Loading
رجیم چینج کی اصطلاح عام طور پر بین الاقوامی سیاست اور جغرافیائی سیاسی مباحثوں میں استعمال ہوتی ہے۔ اس سے مراد کسی ملک کی موجودہ حکومت، اقتدار یا سیاسی نظام کو زبردستی، دباؤ یا کسی خاص لائحہ عمل کے ذریعے تبدیل کرنا ہے۔ دنیا میں اس حوالے سے بہت سی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ لیبیا، عراق، وینزویلا اور بہت سے دیگر ممالک ایک سے زائد مواقعے پر اس کا شکار ہوچکے ہیں۔ ہرچند کہ اس رجیم چینج کے کھیل میں اندرونی کھلاڑیوں کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا اور عام طور پر یہ اندرونی کردار ہی ہوتے ہیں جو اس کو پایہ تکمیل تک پہنچاتے ہیں۔
حالیہ امریکا ایران جنگ جب 28 فروری 2026 کو شروع ہوئی تو کسی کے خواب و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ جنگ امریکا کے وسط مدتی انتخابات تک جاری رہے گی اور نہ صرف جاری رہے گی بلکہ ان انتخابات کے نتائج پر بھی اثرانداز ہوگی۔ اس جنگ میں حملوں کے آغاز ہی سے ایران میں رجیم چینج بھی امریکی حکمت عملی کا حصہ تھا۔ اسی لیے امریکا نے ابتدائی حملوں میں ایران کی صف ِ اول کی قیادت کو نشانہ بنایا تاکہ قیادت کے خاتمے سے نظام کو کمزور کرکے رجیم چینج کی راہ ہموار کی جاسکے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ ہمیں یکایک رضا پہلوی بھی متحرک نظر آنے لگے، جنھیں ایران کے مستقبل کے ممکنہ حکمران کے طور پر پیش کیا جارہا تھا۔
ہرچند کہ ایران کے رہبر معظم اور ان کی اعلیٰ عسکری قیادت کو ابتدائی حملوں میں شہید کردیا گیا، لیکن اس کے بعد ایران تہہ در تہہ ہر شعبے میں متبادل قیادت ایسے سامنے لاتا گیا کہ کسی بھی موقعے پر ایران میں قیادت کا بحران نظر نہیں آیا۔ اس متبادل قیادت کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوا کہ یہ نہ صرف پوری طرح تیار ہے بلکہ اسے اپنی ذمے داریوں اور حالات کی نزاکت کا بھی مکمل ادراک ہے۔ متبادل قیادت کے سامنے آنے سے پہلے یہ جنگ جو چند دنوں کی سمجھی جارہی تھی، پہلے ہفتوں اور پھر مہینوں تک پھیل گئی۔ درمیان میں جنگ بندی اور سفارتی کوششیں بھی ہوئیں، لیکن معاملات دوبارہ کشیدگی اور حملوں کی طرف لوٹ آئے۔
اگر امریکا کی صورتحال کو محاورے کی زبان میں بیان کیا جائے تو امریکا کی حالت یہ ہے کہ۔’’میں تو کمبل کو چھوڑتا ہوں مگر کمبل مجھے نہیں چھوڑتا۔‘‘اب جیسے جیسے جنگ طول پکڑتی گئی، دنیا کو دیوار پر لکھا صاف نظر آنے لگا کہ اس جنگ کے اثرات امریکا کے وسط مدتی انتخابات پر بھی مرتب ہوں گے، لیکن اگر کوئی یہ ماننے کو تیار نہیں تھا تو وہ موجودہ امریکی صدر اور ان کی جماعت تھی۔ ایسا نہیں ہے کہ 3 نومبر 2026 کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے نتائج کوئی غیر متوقع یا انہونی بات ہیں۔ ایسا بالکل بھی نہیں، بلکہ آپ ان نتائج کو موجودہ امریکی حکومت کی حکمت عملی اور اس کے فیصلوں کے تناظر میں بالکل متوقع اور حسبِ حال قرار دے سکتے ہیں۔
امریکی عوام نے اپنے ووٹ کے ذریعے ڈیموکریٹس کو نہ صرف ایوانِ نمائندگان بلکہ سینیٹ میں بھی اکثریت دلا دی ہے۔ یوں صدر ٹرمپ کو اپنے اقتدار کے باقی دو سال ایک ایسی کانگریس کے ساتھ گزارنے ہوں گے جو ان کی جماعت کے بجائے مخالف جماعت کے کنٹرول میں ہوگی۔ اس صورتحال میں صدر کے لیے اپنی پالیسیوں پر عمل درآمد کرنا پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہوسکتا ہے۔انتخابی نتائج کے بعد یہ بحث بھی شروع ہوگئی ہے کہ کیا ایران جنگ امریکی ریپبلکن پارٹی کی شکست کی ایک بڑی وجہ بنی؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنا زیادہ مشکل نہیں۔ ایک طرف امریکی عوام کو جنگ کے اخراجات، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور زندگی کے مسائل کا سامنا تھا تو دوسری طرف ان کی حکومت ایک ایسی جنگ میں مصروف تھی جس کے فوری خاتمے کا کوئی واضح راستہ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔
امریکی صدر نے جس جنگ کو اپنی طاقت اور کامیابی کے اظہار کے طور پر شروع کیا تھا، وہی جنگ اب ان کی سیاسی مشکلات میں اضافے کا سبب بن گئی۔یہاں ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ امریکا ہمیشہ دنیا کے مختلف ممالک میں رجیم چینج کے لیے اپنی سیاسی، معاشی اور عسکری طاقت استعمال کرتا رہا ہے۔ کبھی جمہوریت کے نام پر، کبھی انسانی حقوق کے نام پر اور کبھی قومی سلامتی کے تحفظ کے نام پر دوسرے ممالک کے حکمرانوں اور حکومتوں کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے، لیکن اس مرتبہ معاملہ کچھ مختلف دکھائی دیتا ہے۔ ایران میں رجیم چینج کی کوشش کرتے کرتے امریکا خود اپنے ملک میں ایک بڑی سیاسی تبدیلی کے سامنے آکھڑا ہوا ہے۔یقیناً امریکی وسط مدتی انتخابات میں کانگریس کا کنٹرول تبدیل ہونے کو روایتی معنوں میں رجیم چینج قرار نہیں دیا جاسکتا، کیونکہ صدر ٹرمپ بدستور اپنے عہدے پر موجود ہیں اور امریکی سیاسی نظام بھی تبدیل نہیں ہوا لیکن اگر رجیم چینج کے مفہوم کو سیاسی طاقت کے توازن اور حکومتی پالیسیوں پر عوامی ردعمل کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ ایک غیر معمولی صورتحال ضرور ہے۔
اس تمام صورتحال میں میرا سوال یہ ہے کہ کیا ایران نے امریکا میں رجیم چینج کیا ہے؟ یا یہ دراصل خود امریکی حکمت عملیوں کا نتیجہ ہے، جو اس نے اپنی عوام کی خواہشات اور ترجیحات کو نظرانداز کرتے ہوئے اختیار کیں؟میرے خیال میں اس جنگ نے ایک مرتبہ پھر دنیا کو یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ کسی ملک کو عسکری طور پر تباہ کرنا اور وہاں کا سیاسی نظام تبدیل کرنا دو بالکل مختلف معاملات ہیں۔ کسی ملک کی قیادت کو ختم کیا جاسکتا ہے، اس کے انفراسٹرکچر کو تباہ کیا جاسکتا ہے اور اس کی معیشت کو نقصان پہنچایا جاسکتا ہے، لیکن اس کے باوجود ضروری نہیں کہ اس ملک کے عوام یا اس کا سیاسی نظام آپ کی خواہشات کے مطابق ڈھل جائے۔
اس کے برعکس یہ بھی ممکن ہے کہ جس جنگ کو آپ دوسرے ملک میں اپنی سیاسی کامیابی کے لیے شروع کریں، وہی جنگ آپ کے اپنے ملک میں سیاسی ناکامی کا سبب بن جائے۔ تاریخ میں طاقتور ممالک کی ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں جہاں جنگی کامیابیوں کے دعوے آخرکار داخلی سیاسی مشکلات میں تبدیل ہوگئے۔ امریکا کے لیے اس جنگ کا ایک بڑا سبق شاید یہی ہے کہ دنیا کے دوسرے ممالک میں رجیم چینج کرنا جتنا آسان سمجھا جاتا ہے، اس کے نتائج کو اپنی مرضی کے مطابق رکھنا اتنا ہی مشکل ہوتا ہے اور شاید اس مرتبہ امریکا کو بھی اس حقیقت کا احساس کچھ زیادہ شدت سے ہوا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل