Friday, May 15, 2026
 

فرانسیسی صدر میکرون کو اہلیہ نے طیارے میں تھپڑ کیوں مارا؟ نئی کتاب میں تہلکہ خیز انکشاف

 



فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون اور ان کی اہلیہ بریجیٹ میکرون سے متعلق ایک نئی کتاب میں تہلکہ خیز دعوے سامنے آئے ہیں، جن کے بعد فرانسیسی سیاست اور میڈیا میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ فرانسیسی خاتون صحافی فلورین تاردیف کی حالیہ کتاب میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 2025 میں ویتنام کے دورے کے دوران طیارے میں صدر میکرون اور ان کی اہلیہ کے درمیان شدید تلخ کلامی ہوئی تھی، جس کی وجہ ایرانی نژاد اداکارہ گل شفتے فرحانی کو بھیجے گئے مبینہ غیر مناسب پیغامات تھے۔ کتاب کے مطابق بریجیٹ میکرون نے صدر کے موبائل فون پر کچھ پیغامات دیکھے، جس کے بعد دونوں کے درمیان سخت بحث ہوئی۔ مصنفہ نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر میکرون اور گل شفتے فرحانی کے درمیان کئی ماہ تک قریبی رابطے رہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ صدر میکرون نے اداکارہ کو رومانوی نوعیت کے پیغامات بھیجے، جن میں ایک پیغام میں انہوں نے اداکارہ کی خوبصورتی کی تعریف کی تھی۔ مصنفہ کے مطابق بریجیٹ میکرون کی ایک قریبی دوست نے بتایا کہ خاتون اول کو صرف پیغامات پر غصہ نہیں تھا بلکہ انہیں یہ احساس بھی پریشان کر رہا تھا کہ وہ اپنے شوہر کی زندگی میں آہستہ آہستہ پس منظر میں جا رہی ہیں۔ تاہم فرانسیسی خاتون اول کے نمائندے نے ان دعوؤں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بریجیٹ میکرون اپنے شوہر کا موبائل فون چیک نہیں کرتیں۔ دوسری جانب گل شفتے فرحانی نے بھی صدر میکرون کے ساتھ کسی قسم کے تعلقات کی خبروں کی تردید کردی ہے۔ Footage shows First Lady Brigitte Macron appearing to slap President Emmanuel Macron moments before their arrival in Hanoi, Vietnam on May 25. The incident, captured inside the presidential aircraft, has stirred speculation as the French leader begins a high-stakes diplomatic… pic.twitter.com/rIZSDgWeDM — TRT World (@trtworld) May 26, 2025 یاد رہے کہ گزشتہ سال ویتنام پہنچنے پر صدر میکرون کے طیارے سے اترتے وقت ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی، جس میں ایسا محسوس ہوا تھا کہ کسی نے ان کے چہرے پر ہاتھ مارا۔ اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر یہ افواہیں گردش کرنے لگیں کہ خاتون اول نے صدر کو تھپڑ مارا تھا۔ بعد ازاں صدر میکرون نے وضاحت دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ محض ہلکے پھلکے انداز میں مذاق کر رہے تھے اور معاملے کو غیر ضروری طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل