Wednesday, November 04, 2026
 

اپوزیشن کی باہمی اختلافات ختم کرنے کیلئے کمیٹی قائم

 



جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اپوزیشن کے اجلاس کے بعد قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی اور علامہ راجا ناصر عباس اور دیگر کے ہمراہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کا مشاورت کے عمل کو مزید آگے بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے اور باہمی اختلافات کو دور کرنے کے لیے کمیٹی بنا دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گورنر راج سمیت ایمرجنسی پر قوم کی نمائندگی کی ہے اور قومی امانت کی بات کی ہے، گوادر پر نظریں ہیں وفاق کے ماتحت لایا جائے، کوسٹل بلٹ سمیت سندھ کے جزیروں کو وفاق کے ماتحت لانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ فاٹا انضمام کی ہم نے مخالفت کی اب وسائل کا کھیل کھیلا جا رہا ہے، فاٹا انضمام بھی ان کا نعمت عظمیٰ تھا اب خاتمہ بھی نعمت ہے۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے بتایا کہ آج ہم مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے لیے آئے تھے اور اس ملاقات کا مقصد یہ ہے کہ ایک اتحاد قائم کیا جائے جس سے پارلیمنٹ کو مضبوط کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم مولانا فضل الرحمان کی کردار کشی کرنے کی مذمت کرتے ہیں، ہم مولانا فضل الرحمان کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کی کردار کشی کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ اے پی سی کے حوالے سے کمیٹی بنائی گئیہے اور  اسی ماہ اجلاس ہوگا، جمعیت علمائے اسلام اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان اتفاق رائے کے لیے ایک کمیٹی بنی ہے، پاکستان بھر میں اتحاد قائم کیا ہے اور متفقہ مزاحمت کریں گے۔ پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ پرسوں کی میٹنگ میں بانی نے بتایا ہے کہ ان کا بلڈ پریشر 192 تک گیا ہے، ان کے ذاتی معالجین کو ان تک رسائی نہیں دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانی چئیرمین پی ٹی آئی کی جان کی حفاظت ہمارا قومی فریضہ ہے، مولانا کا شکریہ ادا کرتا ہوں جس طرح انہوں نے گورنر راج کے خلاف آواز اٹھائی ہے، ہم نے اس کے خلاف بطور قوم کھڑا ہونا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرف اے پی سی ہمارا پہلا قدم ہو گا، پی ٹی آئی اور جمعیت علمائے اسلام اکھٹے بیٹھے گی، ایک کمیٹی تیار کی گئی ہے جو دونوں جماعتوں کے معاملات دیکھے گی، اب وقت ہے کہ اس ملک کو بچائیں، جس طرح خیبرپختونخوا میں چار ساڑھے چار لوگوں کا مینڈیٹ چوری ہوا ہے، ہمارا ارادہ ہے کہ یہ جنگ ہم مل کر لڑیں گے۔ علامہ ناصر عباس نے کہا کہ یہ سسٹم جب سے آیا ہے اس کی پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی ہے، انہوں نے الیکشن لوٹا اور عدلیہ کی آزادی پر حملہ آور ہوئے، خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی لگائی اور عوام کو کہا مینڈیٹ نہیں مانتے، جس ملک میں ادارے نہ رہیں تو وہ تباہی کا شکار ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے پی سی کی کمیٹی میں عامر ڈوگر، کامران مرتضیٰ، سلمان اکرم راجا اور مصطفیٰ کھوکھر ہیں۔ علامہ راجا ناصر عباس نے کہا کہ بانی چئیرمین پی ٹی آئی کی صحت بہت اہم ہے، مجھے یقین ہو گیا ہے کہ بانی چئیرمین پی ٹی آئی کی جان کو خطرہ ہے، اگر انہیں کچھ ہوتا ہے تو موجودہ حکومت کے سارے لوگ اس کے ذمہ دار ہوں گے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل