Monday, May 11, 2026
 

ایران عارضی طور پر یورینیم افزودگی روکنے پر آمادہ مگر امریکی پابندی ماننے سے انکار، امریکی اخبار

 



مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ سفارتی پیش رفت سے متعلق نئی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران نے جنگ کے خاتمے کے لیے بھیجے گئے اپنے جواب میں محدود مدت کے لیے یورینیم افزودگی روکنے پر آمادگی ظاہر کی ہے تاہم امریکا کی طویل المدتی شرائط ماننے سے انکار کردیا۔ رپورٹ کے مطابق واشنگٹن کی جانب سے ایران سے 20 برس تک یورینیم افزودگی نہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا جسے ایرانی قیادت نے ناقابلِ قبول قرار دے دیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران نے اپنے ردعمل میں مرحلہ وار جنگ بندی، آبنائے ہرمز کو بتدریج کھولنے اور آئندہ 30 روز کے اندر نئے مذاکرات شروع کرنے کی تجویز بھی دی ہے۔ امریکی اخبار کے مطابق تہران نے واضح کیا ہے کہ اگر پابندیاں ختم کی جائیں اور بحری ناکہ بندی ہٹائی جائے تو خطے میں کشیدگی کم کرنے پر پیش رفت ممکن ہوسکتی ہے۔ اس کے ساتھ ایران نے اپنے منجمد اثاثے بحال کرنے اور تیل کی برآمدات پر عائد پابندیاں فوری ختم کرنے کا مطالبہ بھی دہرایا ہے۔ دوسری جانب ایرانی سرکاری ذرائع نے وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی اخبار نے جوہری معاملے سے متعلق اہم نکات درست انداز میں پیش نہیں کیے۔ ایرانی سرکاری خبر ایجنسی کے مطابق تہران کے اصل مؤقف میں فوری اور مکمل جنگ بندی، مستقبل میں کسی بھی حملے کے خلاف ضمانت، تمام اقتصادی پابندیوں کے خاتمے اور معاہدے پر دستخط ہوتے ہی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ شامل ہے۔ ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ تہران نے اپنے جواب میں یہ بھی واضح کیا ہے کہ جوہری تنصیبات ختم کرنے یا مکمل طور پر جوہری پروگرام بند کرنے کا امریکی مطالبہ ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل