Loading
کراچی میں پسند کی شادی کرنے والے جوڑا جو جان بچانے کی غرض سے اسکردو منتقل ہوگیا تھا، اس کو برسوں بعد بھی برداشت نہیں کیاگیا۔ ورثا نے مذکورہ جوڑے کو تلاش کرکے ان کے دو معصوم بچوں کو بھی قتل کردیا۔ یہ اندوہناک چار قتل اسکردو میں کیے گئے اور پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کی ایک پانچ سالہ اور دوسری ایک سالہ بچی کو بھی نہیں بخشا گیا اور محبت کی شادی کے جرم میں ان کی دو معصوم بچیاں بھی جہالت کی بھینٹ چڑھا دی گئیں اور نامعلوم ملزمان برسوں بعد اسکردو کے علاقہ مدینہ کالونی میں میاں بیوی اور ان کی دوکمسن بیٹیوں کو گھر میں قتل کرکے فرار ہوگئے۔
اس دلخراش واقعے میں پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کی سزا ان کی کمسن بچیوں کو بھی بھگتنا پڑی جن کا کوئی قصور نہیں تھا۔ قاتلوں نے سالوں بعد اپنے مطلوبہ ناپسندیدہ میاں بیوی کو ڈھونڈ کر اپنے انتقام کی آگ بجھائی۔ پسند کی شادی پر قتل کی خبریں ملک بھر میں اخبارات اور میڈیا کی زینت بن رہی ہیں اور ملک بھر کی عدالتوں کے ذریعے پریمی جوڑے قانونی طور پر بھی شادی کرکے محفوظ نہیں اور عدالتوں سے اپنے تحفظ کا مطالبہ کرتے ہیں ۔
انھیں قانونی طور پر میاں بیوی کے طور پر ساتھ رہنے کی اجازت مل جاتی ہے جس کے بعد علاقائی پریس کلبوں اور تھانوں میں جاکر عدالتی احکامات دکھاتے ہیں اور اپنے تحفظ کی اپیل کرتے ہیں مگر پولیس انھیں تحفظ کی ضمانت نہیں دے سکتی اور اکثر پسند کی شادی کرنے والوں کو خاتون کے ورثا نہیں بخشتے اور وہ کہیں بھی جاکر چھپ کر خوف کی زندگی گزار رہے ہوں کا سراغ لگاہی لیا جاتا ہے اور تاخیر کے بغیر ڈھونڈ کر موت کے گھاٹ اتارنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور مقتولین اپنے تحفظ میں ناکام ہوکر مسلسل قتل کیے جارہے ہیں اور یہ واقعات کم بھی نہیں ہورہے اور اپنی مرضی و پسند کی شادی کرنے والے یہ پریمی جوڑے جان ہتھیلی پر رکھ کر شادی تو کرلیتے ہیں مگر محفوظ کہیں بھی نہیں ہیں ۔
پسند کی شادی کی قانون میں اجازت ہے اور خاتون کی نکاح کے موقع پر رضامندی کے بعد ہی دلہا کا نکاح پڑھاتا ہے اور نکاح سے قبل پہلے دلہن کی اور بعد میں دلہا کی قبولیت کے بعد ہی یہ عمل مکمل ہوتا ہے جس میں فریقین کے بڑوں کی رضامندی شامل ہوتی ہے مگر یہ بھی سو فیصد حقیقت ہے کہ دونوں کے خاندان نکاح سے پہلے جہیز و مہر کی رقم طے کرتے ہیں اور نکاح و ولیمہ پر لاکھوں کا خرچہ ہوتا ہے مگر شادی کی گارنٹی کوئی نہیں ہوتی۔ خطیب حضرات اپنے بیانات میں واضح کرتے آرہے ہیں کہ اسلام میں نکاح بہت آسان ہے مگر ہم نے خود شادیوں کو مہنگا کر رکھا ہے اور الزام معاشرے اور دکھاوے کی نمود و نمائش کو دیا جاتا ہے اور کوئی بھی اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتا اور کہہ دیتا ہے کہ مجبوری ہے خاندان اور دنیا کو کیا جواب دیں گے۔
آج کے دور میں ایک تو لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے رشتے طے ہونا انتہائی مشکل بلکہ غریبوں کے لیے اپنی بیٹیوں کی شادی ناممکن ہوچکی ہے اور رشتے نہ ہونے اور جہیز کا انتظام نہ ہونے پر لڑکیوں کی عمریں بڑھ رہی ہیں اور رشتے طے نہ ہونا معمول بنا ہوا ہے جس کی وجہ سے بعض فلاحی ادارے غریبوں کی اجتماعی شادیاں کرا رہے ہیں جو مہنگائی کے دور میں نعمت سے کم نہیں، مگر غیر شادی شدہ لڑکے لڑکیاں زیادہ اور فلاحی ادارے کم ہیں اور حکومت خود کو بری الذمہ سمجھتی ہے بلکہ حکمران اور امیر لوگ اپنی شادیاں نہایت دھوم دھام سے کر کے شادی کی استطاعت نہ رکھنے والوں کے زخموں پر نمک ہی نہیں مرچ بھی چھڑک اور ان کا مذاق اڑا رہے ہیں۔
پسند کی شادیاں دیہاتوں میں کم اور چھوٹے بڑے شہروں میں زیادہ ہورہی ہیں جس کی بڑی وجہ خاندان ، برادری و مختلف ذاتوں میں باہمی شادیاں نہ کرنے کا رواج ہے تو بعض جگہ مطلوبہ رقم ملنے پر ہی غیروں میں بیٹیاں دی جاتی ہیں اور اس صورت میں عمر دیکھی جاتی ہے نہ کچھ اور غربت کے باعث بھی رشتے نہیں ہورہے۔ موبل فوننز نے بھی لڑکے لڑکیوں میں قربت بڑھا دی ہے اور اسکول کالجوں اور ٹیوشنوں کا بھی اس میں بڑا کردار ہے اور والدین بھی ایسی پسند سے لاعلم رہتے ہیں اور عشق نا پچھے ذات بلکہ برادری و مذہب بھی۔ خاندان رضامند نا ہوں تو عدالتوں میں جاکر پسند کی شادی کرلی جاتی ہے جس کے بعد تحفظ کا خیال آتا ہے تو یہ جوڑے بڑے شہروں یا اپنی مرضی کے محفوظ علاقوں میں چھپ کر رہنا اپنی مجبوری سمجھ لیتے ہیں مگر ان کی پسند کی شادی ناپسند کرنے والے ان کے جانی دشمن بن کر ان کی تلاش میں رہتے ہیں اور ڈھونڈ کر انھیں قتل کرکے ہی رہتے ہیں۔
پسند کی شادی پر قتل کو کاروکاری کا نام دے کر قاتل پھانسی سے تو بچ جاتے ہیں مگر اپنے مطلوبہ افراد کو تلاش کر کے ہی رہتے ہیں اور یہ وارداتیں جاہلوں میں زیادہ ہورہی ہیں بلکہ شہروں میں بعض دور اندیش والدین اپنی بیٹیوں کے فیصلے قبول بھی کرنے لگے اور سالوں بعد جہیز بھی دے کر بیٹی داماد سے تعلقات استوارکر کے ان کے فیصلے قبول کرلیتے ہیں ۔ پریمی جوڑوں کے تحفظ مانگنے پر لڑکیوں کے خاندان لڑکے والوں سے دھوکا دہی بھی کررہے ہیں اور لڑکے والوں سے مطلوبہ رقم لے کر صلح کے بہانے شادی شدہ لڑکی کو باعزت رخصتی کے بہانے اپنے گھر لاکر رخصت کرنے کی بجائے لڑکی قتل بھی کردیتے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل