Loading
ایران کے خلاف امریکی اسرائیل جنگ کے دوران عراق میں اسرائیل کے ایک خفیہ فوجی اڈے کے انکشافات نے عراق میں کھلبلی مچا دی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مغربی میڈیا کی جانب سے اڈے کے بارے میں تفصیلات ظاہر ہونے کے بعد عراقی حکام نے ابھی تک اس حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
دو عراقی سیکورٹی اہلکاروں نے اے ایف پی کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ اسرائیلی فورسز نے ایران کے خلاف حالیہ جنگ کے دوران عراق کے صحرا میں ایک پرانے ہوائی اڈے کا استعمال کرتے ہوئے ایک فوجی اڈہ قائم کیا۔ وال سٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ نے بھی اس واقعے کی تصدیق کی۔
The open-source intelligence people have already identified the dry lake bed, 40 miles from the nearest road, deep in the Iraqi desert, that the Israeli Air Force used as a forward operating base. It was clearly more than an emergency strip; it was a full refueling and rearming… https://t.co/6zwXdUU7gD pic.twitter.com/saJ0pzAKdL
— Saul Sadka (@Saul_Sadka) May 10, 2026
ایران کیخلاف امریکا اور اسرائیلی حملے کے بعد اسرائیلی فوجیوں کو ملک کے جنوب مغربی حصے میں صحرائے نجف میں پایا گیا اور ان کی عراقی افواج سے جھڑپیں بھی ہوئیں جس میں ایک عراقی فوجی ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔
سیکورٹی اہلکار نے کہا کہ اسرائیلی فورسز نے صحرائے نجف میں ایک ترک شدہ فضائی پٹی میں ایک اڈہ قائم کیا۔
انہوں نے کہا کہ اب وہاں افواج نہیں ہیں لیکن ہو سکتا ہے کہ انہوں نے سامان چھوڑ دیا ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی آپریشن امریکا کے ساتھ ہم آہنگی میں تھا تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ افواج کتنی دیر تک وہاں موجود رہیں یا ان کا مشن کیا تھا۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے بھی اے ایف پی کی جانب سے اس حوالے سے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل