Sunday, November 08, 2026
 

بجری گر (آسٹریلین توتے)

 



گھروں کی خوب صورتی اور قدرتی ماحول کے قربت کے شوقین نہ صرف مختلف طرح کے پھل دار یا پھولوں والے پودوں سے گھر کو آراستہ کرتے ہیں بلکہ وہ مختلف قسام کے پالتو جانور اور پرندے بھی پاس رکھتے ہیں۔ پودے اگر گھر کو سکون اور آکسیجن کی فراہمی کا ذریعہ بنتے ہیں تو ان جانوروں اور پرندوں کی دل کش میٹھی آوازیں گھر میں قدرت کی موجودگی کا احساس زندہ رکھتی ہیں۔ پاکستان اور دْنیا بھر میں پالتو پرندوں میں اگر بجری گر (آسٹریلئین طوطے) پالنا بہت عام اور آسان ہے۔ اپنے چھوٹے سائز، کئی دل کش رنگوں اور جلد انسانوں میں گھل مل جانے کی عادت، اپنی کم قیمت، آسان دیکھ بھال اور دوستانہ مزاج کی وجہ سے پالتو پرندوں میں بجری طوطے ہی نئے شوقین بچوں اور بڑوں کا اوّلین انتخاب بنتے ہیں۔ بجری گر طوطے، جنہیں عام طور پر آسٹریلین طوطے یا بجرائز (Budgerigars) کہا جاتا ہے یہ چھوٹے، خوب صورت اور انتہائی متحرک پرندے ہیں جن کا اصل وطن آسٹریلیا کے خشک علاقے ہیں۔ ان میں ہلکے نیلے، گہرے نیلے، سفید، گرے کلر مکس، پیلے ریڈ آئیز وغیرہ عام ہیں۔ ذیل میں بجری طوطوں کی اقسام، دیکھ بھال، نر اور مادہ کی پہچان، بریڈنگ اور خوراک کے بارے میں ایک مفصل گائیڈ پیش کی جا رہی ہے۔ ۱۔ بجری طوطوں کی اقسام بجری طوطوں کو بنیادی طور پر دو بڑے گروپوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔  وائلڈ یا کلاسک بجری: یہ سائز میں چھوٹے ہوتے ہیں اور ان کا اصل رنگ ہرا (Green) ہوتا ہے، جس پر سیاہ اور پیلی لکیریں ہوتی ہیں۔  انگلش بجری: یہ سائز میں عام بجری سے کافی بڑے اور بھاری ہوتے ہیں۔ ان کے سر کے پر گھنے ہوتے ہیں اور یہ نمائش (Exhibitions) کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ رنگوں اور پروں کے پیٹرن (Mutations) کے لحاظ سے ان کی درج ذیل مشہور اقسام ہیں:  لوٹینو (Lutino): یہ مکمل پیلے رنگ کے ہوتے ہیں اور ان کی آنکھیں سرخ ہوتی ہیں۔  البائنو (Albino): یہ مکمل سفید رنگ کے ہوتے ہیں اور ان کی آنکھیں بھی سرخ ہوتی ہیں۔  پائیڈ (Pied): ان کے جسم پر دو یا دو سے زیادہ رنگوں کے دھبے ہوتے ہیں (جیسے سفید اور نیلا، یا پیلا اور ہرا)۔  اسپینگل (Spangle): ان کے پروں کے کنارے گہرے رنگ کے ہوتے ہیں جو دیکھنے میں بہت خوب صورت لگتے ہیں۔ ۲۔ نر اور مادہ کی پہچان: بجری طوطوں میں نر اور مادہ کی پہچان ان کی چونچ کے اوپر موجود ناک کی ہڈی (جسے ’’سیری‘‘ (Cere کہا جاتا ہے) کے رنگ کی مدد سے ہوتی ہے۔ چھوٹے پرندوں میں فرق مشکل ہوتا ہے تاوقتے کہ ان عمر بڑھنے کے ساتھ یہ رنگ نمایا نہ ہوجائے۔ پرندے کے جوان ہونے پر (تقریباً 6 سے 8 ماہ کی عمر میں) یہ فرق بالکل واضح ہوجاتا ہے۔  نر طوطا (Male): جوان نر طوطے کی سیری کا رنگ گہرا نیلا (Dark Blue) یا چمک دار نیلا ہوتا ہے، جب کہ لوٹینو اور البائنو نر میں یہ رنگ گلابی یا پرپل بھی ہوسکتا ہے۔ مادہ طوطی (Female): جوان مادہ کی سیری کا رنگ سفید، ہلکا نیلا، مٹیالا یا گہرا بھورا (Brown) ہوتا ہے۔ جب مادہ بریڈنگ کے لیے تیار ہوتی ہے تو اس کی ناک کی جِلد کھردری اور گہری بھوری ہوجاتی ہے۔ ۳۔ بجری طوطوں کی کئیر بجری طوطوں کو صحت مند رکھنے کے لیے چند بنیادی باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے: پنجرے کا سائز: پنجرہ اتنا بڑا ہونا چاہیے کہ پرندے آسانی سے اپنے پر پھیلا سکیں اور اڑ سکیں۔  ایک جوڑے کے لیے کم از کم 1.5 بائی 1.5 فٹ کا پنجرہ مناسب ہے۔  صفائی ستھرائی: پنجرے کے نیچے بچھا ہوا کاغذ یا ٹرے ہفتے میں کم از کم دو بار لازمی صاف کریں۔ پانی کا برتن روزانہ دھوکر نیا پانی ڈالیں۔  درجۂ حرارت اور ماحول: انہیں تیز دھوپ، سرد ہوا کے جھونکوں اور بلی یا دیگر شکاری جانوروں سے محفوظ رکھیں۔ ان کے لیے اوسط درجہ حرارت 20 سے 30 ڈگری سینٹی گریڈ بہترین ہے۔ ۴۔ خوراک صرف باجرہ دینا ان چھوٹے طوطوں کی صحت کے لیے کافی نہیں ہوتا۔ انہیں ایک متوازن غذا کی ضرورت ہوتی ہے:  سیڈ مکس: ان کی بنیادی غذا میں باریک باجرہ، کینری سیڈ، اور چینا (Millets) شامل ہونا چاہیے۔ سافٹ فوڈ: ہفتے میں دو سے تین بار ابلی ہوئی گندم، ابلے ہوئے چاول، یا پانی میں بھیگی ہوئی دالیں دیں۔ سردیوں میں ابلا ہوا انڈا (میش کر کے) دینا ان کی صحت اور بریڈنگ کے لیے بہت مفید ہے۔ سبزیاں اور پھل: سبز پتوں والی سبزی مثلاً پالک، میتھی، ہرا دھنیا، پودینہ، کھیرا، اور سیب (بغیر بیج کے) شوق سے کھاتے ہیں۔  کیلشیئم اور منرلز: پنجرے میں سمندری جھاگ اور نمک/منرل کا بلاک ہر وقت موجود ہونا چاہیے تاکہ ان کی ہڈیاں اور انڈوں کے چھلکے مضبوط بنیں۔ اصل میں ان طوطوں کو تیز نوکیلی چونچ کے ذریعے فار غ وقت میں کچھ نہ کچھ کترنے کے لیے درکار ہوتا ہے۔ اگر نرم لکڑی کی شاخ یا ڈنڈا پنجرے میں ان کے بیٹھنے کے واسطے لگایا ہوا ہے تو اسے کتر کتر کر کم زور کردیں گے اس لیے سمندری جھاگ پنک سالٹ کا ٹکڑا یا بازار سے ملنے والا منرل کا بلاک لازمی رکھا جاتا ہے۔ ۵۔ بریڈنگ کا طریقہ اگر آپ بجری طوطوں سے بچے نکلوانا چاہتے ہیں، تو درج ذیل مراحل پر عمل کریں:  صحیح عمر کا انتخاب: بریڈنگ کے لیے نر اور مادہ دونوں کی عمر کم از کم 10 سے 12 ماہ ہونی چاہیے۔ اس سے کم عمر کے پرندے کا جوڑا بھی بن جاتا ہے لیکن کم عمر پرندوں سے بریڈنگ لینے پر ان کی صحت خراب ہوسکتی ہے۔  جوڑا لگانا: ایک صحت مند نر اور مادہ کو ایک ہی (الگ) پنجرے میں رکھیں۔ جب وہ ایک دوسرے کو کھانا کھلانے لگیں اور خارِش کرنے لگیں، تو سمجھیں کہ انھوں نے ایک دوسرے کو قبول کرلیا ہے اور جوڑا لگ گیا ہے۔  مٹکا یا بکس لگانا: جوڑا لگنے کے بعد پنجرے کے اندر مٹی کا مٹکا یا لکڑی کا بکس لگائیں۔ بکس کا سائز تقریباً 6x6x8 انچ ہونا چاہیے۔  انڈے اور بچے: مادہ مٹکی کا معائنہ کرنے کے بعد کچھ دنوں میں انڈے دینا شروع کردیتی ہے۔ بجری مادہ عام طور پر ایک ایک دن کے ناغے سے 4 سے 8 انڈے دے دیتی ہے۔  انڈے سینا (Incubation): مادہ انڈوں پر بیٹھتی ہے اور تقریباً 18 سے 21 دن میں انڈوں سے بچے نکلنا شروع ہوجاتے ہیں۔ اس دوران نر مادہ کو مٹکی کے اندر ہی کھانا کھلاتا ہے۔ کاروباری افراد جو ان طوطوں کی فارمنگ کرتے ہیں وہ انڈے پورے ہوجانے پر انھیں اٹھا کر مصنوعی طریقہ سے انکیوبیٹرز کے ذریعے بچے نکلواتے ہیں اور بچے انڈوں سے نکلتے ہی انھیں خود فیڈنگ کرتے ہیں۔ اس طرح جوڑا اگلے سیزن کے انڈے دینے کے لیے جلد تیار ہوجاتا ہے۔  بچوں کی دیکھ بھال: جب بچے نکل آئیں تو روزانہ کی بنیاد پر سافٹ فوڈ (انڈہ بریڈ یا ابلی گندم) لازمی دیں تاکہ والدین بچوں کو آسانی سے فیڈ کرواسکیں۔ تقریباً 30 سے 35 دن میں بچے مٹکی سے باہر آجاتے ہیں اور خود کھانا سیکھ جاتے ہیں۔ عام شوقین افراد جو گھروں میں چھوٹے بڑے پنجرے میں طوطے رکھتے ہیں وہ کالونی کہلاتا ہے جس میں کئی جوڑے ایک ساتھ رکھے ہوتے ہیں، ان میں ہر رنگ کا طوطا موجود ہوتا ہے اور کوئی بھی رنگ یا قسم کا پرندہ جس سے بھی پئیر بنالے اور کسی بھی مٹکے میں انڈے دے لے کوئی روک ٹوک نہیں ہوتی، جب کہ جو لوگ ان طوطوں کو کاروباری مقاصد کے لیے پالتے ہیں وہ باقاعدہ فارمنگ کے اصولوں کے تحت ان کا الگ الگ جوڑا الگ الگ مناسب سائز کے پنجرے میں رکھتے ہیں تاکہ بریڈنگ سے زیادہ سے زیادہ بچوں کی تعداد حاصل ہوسکے کیوںکہ کالونی کی صورت میں مادہ طوطیاں آپس میں لڑ بھی جاتی ہیں اور ایک دوسرے کے مٹکے پر قبضہ کرنے کے لیے ان کے انڈے یا بچے تک ضائع کردیتی ہیں، ج بکہ فارمنگ والے ہر جوڑے کی ورائٹی کو الگ الگ رکھ کر پرورش کرکے بہتر نتائج حاصل کرتے ہیں۔ بحرطور شوقیہ طور پر رکھے جائیں یا کاروباری مقاصد کے لیے ان کا وجود، صبح صبح ان کی چِک چِک کرتی مدھر آوازیں گھر میں اْٹھنے والے افراد کو قدرت کی قربت اور قدرت کے لمس کا حسین احساس دلاتی ہیں۔ بچے تو خاص طور پر ان کی کئیر کے واسطے بہت متحرک رہتے ہیں۔ لاہور میں تقریباً ہر علاقے میں برڈز سینٹرز سے یہ بجری طوطے دست یاب ہوتے ہیں جب کہ شادمان ٹولنٹن مارکیٹ، شالیمار باغ کے پہلو میں لگنے والے اتوار بازار سے عام لوگ دکانوں کی نسبت سستے فروخت کرنے والے گھریلو لوگوں سے بھی خرید لیتے ہیں۔ لاہور میں ان کی خوراک دانہ ویسے تو عام گلی محلے کے برڈز سینٹرز سے بھی مل جاتی ہے۔ تھوک کے بھاو ان کا دانہ خریدنے کے لیے چوبرجی مارکیٹ، شادمان ٹولنٹن مارکیٹ اور اکبری منڈی زیادہ اہم ہیں۔ 

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل