Saturday, November 07, 2026
 

ایران میں پولیس اسٹیشن پر حملے کے الزام میں بلوچ علیحدگی پسند کو پھانسی دے دی گئی

 



ایران نے پولیس اسٹیشن پر مہلک حملے میں ملوث ہونے کے الزام میں سزا یافتہ بلوچ شہری محمد عارف شاہ بخش کو پھانسی دے دی۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایرانی عدلیہ کی ویب سائٹ میزان آن لائن نے بتایا کہ محمد عارف شاہ بخش کا تعلق کالعدم مسلح تنظیم جیش العدل سے تھا اور انہیں جنوب مشرقی ایران میں پولیس اسٹیشن پر حملے کے مقدمے میں سزا سنائی گئی تھی۔ ایرانی عدلیہ کے مطابق شاہ بخش کو صوبہ سیستان بلوچستان کے شہر خاش میں واقع قلعہ بید پولیس اسٹیشن پر مسلح حملے میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس حملے میں متعدد پولیس اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔ میزان آن لائن کے مطابق ملزم کو مسلح بغاوت اور اسلامی قوانین کے تحت محاربہ یعنی جنگ چھیڑنے کے جرائم میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔ رپورٹ میں پولیس اسٹیشن پر حملے کی تاریخ اور ہلاک یا زخمی ہونے والے اہلکاروں کی درست تعداد نہیں بتائی گئی۔ ایرانی عدلیہ کے مطابق سزائے موت پر ہفتے کی صبح تمام قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد عمل درآمد کیا گیا۔ دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیم ہینگاو نے دعویٰ کیا ہے کہ شاہ بخش کو شفاف عدالتی کارروائی اور قانونی دفاع کے مناسب مواقع فراہم نہیں کیے گئے تھے۔ واضح رہے کہ جیش العدل ایک کالعدم مسلح تنظیم ہے جو ایران کے جنوب مشرقی صوبے سیستان بلوچستان میں سرگرم ہے۔ یہ علاقہ طویل عرصے سے ایرانی سکیورٹی فورسز اور مسلح گروہوں کے درمیان جھڑپوں کا مرکز رہا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل