Sunday, November 08, 2026
 

اور کہانی ہے وہی!

 



یہ فطری اور تاریخی حقیقت ہے کہ جہاں تخت اور اقتدار ہوگا، وہاں سازش، شک اور حسد کے عناصر بھی بروئے کار آئیں گے ۔ یہ کشمکش ازل سے جاری ہے اور شائد ابد تک جاری رہے گی ۔ اِسی تناظر میں شاعرہ ، پروین شاکر، نے کہا تھا:’’ تخت ہے اور کہانی ہے وہی/ اور سازش بھی پرانی ہے وہی ۔‘‘ اِسی شک اور سازش کا اظہار کرتے ہُوئے نون لیگ کے معروف رہنما اوروزیر دفاع ،خواجہ آصف ،نے ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہُوئے دعویٰ کیا ہے: ’’ پنجاب میں کرپشن کے الزامات کا شور حکومت کو کمزور اور بدنام کرنے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ اِس حکمتِ عملی کے ذریعے نئے سیاسی گروپ یا متبادل انتظام کے لیے راہ ہموار کی جا رہی ہے۔‘‘۔ سوال یہ ہے کہ خواجہ آصف کو یہ بیان دینے اور بیانیہ بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟ چند روز قبل مسلم لیگ( قاف) کے رہنما اور وفاقی وزیر برائے اووَرسیز پاکستانیز ، چوہدری سالک حسین، نے پنجاب میں کرپشن کے حوالے سے ایک بات کہی، جس کی بازگشت دُور ونزدیک سُنی گئی ہے ۔اُن کے الفاظ کو لے کر اینکرز اور وی لاگرز نے سیاسی طوفان اٹھانے کی کوشش کی۔ چوہدری سالک حسین سے منسوب الفاظ کی لپیٹ میں وفاقی اور پنجاب حکومت، دونوں ہی ، آگئے ہیں۔ حاسدین و معاندین نے اِس پر مزید تیل چھڑکا ہے حالانکہ چوہدری سالک حسین، نے مبینہ طور پر ایک غیر اہم سے انٹرویو میں ، محض چلتے چلتے ، سوالوں کے جواب میں بات کی تھی۔ پنجاب کی وزیر اطلاعات، محترمہ عظمیٰ بخاری،نے جواب بھی دیا ۔مگر بات یہیں تک رُکی نہیں ۔ یہاں ایک اہم نکتہ نظرانداز نہیں ہونا چاہیے : چوہدری سالک حسین نے خود بھی پنجاب حکومت پر براہِ راست الزامی دستاویزی ثبوت پیش کرنے کے بجائے روزمرہ سنی جانے والی باتوں کا حوالہ دیا؛ چنانچہ اُن کے بیان کو ایک سنجیدہ بات تو کہا جا سکتا ہے، لیکن اسے کسی کرپشن کی قانونی یا دستاویزی تصدیق قرار نہیں دیا جا سکتا۔اصل مسئلہ ہی یہ ہے کہ دونوں جانب سے لفظی الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ عوام کے سامنے مگر ابھی تک حقائق پر مبنی ایسا جامع جواب نہیں آیا جو سوالات کو ختم کر سکے۔ لگتا یہی ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کو چوہدری سالک کے بیان سے شدید دھچکا لگا چنانچہ پھر سب نے دیکھا اور سُنا کہ 3 نومبر کو اٹک میں ایک بڑی شاندار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب، محترمہ مریم نواز شریف، نے چوہدری سالک حسین کو براہِ راست مخاطب کیا اور اعلان کیا:’’مَیں اُن کے خلاف ہرجانے کا نوٹس بھیجوں گی۔ اگر کرپشن کے ثبوت ہیں تو سامنے لائیں، ورنہ انھیں عدالت میں جواب دینا ہوگا۔ اگر پنجاب حکومت اتنی ہی کرپٹ ہے تو وہ وفاقی حکومت میں وزارت کے منصب پر کیوں فائز ہیں؟‘‘اِس کرارے اور کڑے جواب سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے( الزامی) معاملے کو نظرانداز کرنے کے بجائے اسے اپنی حکومت کی ساکھ اور سیاسی وقار کا مسئلہ بنا لیا ہے۔دوسری جانب چوہدری سالک حسین نے بھی اپنے بیان سے پیچھے ہٹنے سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔ اُن کا یہ طرزِعمل اس بات کی علامت ہے کہ فی الحال دونوں فریقین کے درمیان مفاہمت کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں۔ اب خبر آچکی ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب ، محترمہ مریم نواز شریف ،کی جانب سے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو، مبینہ طور پر، 5ارب روپے ہرجانے کا قانونی نوٹس بھجوا دیا گیا ہے ۔ چوہدری موصوف نے قانونی نوٹس ملنے کی تصدیق بھی کر دی ہے ۔ جواباً چوہدری سالک حسین نے کہا ہے :’’ عدالت میں نوٹس کا مکمل اور بھرپور جواب دُوں گا۔ تاہم میرا ذاتی بیان ہے۔ مسلم لیگ ق کے حکومت سے علیحدگی کا امکان مسترد کرتا ہُوں۔ ‘‘ مرکزی حکومت پہلے ہی کئی سیاسی و معاشی چیلنجز سے گزر رہی ہے اور اب ایک نیا کٹّا کھل گیا ہے۔ ٹوہ لگانے اور اُلجھی گتھی سلجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اِس اچانک اُٹھنے والے تنازعے کا محرک کیا ہے؟ پنجاب کے پُر سکون سیاسی تالاب میں اختلافی و الزامی پتھر پھینک کر مدوجزر پیدا کرنے والے وفاقی وزیر ، چوہدری سالک حسین، سابق وزیر اعظم پاکستان ، چوہدری شجاعت حسین، کے چھوٹے صاحبزادے ہیں ۔ سالک حسین کے بڑے بھائی ، چوہدری شافع حسین ، وزیر اعلیٰ پنجاب ، محترمہ مریم نواز شریف ، کی کابینہ کا حصہ ہیں ۔ اور اِس جملہ کے پس منظر میں چوہدری شافع حسین کا یہ بیان خاصا اہم ہے :’’ چوہدری سالک حسین نے پنجاب حکومت کا نام نہیں لیا۔ اُن کا اشارہ نظام میں موجود بدعنوانی کی جانب تھا۔ ممکن ہے اُنہیں کچھ ایسی معلومات ہوں جن سے مَیں آگاہ نہیں۔ چھوٹے بھائی سے کبھی فاصلہ اختیار کیا نہ کروں گا‘‘۔جب دونوں وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت میں وزیر ہیں، تو ایسے میں چوہدری سالک حسین کو یکا یک کیا سوجھی کہ یہ ’’کام‘‘ ڈال دیا؟ شاید گجرات کے چوہدری خاندان کو پہلی بار شدت سے یہ احساس ہوا ہے کہ پنجاب کے اقتدار کا ہما اُن کے بنیرے سے اُڑ کر کسی دوسرے کی منڈیر پر جا بیٹھا ہے ۔ گجرات کی مقامی و دیہی سیاست پر ان کی گرفت ڈھیلی پڑ چکی ہے ۔ بعض حلقے اسی تناظر میں سوچ رہے ہیں۔ اس سیاسی قضیئے کے کئی نتائج سامنے آ سکتے ہیں:(۱) مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ق) کے تعلقات میں مزید سردمہری پیدا ہو سکتی ہے۔ اگر محترمہ مریم نواز شریف قانونی کارروائی آگے بڑھاتی ہیں اور سالک حسین اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہیں تو معاملہ محض میڈیا بیانات تک محدود نہیں رہے گا (۲) حکومتی اتحاد کے اندر اعتماد کا بحران ہو سکتا ہے(۳) تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ق) سے وابستہ سیاسی حلقے اس تنازعے کو پنجاب حکومت کی کارکردگی پر سوالات اُٹھانے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں(۴) اس تنازعے کے دوران عوامی مسائل پس منظر میں چلے جائیں گے۔ ایک بات بہرحال واضح ہے کہ ابھی پنجاب حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل