Loading
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دلچسپ بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکی عوام ان سے تنگ آگئے تو وہ اسرائیل منتقل ہوکر وہاں وزارت عظمیٰ سنبھال سکتے ہیں جہاں ان کے بقول مقبولیت کی شرح 99 فیصد ہے۔
امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات میں اپنی جماعت ری پبلکنز کی شکست پر بھی گفتگو کی اور تسلیم کیا کہ ایران کے خلاف جنگ انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونے والی بڑی وجوہات میں شامل تھی۔
تاہم امریکی صدر نے ایران کے خلاف جنگ کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور اس معاملے پر ان کی حکومت کا مؤقف تبدیل نہیں ہوگا۔
خیال رہے کہ امریکا میں 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں برتری حاصل کرکے صدر کے لیے سیاسی مشکلات بڑھا دی ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر کی طرف سے اسرائیل کے لیے چار ارب ڈالر کی فوجی امداد بند کرنے کے اعلان پر اسرائیلی سیاسی حلقوں میں تشویش پائی جارہی ہے۔
اسرائیلی اپوزیشن نے اس فیصلے کو بڑا نقصان قرار دیتے ہوئے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے استعفے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
امریکی انتخابات کے نتائج کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں اور مشرق وسطیٰ سے متعلق فیصلوں پر سیاسی دباؤ میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل