Loading
امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ریاست کیلیفورنیا میں تقریباً 20 ہزار مشتبہ غیر امریکی شہریوں کے ڈاک کے ذریعے ڈالے گئے ووٹ الگ رکھنے اور ان کی گنتی روکنے کی درخواست مسترد کردی۔
برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق امریکی محکمہ انصاف نے دعویٰ کیا تھا کہ کیلیفورنیا کی ووٹر فہرست میں تقریباً 20 ہزار ایسے افراد شامل ہیں جو امریکی شہری نہیں لیکن انہیں انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے لیے ڈاک کے ذریعے بیلٹ بھیجے گئے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے ریاستی انتخابی حکام کو ہدایت دی تھی کہ ان افراد کے ووٹ الگ رکھے جائیں اور شہریت کی تصدیق ہونے تک ان کی گنتی نہ کی جائے۔ حکام کو اس فہرست کی جانچ کے لیے 48 گھنٹے دیے گئے تھے تاہم کیلیفورنیا انتظامیہ نے اس مطالبے کو مسترد کردیا تھا۔
جس کے بعد اس معاملے پر وفاقی عدالتوں میں قانونی جنگ شروع ہوگئی۔ پہلے نچلی عدالتوں نے بھی ٹرمپ انتظامیہ کی درخواستیں مسترد کردی تھیں۔
کیلیفورنیا حکام کا مؤقف تھا کہ وفاقی حکومت کی فراہم کردہ فہرست میں غلطیاں ہوسکتی ہیں اور اس بنیاد پر ووٹ روکنے سے اہل شہریوں کا حق متاثر ہوسکتا ہے۔
سپریم کورٹ نے پیر کو ہنگامی درخواست مسترد کردی، تاہم اپنے مختصر حکم میں فیصلے کی وجوہات بیان نہیں کیں اور کسی جج نے اختلافی نوٹ بھی جاری نہیں کیا۔
واضح رہے کہ یہ فیصلہ امریکی وسط مدتی انتخابات سے عین ایک روز قبل سامنے آیا اور انتخابی معاملات میں وفاقی حکومت اور ریاستی انتظامیہ کے اختیارات کی کشمکش کو نمایاں کرتا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل