا ساتھ دیں، جہاں ضرورت پڑے گی ساتھ دیں گے، شہریوں کی حفاظت کے لیے جو ضروری ہے ہم سب مل کر کریں گے۔ پرنسپل سیکرٹری گورنر سندھ ڈاکٹر سیف الرحمان نے کہا کہ آئی جی ایک درخت ہیں جنہوں نے سی پی کے کو پوری طرح اپنی آغوش میں لیا ہے، تاجر پولیس کا ساتھ دیں اور درخواست پر عمل کریں۔ سی ای او انڈس اسپتال ڈاکٹر عبدالباری خان نے کہا کہ 30 فیصد مریض منشیات اور اسٹریٹ کرائم کے سبب لائے جاتے ہیں۔ ریسرچ کے مطابق سرسبز علاقوں میں لڑائی اور جرائم کم ہوتے ہیں، جہاں صفائی ہوگی وہاں بیماریاں کم ہوں گی۔ انڈس اسپتال کا منصوبہ 5 دوستوں نے شروع کیا، سی پی کے مراد سونی نے شروع کیا۔ ہر 600 افراد پر ایک سپاہی ہے، عوام کے بغیر پولیس ناممکن ہے۔ سیکرٹری کراچی پریس کلب اسلم خان نے کہا کہ شہر کو محفوظ بنانے کے لیے ہر فرد کو کردار ادا کرنا ہوگا، تاجر برادری نے ہمیشہ ساتھ دیا، تاجر برادری پولیس کی مدد فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور ان کے تعاون سے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔ آباد کے سینئر وائس چیئرمین دانش بن روف نے کہا کہ محنت اتنی خاموشی سے کرو کہ کامیابی شور مچائے، مراد سونی نے ایسا ہی کام کیا ہے۔ آباد نے یکم اکتوبر سے شہر کو سرسبز بنانے کا پراجیکٹ شروع کیا ہے، ہزار گز کی منظوری پر ایک لاکھ روپے مالیت کے درختوں کے لیے فنڈز لیے جائیں گے، مطلوبہ فنڈز جمع ہونے پر شجر کاری مہم شروع کی جائے گی، ہر فرد ذمہ داری پوری کرے تو شہر بہتر بن سکتا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل