Sunday, November 08, 2026
 

ٹرمپ کا زوال

 



اقتدار کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ حکمرانوں کو یہ خوش فہمی ہوتی رہی ہے کہ وہ مختارکل بن گئے، وہی ملک کی تقدیرکے سیاہ و سفید کے مالک ہیں۔ عوام کی آراء کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ حکومت کی باگیں ان کے ہاتھ میں ہیں ، اپنی مرضی سے جو چاہیں کریں، انھیں کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں ہے۔ ہر چیز ان کی دسترس میں ہے اور وہ اپنے عوام پر اپنی مرضی کی پالیسیاں مسلط کرسکتے ہیں، لیکن زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے۔ جمہوریت میں اقتدار عوام کے ووٹوں کی امانت ہوتا ہے۔ انتخابی مہم کے دوران سیاسی رہنما عوام سے جو وعدے اور دعوے کرتے ہیں، اقتدار میں آکر ان سب کی تکمیل ان کی اخلاقی، سیاسی اور جمہوری ذمے داری ہوتی ہے۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں انھیں عوامی دباؤ اور ردعمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عوام کی طاقت کے آگے ٹھہرنا ممکن نہیں ہوتا۔ جابر، ضدی حکمراں ریاستی طاقت کو استعمال کرنے کے باوجود عوام کے ذہن اور دلوں کو تسخیر نہیں کرسکتے۔ ہمارے پڑوس بنگلہ دیش اور نیپال میں شدید عوامی احتجاجی تحریک کے نتیجے میں حکمرانوں کا انجام ابھی حال ہی کی مثالیں ہیں۔ بھارت میں کاکروچ تحریک نے مودی جیسے حکمران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبورکردیا تھا۔ اب مغربی دنیا سے سرفہرست امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عوامی دباؤ کے نتیجے میں انتخابی عمل کے ذریعے شکست کی مثال بھی ہمارے سامنے آگئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے اکسانے اور بہکانے پر ایران پر حملہ کرکے رجیم چینج کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ دونوں کو یقین تھا کہ چند روزکے اندر جنگ کے نتیجے میں ایران میں قیادت تبدیل ہوجائے گی اور وہ اپنی کٹھ پتلی حکومت کے ذریعے ایران پرکنٹرول حاصل کرلیں گے جیسا کہ انھوں نے وینز ویلا پر حملہ کر کے وہاں اپنا قبضہ جما لیا تھا اور اس کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو بھی گرفتارکرلیا تھا لیکن ایران کے خلاف ٹرمپ ، نیتن یاہو کے سارے منصوبے، حربے، چال بازیاں اور جنگی اقدامات ناکامی سے دوچار ہوئے۔ ایران نے اپنے روحانی رہبرآیت اللہ خامنہ ای کو کھونے کے باوجود بڑی جرأت، بہادری، ثابت قدمی اور قومی یکجہتی کے ساتھ امریکا، اسرائیل حملوں کا دندان شکن جواب دے کر ثابت کردیا کہ جنگ صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ عزم و حوصلے، قوت ایمانی اور قومی اتحاد کے جذبے کے ساتھ جیتی جاتی ہے۔ امریکا ایران جنگ کے حوالے سے دنیا بھرکے مبصرین، تجزیہ نگار تواتر کے ساتھ ٹرمپ اور نیتن یاہوکو جنگ بندی کے مشورے دیتے رہے اور ساتھ ہی اشارہ بھی کرتے رہے کہ ایران کے خلاف جنگ کے منفی اثرات سے پوری دنیا کی معیشت بیٹھ گئی ہے۔ مہنگائی میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا ہے اور عوام میں امریکا، اسرائیل کے خلاف جو غم و غصہ پایا جاتا ہے، اس کے منفی نتائج ٹرمپ اور نیتن یاہو کے سیاسی مستقبل کو تاریک بناسکتے ہیں، تمام جائزے اور عوامی سروے بھی تسلسل کے ساتھ ذرائع ابلاغ میں نمایاں طور پر یہ بتارہے تھے کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کی عوامی مقبولیت میں تیزی سے کمی آئی ہے اور مڈٹرم انتخابات میں ٹرمپ کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور نیتن یاہو کا اقتدار بھی رخصت ہو جاتا ہے۔ امریکا کے مڈٹرم انتخابات میں ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کرلی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی شکست تسلیم کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ ایران کے خلاف جنگ کے فیصلے نے مڈٹرم انتخابات میں ان کی پارٹی کو شکست سے دوچارکیا۔ ان کی ڈھٹائی دیکھیے کہ ٹرمپ نے ناکامی کے باوجود اپنے انٹرویو میں ایران پر حملے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ میں نے صحیح کام کیا اور اگر موقع ملتا تو دوبارہ بھی یہی کام کرتا ۔ تاہم انھوں نے انتخابی نتائج کو خوش دلی سے تسلیم کرلیا۔ نائب امریکی صدر جے ڈی وینس نے بھی ایران کے خلاف جنگ کو ہی شکست کی اہم وجہ قرار دیا۔ دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ میں صدر ٹرمپ کی شکست اور ان کے سیاسی مستقبل پر تبصرے اور تجزیے کیے جا رہے ہیں ان کے مواخذے کی خبریں بھی آرہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اب صدر ٹرمپ جنگ کو طول دینے کی بجائے ایران کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کریں گے، اپنی طاقت کھو دینے کے باوجود صدر ٹرمپ دو ہزار انتیس (2029ء) تک صدر رہیں گے، تاہم ڈیموکریٹس انھیں ٹف ٹائم دینے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل