Loading
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دوست اور مشیر ایلون مسک سے اظہار یکجہتی کے لیے ان کی کمپنی ٹیسلا کی گاڑی خرید لی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ لال رنگ کی ایک جاذب نظر اور پُرتعیش گاڑی میں وائٹ ہاؤس پہنچے۔ اس گاڑی کی خریداری کے وقت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ٹیسلا کمپنی کے مالک ایلون مسک بھی موجود تھے اور انھوں نے گاڑی کے انتخاب میں صدر کی مدد بھی کی۔ صدر ٹرمپ نے گاڑی کی ڈرائیور سیٹ پر بیٹھتے ہی کہا، "واہ، یہ تو بہت خوبصورت ہے۔" ایلون مسک، جو پچھلی سیٹ پر بیٹھے تھے، نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ "یہ سکریٹ سروس کو دل کا دورہ پڑوا دے گا کیونکہ گاڑی کی رفتار 95 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے۔ تاہم، ڈونلڈ ٹرمپ نے گاڑی کا ٹیسٹ ڈرائیو نہیں کیا کیونکہ وہ ڈرائیو کرنے کے مجاز نہیں ہیں، لیکن انہوں نے ایلون مسک سے کہا کہ وہ گاڑی کو وائٹ ہاؤس چھوڑ دیں۔ بعد ازاں ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ یہ گاڑی تقریباً 80,000 ڈالر کی قیمت پر بغیر کسی رعایت کے مکمل قیمت ادا کر کے خریدی ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ ایلون مسک مجھے گاڑی کی خریداری پر رعایت دے سکتے تھے، لیکن اگر میں رعایت لیتا تو لوگ کہتے کہ مجھے فائدہ دیا گیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیسلا خریدنے کی دو وجوہات بتائیں: "ایک تو یہ ایک بہترین پروڈکٹ ہے اور دوسری یہ کہ ایلون مسک نے اپنی زندگی اور توانائی اس کام میں لگا دی ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ ایلون مسک کے ساتھ بہت غیر منصفانہ طریقے سے سلوک کیا گیا ہے حالانکہ وہ محب وطن ہیں اور انھوں نے بہت اچھا کام کیا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل