Friday, November 06, 2026
 

رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ میں پاکستان کا تجارتی خسارہ 14.6 ارب ڈالر تک پہنچ گیا

 



پاکستان کا تجارتی خسارہ رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ (جولائی تا اکتوبر) کے دوران 16 فیصداضافے کے ساتھ 14 ارب 60 کروڑڈالر تک پہنچ گیا، جس کی بنیادی وجہ درآمدات میں تیزرفتار اضافہ اور برآمدات کی سست رفتار ترقی ہے۔ بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ ملک کے بیرونی قرضوں اور عالمی مالیاتی اداروں پر انحصار میں مزید اضافے کاسبب بن سکتا ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں تجارتی خسارے میں 2 ارب ڈالرکااضافہ ریکارڈکیاگیا۔ رواں مالی سال کے ابتدائی چار ماہ میں درآمدات 26 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جوگزشتہ سال کے مقابلے میں 2 ارب 90 کروڑڈالر یا 12۔5 فیصد زیادہ ہیں۔ اس کے برعکس برآمدات میں معمولی بہتری دیکھنے میں آئی اور جولائی تا اکتوبرکے دوران مجموعی برآمدات 11 ارب 40 کروڑ ڈالررہیں،جوگزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں صرف 89کروڑڈالر زیادہ ہیں۔  اس دوران ماہانہ اوسط درآمدات 6.5  ارب ڈالر جبکہ برآمدات 2.8 ارب ڈالررہیں۔تجارتی خسارے میں اضافے کے اعدادوشمارایسے وقت سامنے آئے ہیں،جب وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے انکشاف کیاتھاکہ پاکستان کو گزشتہ ماہ سعودی عرب سے مزید 3 ارب ڈالرکے قرض کی مدت میں توسیع مل گئی ہے۔ سیکریٹری خزانہ امداد اللہ بوسال نے پارلیمانی کمیٹی کو بتایاکہ ملک کو بیرونی قرضوں کی مدمیں ادائیگیاں کرناہیں، تاہم حکومت دوطرفہ اورکمرشل قرضوں کی مدت میں توسیع حاصل کرنے کی کوشش کریگی،حکومت زرمبادلہ ذخائر برقراررکھنے کیلیے مسلسل نئے غیرملکی قرضوں کی تلاش میں بھی ہے۔  وزیراعظم نے وعدہ کیاہے کہ آئی ایم ایف کا 25واں پروگرام پاکستان کی تاریخ کاآخری پروگرام ہوگا،جوآئندہ ستمبر میں مکمل ہوناہے، تاہم اس دعوے کی عملی آزمائش آنیوالے برسوں میں ہوگی۔اسٹیٹ بینک نے رواں مالی سال کے دوران درآمدات 71 ارب ڈالر تک پہنچنے کاتخمینہ لگایا، جس کی بڑی وجہ توانائی کی درآمدی لاگت میں اضافے کاامکان ہے۔  حکومت نے رواں مالی سال کیلیے اشیاکی برآمدات کا ہدف 34 ارب ڈالر مقررکیاہے،حکومت نے برآمدات میں اضافے کیلیے بڑے برآمدکنندگان کوسستے قرضوں کی فراہمی کی خاطر بجٹ میں 88 ارب روپے کی سبسڈی بھی مختص کی ہے،تاہم ماضی میں روپے کی قدر میں نمایاں کمی بھی برآمدات کوخاطر خواہ فروغ دینے میں ناکام رہی ہے۔  وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق مستقبل میں آئی ایم ایف پروگراموں سے نجات حاصل کرنے کیلیے برآمدات کو 60 ارب ڈالر تک لے جاناضروری ہے،حکومت کی تجارتی آزادکاری کی پالیسی بھی تاحال برآمدات میں متوقع اضافہ لانے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل