Saturday, August 01, 2026
 

امریکا کی ڈھال بننے والے ممالک جنگ کی لپیٹ میں آسکتے ہیں،ایران کی خلیجی ممالک کو وارننگ

 



ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی ملک کی سرزمین یا تنصیبات ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں کے لیے استعمال ہوئیں تو ایسے ممالک بھی ممکنہ تنازع کا حصہ بن سکتے ہیں۔ ایران کے اعلیٰ مشترکہ فوجی کمانڈ خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی نے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے حالیہ اقدامات پورے مشرقِ وسطیٰ کو ایک وسیع جنگ کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ خطے کے ممالک کی دولت، بنیادی ڈھانچے اور وسائل کو اپنی کمزور ہوتی عسکری پوزیشن کے تحفظ کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ ان کے بقول واشنگٹن علاقائی ممالک کو اپنے مفادات کے لیے دفاعی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ میجر جنرل علی عبداللہی نے کہا کہ خلیجی ممالک کو امریکہ کے ساتھ اپنے تعاون اور عسکری اتحاد پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے، کیونکہ اگر کوئی ملک امریکہ کی دفاعی ڈھال بننے کا کردار ادا کرتا ہے تو وہ خود بھی ممکنہ جنگ کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کسی بھی ایسے اقدام کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے جو اس کی قومی سلامتی یا خودمختاری کے خلاف ہو، اور اگر خطے کے کسی ملک کی سرزمین سے ایران پر حملہ کیا گیا تو اس کے نتائج پورے خطے کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ ایرانی جنرل کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی کا عندیہ دیا ہے جبکہ ایران بھی واضح کر چکا ہے کہ کسی بھی نئے حملے کا سخت جواب دیا جائے گا۔ دوسری جانب کویت سمیت خلیجی ممالک میں سیکیورٹی الرٹ بڑھا دیا گیا ہے جبکہ آبنائے ہرمز میں بھی عسکری سرگرمیوں کے باعث عالمی برادری کو تیل کی ترسیل اور علاقائی استحکام کے حوالے سے شدید خدشات لاحق ہیں۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل