Loading
مڈٹرم امریکی انتخابات پر ساری دُنیا کی نظریں لگی ہُوئی تھیں ۔3نومبر کو یہ انتخابات ہُوئے ۔ اب تک جو اکثریتی انتخابی نتائج سامنے آ ئے ہیں ، ان سے عیاں ہو گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور اُن کی مقتدر جماعت ، ری پبلکنز، ہار چکے ہیں اور اُن کی حریف پارٹی ، ڈیمو کریٹ، اکثریتی طور پر جیت چکے ہیں ۔ بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ امریکہ میں گدھوں نے ہاتھیوں کو روند ڈالا ہے کہ ڈیمو کریٹس کا انتخابی نشان ’’گدھا‘‘ ہے اور ری پبلکنز کا ’’ہاتھی ۔‘‘ امریکی کانگریس اور سینیٹ پر ڈیموکریٹس کا غلبہ ہو چکا ہے۔ شکست کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کی پریشانیاں دیدنی ہیں ۔
مڈ ٹرم انتخابات سے قبل ہی کہا جارہا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور اُن کی پارٹی کے فتحیاب ہونے کے امکانات کم کم ہیں ۔ ہُوا بھی ایسا ہی ۔ راقم نے بھی (2نومبرکو) اِنہی صفحات پر جو کالم رقم کیا، اِس میں امریکیوں کی آرا، امریکی سرویز اور امریکی میڈیا کے تجزیات کی اساس پر جو اندازاً اور قیاساً کالم لکھا ، اِس میں بھی یہ پیشگوئی کی تھی کہ ٹرمپ کی شکست نوشتہ دیوار بن چکی ہے ۔اب تجزیئے کیے جا رہے ہیں کہ3نومبر کو ٹرمپ اور ہاتھیوں کی شکستِ فاش میں کن بڑے محرکات نے مرکزی کردار ادا کیا ہے ؟ اِس امر پر تقریباً سبھی کا اتفاق ہے کہ5بڑے افعال نے ٹرمپ کو ہروا دیا (۱)ٹرمپ کی امریکی مسلمانوں و عالمِ اسلام کے خلاف حد درجہ بڑھی جارحانہ اور غیر محتاط زبان (۲)ٹرمپ کی جانب سے امریکی میڈیا کی بار بار توہین (۳) ایران ، امریکی جنگ میں امریکی ہزیمت (۴) امریکی ووٹروں سے ٹرمپ کی وعدہ شکنیاں (۵)عام امریکی شہری پر مہنگائی کا کمر توڑ بوجھ !!
تازہ ترین مڈٹرمی شکست کے بعد خود ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے :’’ایران سے جنگ اور امریکہ میں مہنگائی نے ری پبلکنز کو شکست دے ڈالی ہے۔‘‘ یہ اعترافِ شکست مگر مکمل نہیں ہے ۔ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے دوسرے دَورِ صدارت کے مڈ ٹرم انتخابات میں (3نومبر2026کو) جو عبرتناک شکست ملی ہے ، اِس میں اُن کی بے لگام بد احتیاطیوں نے اساسی کردار ادا کیا ہے۔ اُن کی مقتدر زبان امریکی مسلمانوں اور عالمِ اسلام کے بارے جو شعلہ فشانیاں کرتی رہی ، اِس نے بھی اُن کی شکستِ فاش میں ایک کردار ادا کیا ہے۔ بجا کہا جا سکتا ہے کہ امریکی مسلمان اور مجموعی طور پر عالمِ اسلام اُن کی مڈ ٹرمی انتخابی شکست پر دل کی گہرائیوں سے مطمئن اور خوش ہیں۔
اُن کے دل آزار بیانات سے یوں لگتا تھا جیسے امریکہ اور مغربی ممالک میں( کامیاب) مسلمانوں کا وجود ٹرمپ کو بُری طرح کھٹکتا ہے ۔مثال کے طور پر اکتوبر2026ء میںفرانس میں اچانک مہلک ہنگامے پھوٹ پڑے تو ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی مسلم دشمنی سے مغلوب ہو کر بیان دیا:’’یہ سب کیا دھرا فرانسیسی امیگرنٹ مسلمانوں کاہے ۔‘‘ لیکن شکر ہے کہ فرانسیسی صدر،ایما نویل میکرون، نے ٹرمپ الزام کی تردید کر دی۔ ٹرمپ نے لندن کے مسلمان میئر صادق خان ( جو تین بار لندنی میئر منتخب ہو کر تاریخ رقم کر چکے ہیں) اور رواں سال ہی بھاری اکثریت سے منتخب ہونے والے نیویارک کے مسلمان میئر، زہران ممدانی ، کے خلاف سخت دل آزار بیانات کے گولے داغے اور بار بار اِس کا ارتکاب کر کے بھی مسلم عناد کا ثبوت دیا۔ یوں لگتا تھا جیسے لندن اور نیویارک کے مسلمان میئرز سے ٹرمپ کی کوئی ذاتی دشمنی ہے ۔ٹرمپ نے تو نیویارک کے میئر ، زہران ممدانی، کی انتخابی راہ میں کئی بار کئی روڑے بھی اٹکائے ، مگر ناکام رہے ۔اب نیویارک ریاست میں بھی ٹرمپ کا حریف جیت گیا ہے ۔ یہاں بھی گدھے نے ہاتھی کو پچھاڑ ڈالا ہے ۔
ڈونلڈ ٹرمپ کو یقین تھا کہ وہ امریکی امیگرنٹ مسلمانوں کی مخالفت اور عالمِ اسلام کی توہین کرکے سفید فام امریکی شہریوں کی انتخابی محبتیں جیت لے گا اور یوں 3نومبر کے مڈٹرم انتخابات میں کامیابی سے ہمکنار ہو جائے گا۔ ٹرمپ کی یہ اسٹریٹجی حسبِ خواہش فتحیاب نہ ہو سکی۔ مڈٹرم انتخابات میں 11مسلمان کانگریس کا انتخاب لڑ رہے تھے۔ اِن میں سے نصف مسلمان کامیاب ہُوئے ہیں ۔ یہ عظیم المرتبت کامیابی ہے اور امریکی مسلمانوں کے لیے باعثِ فخرو اعزاز بھی۔ مڈٹرم الیکشن سے قبل ٹرمپ نے ریاست مینی سوٹا سے منتخب ہونے والی سابقہ مسلمان رکنِ پارلیمنٹ الہان عمر( جو صومالی نژاد مسلمان ہیں اور حجاب پہنتی ہیں)کی جس طرح بار بار لفظی توہین کی ، یہ اپنے تئیں خود ایک شرمناک مثال تھی۔ ٹرمپ کی کوشش تھی کہ الہان عمر دوبارہ رکنِ کانگریس منتخب نہ ہو سکیں ۔
ٹرمپ نے بہانے سے الہان عمر کے گھر بے جا پولیس چھاپہ بھی مروایا، اُنہیں صومالیہ ڈی پورٹ کرنے کی غیر آئینی دھمکی بھی دی ، لیکن اِن تمام غیر اخلاقی و غیر قانونی اقدامات کے باوجود ڈیمو کریٹ الہان عمر دوبارہ جیت گئی ہیں ۔ اِسی طرح ریاست مشی گن سے ڈیمو کریٹ مسلمان ،رشیدہ طلیب، بھی دوبارہ جیت گئی ہیں۔ وہ فلسطینی نژاد مسلمان امیگرنٹ ہیں ۔انڈیانا سے سیاہ فام نَو مسلم، آندرے کارسن، بھی منتخب ہُوئے ہیں اور تیسری بار جیتنے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔ امریکی سینیٹ میں پہلی بار ایک مصری نژاد مسلمان، ڈاکٹر عبدالرحمن السید، نے منتخب ہونے کا اعزاز حاصل کیا ہے ۔
مڈٹرم انتخابات میں اقتدار پر فائز ری پبلکنز اور ٹرمپ کی شکست پر ایران اور ایرانی قیادت بے حد خوش ہے ۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر ، باقر قالیباف ، نے اِس شکست پر فوری طور پر جو بیان دیا ہے ، وہ پورے ایران کے جذبات کی ترجمانی کررہا ہے۔ ایران بجا طور پر سمجھتا ہے کہ اُس پر مسلّط کی گئی مشترکہ اسرائیلی و امریکی جنگ میں ایرانی استقامت و جوابی کارروائیوں نے ٹرمپ کو اِس انجام تک پہنچایا ہے۔ یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ ٹرمپ کا صہیونی اسرائیل سے گہرا یارانہ ، صہیونی اسرائیل کا ہر طور تحفظ اور صہیونی اسرائیلی وزیر اعظم ،نیتن یاہو، کے مہلک مشوروں پر بِلا دریغ عمل کرنا بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے گٹوں گوڈوں میں بیٹھ گیا ہے ۔ غزہ کے ہزاروں مسکین ، غریب اور لا چار فلسطینیوں کو صہیونی اسرائیل نے جس طرح بے دریغ قتل کیا ہے اور ٹرمپ نے آنکھیں بند کرکے جس بیدردی سے صہیونیوں کا ساتھ دیا، اِس عنصر نے بھی ٹرمپ کو یہ روزِ بد دکھایا ہے ۔ ٹرمپ نے وینزویلا کے تیل ذخائر پر قبضہ کرکے اور وینزویلا کے صدر اور اُن کی اہلیہ کو گرفتار کرکے امریکی قید میں ڈال کر سوچا تھا کہ امریکی شہری اِس غاصبانہ اقدام کی سراہنا کریں گے اور اُنہیں مڈٹرم انتخاب میں اُن کی دستگیری بھی کریں گے، مگر یہ خیال بھی خام ہی ثابت ہُوا ہے۔ امریکیوں نے مڈٹرم انتخابات میں برتر اخلاقی برتاؤ کرکے ہاتھیوں کو گدھا بنا دیا۔ ٹرمپ کے ہاتھی دراصل پورس کے ہاتھی ثابت ہُوئے ہیں ۔
ڈونلڈ ٹرمپ پچھلے دو برس سے جس اسلوب میں مخالف امریکی میڈیا اور مخالف امریکی صحافیوں کی برسر مجلس توہین کرتے چلے آ رہے تھے ، مڈ ٹرم الیکشن کے دوران امریکی صحافیوں نے دل کھول کر ٹرمپ سے اپنی توہین کا بدلہ لیا ہے ؛ چنانچہ بعد از شکست ٹرمپ نے وائیٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہُوئے ممتاز و معروف امریکی میڈیا، FOX Newsبارے شکوہ کرتے ہُوئے کہا:’’اِس نے مڈ ٹرم انتخابات کے نتائج کے دوران میرے مخالف صحافیوں کو بطورِ مبصر دانستہ مدعو کیا۔‘‘ اب ٹرمپ کی شکستِ فاش پر کئی سوالات اُٹھ کھڑے ہُوئے ہیں۔ مثال کے طور پر (۱) کیا ٹرمپ مستعفی ہو سکتے ہیں ؟(۲) کیا ٹرمپ کی Impeachment ہو سکتی ہے ؟ اگرچہ اُن کے خلاف ، پچھلے صدارتی دَور میں، پہلے بھی دوبار Impeachmentکی تحریک ناکام ہو گئی تھی(۳) اگر امریکی صدر کا پارلیمانی احتساب ہوگا تو کیا اُنہیں اپنی بداعمالیوں کے کارن حساب دینا پڑے گا؟ خاص طور پر جب Epstien Filesپہلے ہی اُن کے گلے پڑی ہُوئی ہیں(۴)کیا تازہ ترین انتخابی شکست کے بعد ٹرمپ(اسرائیلی اُکساہٹ و ترغیب پر) ایران پر کبھی حملہ نہیں کرے گا ؟ (۵) اور پاکستانیوں کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ٹرمپ کی شکست سے پاکستان پر کیااثرات مرتّب ہوں گے؟واقعہ یہ ہے کہ امریکہ میں مڈٹرم انتخابات کے بعد پاکستانی حکمرانوں کو اِسی کے پیش منظر میں اپنی صفوں کو ترتیب دینا ہوگا ۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل