Loading
پاکستان نے کہا ہے کہ بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ کے دورہ پاکستان کی اجازت بھارتی حکومت کو دینی ہے، بھارت کی جانب سے شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کا دعوت نامہ موصول ہوا ہے شرکت کا فیصلہ قیادت ادارہ جاتی مشاورت کے بعد کرے گی۔
صحافیوں کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے کہا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی اتحاد کے سیکریٹری جنرل لیفٹننٹ جنرل (ر) نعمان محمود جلد ریاض میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے، ایران امریکا تنازع پر پاکستان نے ایک مخلص ثالث کی حیثیت سے سہولت کاری فراہم کی اور 47 برس سے ایک دوسرے سے بات چیت نہ کرنے والے دو ممالک کو ایک چھت تلے مذاکراتی میز پر بٹھایا، پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا علاقائی امن صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پورے خطے اور اس سے باہر کے ممالک کے مفاد میں ہے۔
بھارتی پنجاب کے وزیراعلی کی جانب سے پاکستان کے دورے کی خواہش سے متعلق ایک سوال میں سجاد حیدر خان نے کہا کہ بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ کو پاکستان کے دورے کی اجازت بھارتی حکومت کو دینی ہے، پاکستان نے بھارتی شہریوں کے ویزے نہیں روک رکھے، رواں برس کے پہلے 6 ماہ میں مزید 4 ہزار سکھ یاتریوں کو پاکستان کے ویزے جاری کیے گئے، 2025ء میں پاکستان نے بھارتی یاتریوں کو 9 ہزار 318 ویزے جاری کیے جبکہ 9 ہزار سکھ اور 248 ہندو یاتریوں نے پاکستان کا دورہ کیا، مئی 2025ء کے بعد بھارت نے کرتارپور راہدری کے ذریعے یاتریوں کی آمد و رفت معطل کر رکھی ہے، بھارت کی جانب سے پابندیاں ختم ہوتے ہی پاکستان سکھ یاتریوں کے استقبال اور سہولت کاری کے تیار ہے، پاکستان بابا گرونانک دیو جی کے 557 ویں جنم دن تقریبات کے لئے سکھ یاتریوں کے استقبال کا منتظر ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کا دعوت نامہ موصول ہوا ہے، اجلاس 20 تا 22 نومبر نئی دہلی میں شیڈیول ہے جس میں شرکت کا فیصلہ قیادت ادارہ جاتی مشاورت کے بعد کرے گی۔
سجاد حیدر خان نے مطلع کیا کہ پاکستان کی روایتی ہتھیاروں کے کنٹرول سے متعلق قرارداد 180 ووٹوں سے منظور ہوئی، پاکستانی قرارداد تحمل، توازن اور مذاکرات پر زور دیتی ہے، جس کا مقصد علاقائی تنازعات کے خطرات کم کرنا ہے، صرف دو ممالک بھارت اور اسرائیل نے قرارداد کی مخالفت کی جو کہ ان ممالک کی پالیسیوں کے بارے میں بہت کچھ بتاتی ہے ان دو ممالک کے منفی ووٹ بین الاقوامی امن و استحکام سے متعلق ان کے وعدوں کی سنجیدگی پر سنگین سوالات اٹھاتے ہیں اور منفی ووٹنگ علاقائی عدم استحکام کے بنیادی محرک کی ذہنیت کو بھی ظاہر کرتی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل