Friday, November 06, 2026
 

بغیر انسولین شوگر کنٹرول کرنے والی ڈیوائس تیار کر لی گئی

 



ذیابیطس کے علاج میں اہم پیشرفت، بغیر انسولین شوگر کنٹرول کرنے والی ڈیوائس تیارکر لی گئی، دوسری جانب جی ایل پی ون ادویات سے ذیابیطس کا خطرہ 31 فیصد کم ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ سوئٹزرلینڈ کے سائنس دانوں نے ایک جدید تجرباتی ڈیوائس تیار کی ہے جو جسم میں نصب کیے جانے کے بعد بجلی کی مدد سے خون میں شوگر کی سطح کم کر سکتی ہے جس سے ذیابیطس اور موٹاپے کے علاج میں نئی امید پیدا ہوگئی ہے۔ ای ٹی ایچ زیورخ یونیورسٹی کے محققین کی تیار کردہ یہ ڈیوائس خون میں موجود اضافی گلوکوز کو گلوکونیٹ میں تبدیل کرتی ہے جسے گردے پیشاب کے ذریعے جسم سے خارج کر دیتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق وائرلیس ٹیکنالوجی سے چلنے والی اس ڈیوائس کو مسلسل شوگر مانیٹر کرنے والے نظام سے منسلک کیا گیا ہے جس نے چوہوں پر تجربات میں خودکار طور پر شوگر کنٹرول کرنے کے نتائج دکھائے۔تجربات میں یہ بھی سامنے آیا کہ ڈیوائس جسم میں ذخیرہ شدہ چربی کے استعمال کو بڑھانے میں مدد دیتی ہے جس سے ذیابیطس اور موٹاپے کا بیک وقت علاج ممکن ہونے کی امید ہے۔  دوسری جانب ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ موٹاپے اور ذیابیطس سے قبل کی کیفیت (پری ڈائیبیٹیز) میں مبتلا افراد میں جی ایل پی-1 ادویات کے استعمال سے ٹائپ ٹو ذیابیطس لاحق ہونے کا خطرہ 31 فی صد تک کم ہو سکتا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل