Loading
ملکی تاریخ میں پہلی بار نومبرکے دوسرے ہفتے میں مطلوبہ درجہ حرارت کی وجہ سے ساحلی اضلاع ٹھٹھہ اور سجاول کے علاقوں چوہڑجمالی، میر پور ساکرو، گھاڑو، بہارو،کیٹی بندر اور چھچھ جان میں کپاس کی کاشت کاآغاز ہوگیاہے۔
موجودہ درجہ حرارت جاری رہنے کی صورت میں ان علاقوں میں رواں سال کپاس کی ریکارڈکاشت ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ کراپ رپورٹنگ سروسز پنجاب کی جانب سے رواں سال پنجاب میں کپاس کی 37لاکھ گانٹھوں کی پیداوارکاحیران کن دعویٰ کیاجارہا ہے۔
پاکستان میں کپاس پر تحقیق کرنیوالے دو بڑے اداروں سینٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ اور پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل نے مشترکہ طور پرکپاس کے نئے بیجوں پر تحقیق اور باہمی تکنیکی معاونت بڑھانے کافیصلہ کیاہے۔
چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے بتایاکہ گذشتہ چندسال سے درجہ حرارت اور اس کے دورانیہ میں غیر معمولی تبدیلیوں کے باعث فصلوں پر اس کے انتہائی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں، جس سے فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں کمی کے ساتھ ان فصلوں اور پھلوں کامعیار بھی بری طرح متاثر ہواہے، جس سے کسانوں کی فی ایکڑ پیداوارکم ہونے کے ساتھ مقامی زرعی معیشت پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
انہوں نے بتایاکہ قیام پاکستان سے لے کر گذشتہ سال تک پاکستان میں دو بڑے کاٹن زون تھے جن میں سے ایک سندھ کے ساحلی شہروں سے ملحقہ اضلاع جہاں عمومی طور پر کپاس کی کاشت فروری،مارچ میں ہوتی تھی،جبکہ ملک کے دیگرکاٹن زونز میں یکم مئی سے جون کے پہلے ہفتے تک ہوتی تھی، لیکن درجہ حرارت میں غیرمتوقع تبدیلیوں کے باعث سندھ کے ساحلی اور پنجاب کے چند علاقوں میں کپاس کی کاشت فروری اور باقی اضلاع میں اپریل اور مئی میں ہونے لگی ۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل