Friday, November 06, 2026
 

میاں فاروق الطاف مرحوم، ’راہ نما کارکن‘

 



جس روز پہلی بار میری اُن سے ملاقات ہوئی، بلکہ کہنا چاہیے کہ شناسائی ہوئی، اُس روز بھی وہ وہیل چیئر پر میٹنگ میں شریک ہوئے تھے۔ چیف جسٹس (ر) اعجاز نثار صاحب، جو نگران وزیراعلیٰ پنجاب بھی رہ چکے ہیں، کے ایک جانب مشاہد حسین صاحب، جبکہ دوسری جانب وہ تشریف فرما تھے۔ محترمہ مہناز رفیع اور عابد شیروانی صاحب کے علاوہ ان کے صاحب زادے سلمان فاروق صاحب بھی موجود تھے۔ میاں فاروق الطاف صاحب کی عمر90 برس ہو چکی تھی، مگر بات کہنے کے اُن کے دبنگ لہجہ اور کڑک دار آواز میں اس ضعیف العمری یا کمزوری کا شائبہ تک نہ تھا۔ اُن کے یونانی خدوخال، چہرے کی طمانیت اور آنکھوں کی تیز چمک میں بھی کوئی خاص فرق نہیں آیا تھا، سوائے اس کے کہ گالوں پر سرخی کی جگہ زردی مائل سفیدی چھا چکی تھی۔ اس روز اُن کی بلند حوصلگی، استقامت اور پُرامیدی دیکھ کر یہ سوچنا بھی محال تھا کہ ُان کا چراغ حیات بجھنے کو ہے، اور وہ ہمارے درمیان چند مہینوں کے مہمان ہیں۔ مجھے یاد ہے، مشاہد حسین صاحب نے جب میرا تعارف کرایا، تو خوش آمدید کہنے کے انداز میں انھوں نے میری طرف دیکھ کر اثبات میں سر ہلایا، اگرچہ میں اس سے پہلے ہی اُن کے بزرگانہ جلال و جمال کے سحرکا شکار ہو چکا تھا۔ یہ تو ان سے بعد میں ہونے والی ملاقاتوں میں کھلا کہ جتنے وہ باہر سے سخت طبع معلوم ہوتے ہیں، اندر سے اتنے ہی نرم، حلیم اور مہربان آدمی ہیں۔ میاں فاروق الطاف نے لاہور کی نواحی بستی باغبان پورہ کے ایک انتہائی شریف النفس خاندان میں آنکھ کھولی۔ 14 اگست 1947ء کو پاکستان معرض وجود میں آیا، تو اُن کی عمر دس برس تھی، یعنی وہ اپنے اردگرد تحریک پاکستان کی فضا کو شعور کی آنکھ سے دیکھ سکتے تھے۔ اس زمانہ میں جبکہ پنجاب میں مسلمان تعلیم میںبہت پیچھے تھے، لاہور کا یہ ارائیں خاندان پڑھا لکھا بھی تھا، اور برسرروزگار بھی۔ اُن کے پردادا کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج،جو اس وقت میڈیکل اسکول کہلاتا تھا، سے ایم بی بی ایس کرنے والے پہلے بیج میں شامل تھے۔ دادا بھی تعلیم مکمل کرکے سروس میں گئے اور ریٹائرمنٹ کے بعد ہی زمینداری کی طرف آئے۔  جیسا کہ ’باغبان پورہ‘ کے نام ہی سے عیاں ہے، یہ باغ و بہار بستی اپنی سازگار آب و ہوا، زرخیز رقبہ اور حد نظر تک پھیلے ہوئے سونا اگلتے کھیتوں کی بدولت کاشتکاری کے لیے نہایت موزوں سمجھی جاتی تھی۔ ننھیال میں نانا معروف اور قابل وکیل تھے، بلکہ نانا کے ایک بھائی بھی پروفیسر ڈاکٹر تھے۔ والدہ ورنیکلر پاس اور علامہ اقبالؒ کی ’بانگ درا‘ کی مستقل اور سنجیدہ قاری تھیں۔ خود میاں صاحب نے بھی ایم اے کیا ، اور آگے اپنے بچوںکو بھی خاندانی روایت کے مطابق اندرون و بیرون ملک اعلیٰ تعلیم دلائی اور اُن کی بہترین تربیت کی۔ بچپن میں، جب اُن کے والدکاروبار کی غرض سے زیادہ تر لاہور سے باہر دہلی میں رہتے تھے، پیچھے گھر میں یہ میاں صاحب کے مہربان اور شفیق دادا تھے، جنھوں نے پہلے پہل پوتے کے دل میں قائد اعظم ؒ کی عظمت اور تحریک پاکستان کا بیج بویا۔ وہ مسلم لیگ کے ساتھ ساتھ انجمن اسلامیہ لاہور کے بھی سرگرم رکن اور عہدیدار تھے اور دونوں کی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیتے تھے؛ بلکہ ایک بار ننھے پوتے کو بھی اپنے ساتھ انجمن اسلامیہ کے سالانہ جلسہ میں لے گئے، جہاں اسٹیج پراس سے ایک نظم بھی پڑھوائی تھی۔ میاں فاروق الطاف کو بچپن کے وہ مناظر بھی اب تک یاد تھے کہ کس طرح وہ اسکول کی بچہ ہاکی ٹیم کے ہمراہ میچ سے واپسی پر، ہندوؤں کے محلوں میں سے گزرتے، پاکستان و قائداعظم زندہ باد کے نعرے لگایا کرتے تھے۔ وہ یہ بھی نہیں بھول پائے تھے، جب1947ء میں اعلان آزادی کے ساتھ ہی شہر میں ہر طرف فسادات کی آگ بھڑک اٹھی تھی اورہر سو دھواں اٹھ رہا تھا۔ پھر وہ خودکو حیران پریشان والٹن کیمپ میں اجڑے پجڑے مہاجر خاندانوں کے بیچ میں پاتے تھے۔ یادوں کی اس کہکشاں میں ایک یاد اس طرح تھی کہ1948ء میں قائداعظم ؒ لاہور تشریف لائے اور یونیورسٹی گراؤنڈ میں عوام سے خطاب کیا، تو وہ بھی بھائی کے ساتھ اس جلسے میں حاضر تھے۔ محترمہ فاطمہ جناح سے انھیں ملنے کا شرف اس طرح حاصل ہوا کہ وہ ایمرسن کالج ملتان میں پڑھتے تھے۔ ان کے والد بھی کاروبار کے سلسلہ میں ان دنوں وہیں ہوتے تھے۔ محترمہ ملتان آئیں تو اُن کے استقبال کے لیے والد انھیں بھی ساتھ لے گئے۔ استقبالیہ قطار، جس میں کمشنر سمیت سب معززین شہر صف باندھے کھڑے تھے، صرف میاں فاروق الطاف اور ان کا بھائی ہی کم سن لڑکے تھے۔ مادر ملت ؒنے باقی سب سے تو مصافحہ کیا، مگر جب اُن کے قریب آئیں، توپیار سے اُن کی طرف دیکھ کر مسکرائیں اور پھر شفقت سے اُن کے سرخ و سپید گالوں کو تھپتھپایا۔ اپنے چہرے پر مادرملتؒ کے اس شفیق لمس کا احساس عمر بھر اُن کے ساتھ رہا۔ اُن کے والد کی خواہش تھی کہ وہ پڑھ لکھ کے سول سروس میں جائیں، مگر میاں صاحب کی طبع آزاد کو نوکری کی بجائے کاروبار میں زیادہ کشش محسوس ہوئی۔ یہاں اُن کی محنت، دیانت اور مستقل مزاجی کا صلہ انھیں یوں ملا کہ کچھ ہی عرصہ میں کاروبار میں اُن کا نام اعتماد اورکامیابی کی ضمانت بن چکا تھا۔ مگر بچپن میں دادا نے اُن کے دل میں تحریک پاکستان کے مقاصد اور اُن کے حصول کے لیے جدوجہد کرنے کی جو جوت جگائی تھی، اس کی آنچ روپے پیسے کی دنیا میں آکے بھی کم نہ ہو سکی۔چنانچہ اسی جذبہ کے ساتھ کاروبار کے ساتھ ساتھ سیاست میں بھی بھرپور حصہ لیا، بلکہ میاں ممتاز دولتانہ کی زیر صدارت کونسل لیگ کے فنانس سیکریٹری بھی رہے؛ مگر سیاست اور سیاستدانوں کی کہہ مکرنیوں کو قریب سے دیکھا تو اس نتیجہ پر پہنچے کہ ہمارے سیاستدانوں نے قائداعظم ؒاور لیاقت علی خان ؒکی سیاست سے کوئی راہ نمائی حاصل نہیں کی، اور یہی اُن کی مستقل ناکامی و نامرادی کی وجہ ہے۔ اس دور میں جبکہ وہ سیاست اور سیاستدانوں سے بددل ہو چکے تھے، مجید نظامی مرحوم سے اُن کی علیک سلیک ہوئی، جو رفتہ رفتہ ایک تعلق خاطر میں بدل گئی۔ نظامی صاحب کی معرفت بلکہ انگیخت پر ہی’ادارہ نظریہ پاکستان سے وابستہ ہوئے۔ یہاں آکے ایک طرح سے پھر اپنے بچپن کی نظریاتی اور تحریکی دنیا سے جڑ گئے تھے۔ جب اس ادارہ کے ایوانوں میں وہ قائداعظمؒ، مادرملت ؒاور علامہ اقبالؒ کی نظریاتی شمع کو بدستور روشنی بکھیرتے،اور تحریک پاکستان کے مقاصد کی ترویج واشاعت دیکھتے، اور اُس میں تن من دھن سے شامل ہو جاتے، تو روحانی طور پر پھر سے تازہ دم ہو جاتے تھے۔ نظامی صاحب گوہر شناس آدمی تھے۔ چنانچہ مالیات میں اُن کے تجربہ سے استفادہ کے لیے پہلے اُن کو’مرکزیہ مجلس اقبال‘کا فنانس سیکریٹری بنایا اور بعد میں’ادارہ نظریہ پاکستان‘میں بھی یہ ذمے داری انھی کو سونپ دی۔ جاننے والے جانتے تھے کہ نظامی صاحب اُن کے خلوص نیت اور صلاحیت کار پر بڑا اعتماد کرتے ہیں۔ کہا جاتا ہے، اور مشاہد حسین صاحب نے اُن کی یاد میں ہونے والے تعزیتی ریفرنس میں اس کا برملا اعتراف بھی کیا کہ نظامی صاحب کی رحلت کے بعد حقیقتاً یہ میاں فاروق الطاف ہی تھے، جنھوں نے ’ادارہ نظریہ پاکستان‘ کے خلاف ’اندرونی و بیرونی سازشوں‘ کا مقابلہ کیا اور انھیں پسپا کیا۔ قائداعظم ؒسے ان کو ایسی محبت بلکہ عقیدت تھی کہ ’ایوان قائداعظم‘ کی تعمیرو تکمیل اور فنکشنل کرنے کے لیے، بغیر کسی نمایش اور تشہیر کے، ذاتی جیب سے خطیر رقم خرچ کی۔ آخری دم تک اُس کی تزئین و آرایش پر برابر خرچ کرتے رہے، بلکہ جس اجلاس یا تقریب میں شریک ہوتے، اس کا خرچہ بھی خاموشی سے اپنے اوپر ڈال لیتے تھے۔ دیکھنے والوں نے اکثر اُن کو ساری جیبیں خالی کرکے ہی دفتر سے جاتے دیکھا۔ اس طرح دامن جھاڑ کے وہ ایسے پرسکون اور اتنے شانت ہو جاتے، جیسے روح پر سے کوئی بھاری بوجھ اتر گیا ہو۔ وہ ’ایوان کارکنان پاکستان‘ اور ’ادارہ نظریہ پاکستان‘ کے رہبر و راہنما تھے، اس کے باوجود خود کو ہمیشہ ’کارکن‘ ہی سمجھا اور کسی پرجوش کارکن ہی کی طرح پاکستان اور نظریہ پاکستان پر سب کچھ نچھاور کرنے کے لیے ہر وقت تیار نظر آتے تھے۔  اکثر محسوس ہوا کہ نقاہت کے باعث مصافحہ کے لیے ہاتھ اٹھانے میں اب اُن کو دقت ہوتی ہے۔ اس کے باوجود جب بھی ملتے، اتنی گرمجوشی سے ہاتھ بڑھاتے اور مسکراتے ہوئے مصافحہ کرتے کہ اس لمحہ اُن کی قوت ارادی سے زیادہ اُن کی خاندانی تہذیب و شرافت پر رشک آتا تھا۔ وہ ان آخری معمر ہستیوں میں سے تو تھے ہی جنھوں نے قائداعظم ؒکی ولولہ انگیز قیادت میں پاکستان بننے دیکھا تھا، اس کے ساتھ ساتھ شاید وہ اس تہذیب و شرافت کی آخری چند یادگاروں میں سے بھی تھے، جو ہمارے معاشرے میں ہر گزرتے دن کے ساتھ معدوم ہوتی جا رہی ہیں ؎ غبار راہ گزارت کجاست تا حافظؔ بیادگار نسیم صبانگہ دارد

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل