Loading
کبھی کبھی طب کی دنیا میں کوئی ایسی پیش رفت سامنے آتی ہے جو صرف ایک نئی دوا یا نئی مشین نہیں ہوتی بلکہ بیماری کو دیکھنے کا پورا زاویہ بدل دیتی ہے۔ CAR-T سیل تھراپی بھی ایسی ہی ایک پیش رفت ہے۔
نوے کی ابتدائی دہائی میں جب ہم فارمیسی پڑھ رہے تھے اگر اس وقت ہمیں بتایا جاتا کہ ایک دن ہم مریض کے اپنے جسم سے چند مدافعتی خلیے نکالیں گے، انہیں لیبارٹری میں نئی شناخت سکھائیں گے اور پھر واپس جسم میں بھیج دیں گے تاکہ وہ کینسر خلیات کو ڈھونڈ کر ختم کردیں تو شاید یہ بات سائنسی افسانہ محسوس ہوتی۔ آج یہ حقیقت ہے۔ اس حقیقت نے صرف کینسر کے علاج کو نہیں بدلا بلکہ یہ سوال بھی کھڑا کیا ہے کہ کیا مستقبل کی دوا زندہ خلیوں کی صورت میں ہوگی؟
اس تصور کو سمجھنے کے لیے ایک سادہ مثال کافی ہے۔ فرض کیجیے ایک شہر کی پولیس کے پاس مجرم کی کوئی تصویر نہیں۔ وہ شہر بھر میں گشت تو کرتی ہے مگر مجرم کو پہچان نہیں سکتی۔ اب اگر اسی پولیس کو مجرم کی واضح تصویر، اس کا نام، اس کا چہرہ اور اس کی شناخت دے دی جائے تو اچانک اس کی کارکردگی بدل جائے گی۔ CAR-T سیل تھراپی میں بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے۔
ہمارے جسم کے T Cells برسوں سے بیماریوں سے لڑنے والے سپاہی ہیں مگر بعض کینسر اپنے آپ کو اس مہارت سے چھپا لیتے ہیں کہ یہ سپاہی انہیں پہچان نہیں پاتے۔ سائنس دان انہی سپاہیوں کو ایک نئی ’شناخت‘ سکھاتے ہیں اور پھر وہی سپاہی واپس جا کر ایسے کینسر کو تلاش کرتے ہیں جو پہلے ان کی نظروں سے اوجھل تھا۔
اس علاج کی سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہاں دوا ختم نہیں ہوتی بلکہ زندہ رہتی ہے۔ ہم جانتے ہیں بقیہ کیمیائی ادویات مثلاً اینٹی بائیوٹک اپنا کام کرکے جسم سے خارج ہوجاتی ہیں، لیکن CAR-T خلیے جسم میں رہ سکتے ہیں، بڑھ سکتے ہیں، دوبارہ سرگرم ہوسکتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر دوبارہ حملہ بھی کر سکتے ہیں۔ اسی لیے دنیا انہیں زندہ دوا سے بھی تعبیر کرتی ہے۔ شاید طب کی تاریخ میں پہلی بار دوا خود بھی زندہ ہے اور بیماری کے بدلتے رویے کے مطابق اپنا ردعمل بھی بدل سکتی ہے۔
شروع میں یہ علاج صرف خون کے چند کینسر، خصوصاً بعض اقسام کے لیوکیمیا اور لمفوما تک محدود تھا۔ ایسے مریض جن کے بارے میں تقریباً امید ختم ہوچکی تھی، ان میں غیر معمولی نتائج سامنے آئے۔ لیکن سائنس کی دلچسپی ہمیشہ وہاں جاتی ہے جہاں سب سے مشکل سوال موجود ہو۔ گزشتہ دو برس میں سب سے زیادہ حیرت انگیز تحقیق سرطان پر نہیں بلکہ خودکار مدافعتی بیماریوں پر ہوئی ہے۔ مثلا Systemic Sclerosis اور چند دیگر بیماریوں میں ابتدائی مطالعات سے معلوم ہوا کہ بعض مریضوں میں CAR-T نے صرف علامات کم نہیں کیں بلکہ ایسا محسوس ہوا جیسے مدافعتی نظام کو دوبارہ ترتیب دے دیا گیا ہو۔ اس میدان میں ابھی احتیاط ضروری ہے کیونکہ مریضوں کی تعداد محدود ہے اور طویل مدتی نتائج پر مزید تحقیق درکار ہے، لیکن گمان کے غالب ہونے پر اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ سائنس پہلی بار ان بیماریوں کے بارے میں ایسے سوال پوچھ رہی ہے جو چند سال پہلے ناقابلِ تصور تھے۔
اس پوری کہانی میں ایک دلچسپ تضاد بھی ہے۔ دنیا کی جدید ترین دوا آخرکار ایک بہت پرانی چیز پر انحصار کرتی ہے اور وہ ہے انسان کا اپنا جسم۔ سائنس نے کوئی مصنوعی سپاہی ایجاد نہیں کیا بلکہ اسی فوج کو بہتر تربیت دینے کی کوشش کی ہے جو قدرت نے پہلے ہی انسان کے اندر رکھی ہوئی تھی۔ اس سے ایک بنیادی سبق ملتا ہے کہ مستقبل کی طب شاید جسم کو باہر سے بدلنے کے بجائے اس کی اپنی صلاحیتوں کو سمجھنے اور بہتر بنانے کی طرف زیادہ بڑھے گی۔
یہاں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ علاج اتنا مؤثر ہے تو کیا ہر کینسر کا علاج اسی سے ہو جائے گا؟ اس کا جواب فی الوقت نفی میں ہے۔ خون کے سرطانوں میں CAR-T نے شاندار نتائج دیے ہیں مگر پھیپھڑوں، بریسٹ، لبلبے یا بڑی آنت جیسے ٹھوس کینسر اب بھی سائنس کے لیے ایک مشکل چیلنج ہیں۔ وجہ سادہ سی ہے۔ خون میں کینسر کے خلیے نسبتاً آسانی سے مل جاتے ہیں لیکن ٹھوس رسولیوں نے اپنے گرد ایسا حیاتیاتی ماحول بنا رکھا ہوتا ہے جہاں مدافعتی خلیوں کا پہنچنا اور مؤثر طریقے سے کام کرنا آسان نہیں ہوتا ۔ گوکہ دنیا کی سیکڑوں لیبارٹریاں اسی مسئلے کو حل کرنے میں مصروف ہیں مگر ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ کامیابی قریب ہے۔
پاکستان کے لیے اس پوری کہانی کا سب سے اہم پہلو شاید علاج نہیں بلکہ ابھرتا ہوا موقع ہے۔ ہم اکثر نئی ٹیکنالوجی کو صرف درآمد کرنے والی چیز سمجھتے ہیں حالانکہ CAR-T کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ علم خریدنے سے پہلے پیدا کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی ملک صرف تیار شدہ علاج خریدے گا تو وہ ہمیشہ صارف رہے گا لیکن اگر وہ اس کے پیچھے موجود سائنس، مینوفیکچرنگ، ریگولیشن اور تحقیق کو سمجھے گا تو وہ اس صنعت کا حصہ بن سکتا ہے۔
یہ بھی کہنا درست نہیں ہوگا کہ پاکستان کے پاس اس شعبے میں کچھ بھی نہیں۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ہمارے پاس ماہر ہیماٹولوجسٹ ہیں، کینسر کے علاج کے مراکز ہیں، بون میرو ٹرانسپلانٹ کی سہولت موجود ہے، مالیکیولر بایولوجی کی تجربہ گاہیں ہیں، بایوٹیکنالوجی کے محققین ہیں اور ایک ایسی دوا ساز صنعت بھی ہے جو مشکل حالات کے باوجود پیچیدہ حیاتیاتی ادویات کی طرف قدم بڑھانے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ مسئلہ وسائل کی مکمل عدم موجودگی نہیں بلکہ ان وسائل کا منتشر ہونا ہے۔ جیسے ایک شہر میں اینٹ، سیمنٹ، لوہا اور انجینئر سب موجود ہوں مگر کوئی نقشہ نہ ہو، تو عمارت کبھی مکمل نہیں بنتی۔
اگر پاکستان سنجیدگی سے اس میدان میں داخل ہونا چاہے تو پہلا قدم CAR-T تیار کرنا نہیں بلکہ قومی صلاحیت کو منظم کرنا ہوگا۔ ایک ایسا قومی پروگرام جس میں جامعات، تدریسی اسپتال، ریگولیٹری ادارے، بایوٹیک صنعت اور فارماسیوٹیکل کمپنیاں ایک ہی میز پر بیٹھیں۔ دنیا کے تقریباً ہر کامیاب ملک نے یہی راستہ اختیار کیا۔ کسی نے ایک دن میں CAR-T نہیں بنائی۔ پہلے بنیادی تحقیق ہوئی، پھر خلیاتی لیبارٹریاں قائم ہوئیں، اس کے بعد تربیت یافتہ افرادی قوت تیار ہوئی، پھر ریگولیٹری اصول بنے اور آخر میں صنعت وجود میں آئی۔
اس پوری تبدیلی میں شاید سب سے زیادہ دباؤ ریگولیٹری اداروں پر آئے گا۔ ایک کیمیائی دوا کی جانچ نسبتاً سیدھی ہوتی ہے۔ اس کی ساخت، خالص پن اور استحکام کی پیمائش کی جاسکتی ہے۔ لیکن ایک زندہ خلیے کی کوالٹی کیسے جانچی جائے؟ اگر خلیہ تقسیم ہو رہا ہے تو معیار کیا ہوگا؟ اگر وہ مریض کے جسم میں مہینوں بعد بدل جائے تو ذمے داری کس کی ہوگی؟ اگر ایک ہی علاج ہر مریض میں مختلف انداز سے کام کرے تو منظوری کے اصول کیسے لکھے جائیں؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب روایتی فارماسیوٹیکل قوانین میں موجود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ مغرب و مشرق میں گزشتہ چند برسوں کے دوران Cell and Gene Therapy کے لیے الگ ریگولیٹری فریم ورک بنائے گئے ہیں۔
پاکستان میں بھی اس شعبے کی کامیابی صرف سائنس دانوں پر منحصر نہیں ہوگی بلکہ ہماری ڈریپ، جامعات، اسپتالوں اور صنعت کے درمیان غیر معمولی تعاون کی ضرورت ہوگی۔ اگر ریگولیٹری نظام پہلے سے تیاری شروع کر دے، اگر نوجوان سائنس دانوں کو بیرون ملک تربیت دی جائے، اگر چند منتخب مراکز میں بین الاقوامی معیار کی خلیاتی لیبارٹریاں قائم کی جائیں اور اگر صنعت کو یہ یقین دلایا جائے کہ حکومت اس شعبے کو قومی ترجیح سمجھتی ہے تو شاید اگلے چند برسوں میں پاکستان صرف CAR-T استعمال کرنے والا ملک نہیں بلکہ اس کی تحقیق اور تیاری میں حصہ لینے والا ملک بھی بن سکتا ہے۔
بعض لوگ کہیں گے کہ یہ خواب بہت بڑا ہے لیکن تاریخ کا ایک دلچسپ اصول ہے۔ ہر وہ ٹیکنالوجی جو ابتدا میں صرف چند امیر ممالک اور چند مخصوص مریضوں تک محدود تھی وقت کے ساتھ عام ہوتی گئی۔ کبھی ایم آر آئی مشین بھی ناقابلِ حصول سمجھی جاتی تھی، انسانی جینوم کی ترتیب معلوم کرنا اربوں ڈالر کا منصوبہ تھا اور بایولوجیکل ادویات بھی چند کمپنیوں کی اجارہ داری تھیں۔ آج یہ سب بہت سے ممالک کی دسترس میں ہیں۔ اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان CAR-T کب بنائے گا۔ اصل سوال یہ ہے کہ جب دنیا زندہ ادویات کے دور میں داخل ہو رہی ہے تو کیا ہم اس سفر کا آغاز آج کریں گے یا ہمیشہ دوسروں کے نقشِ قدم پر چلنے کا انتظار کرتے رہیں گے؟
شاید CAR-T کی سب سے بڑی تعلیم کینسر کے علاج سے بھی زیادہ گہری ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ مستقبل کی ترقی صرف نئی مشینیں خریدنے سے نہیں آتی بلکہ نئے خیالات کو سمجھنے، نئی صلاحیتیں پیدا کرنے اور ایسے ادارے بنانے سے آتی ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے علم تخلیق کر سکیں۔ جو قومیں علم درآمد کرتی ہیں وہ بازار کی خریدار بنتی ہیں لیکن جو قومیں علم پیدا کرتی ہیں وہ مستقبل کی سمت متعین کرتی ہیں۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل