Monday, July 20, 2026
 

خواب اور حقیقت

 



حقیقت اور خواب کے بیچ کیا ہے؟ یہ سوال دو بار میرے ذہن میں آیا۔ ایک بار انتظار حسین مرحوم کی بھید بھری علامات کو سمجھنے کی کوشش میں اور اب شفقت نغمی صاحب کا ناول پڑھتے ہوئے۔ ویسے ہاتھ سے نکلے ہوئے لفظ اور حرف مطبوعہ کے درمیان بھی ایک فرق ہے۔ نغمی صاحب کے قبیلے میں ایک بزرگ گزرے ہیں، نام نامی ان کا قدرت اللہ شہاب ہے۔ ان سے ایک پہنچے ہوئے پیر کا ایک واقعہ روایت ہے جو اپنے تصرف روحانی سے عقیدت میں ڈوبے ہوئے مرید کا سینہ نور خداوندی سے روشن کر دیا کرتے تھے۔ شہاب کے افسر شاہی تجسس سے یہ برداشت نہ ہوا لہٰذا انھوں نے پیر صاحب کے چوغے سے بیٹری والی ٹارچ برآمد کر کے نور کی قلعی کھول کر رکھ دی۔  ایک زمانہ بیت جانے کے بعد میری کیفیت بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ میرا شمار ان چند خوش نصیبوں میں ہوتا ہے جنھیں 'سات جنم' کے مطالعے کا موقع اس کی اشاعت سے پہلے میسر آیا۔ میں کسی اور کے بارے میں تو نہیں کہتا البتہ میری کیفیت یہ ہے کہ اشاعت سے پہلے جو چیزیں اور علامات مجھے زیادہ متوجہ نہ کر سکیں، اشاعت کے بعد یہ قدم قدم پر میرا دامن پکڑتی ہیں۔ پس ثابت ہوا کہ بیٹری والا ٹارچ ہو یا برقی چھاپہ خانے ہر دو ایجادات جادو اثر ہیں۔ اول الذکر نور کا منبع ہے تو ثانی الذکر میں ڈھیروں ڈھیر تاثیر پائی جاتی ہے جیسے وہ ببول کا درخت جس کے گھیر میں کوئی پراسرار اجنبی کسی مسافر کا انتظار کرتا ہے اور اپنے خزانوں کے منھ اس کے لیے کھول دیتا ہے یہاں تک کہ اپنی واحد اولاد بھی اس کے نکاح میں دے کر راہی ملک عدم ہو جاتا ہے۔ یہ ببول کا درخت بھی عجب جادو بھرا ہے۔ نامعلوم زمانوں میں وہ انواع و اقسام پھلوں سے لوگوں کے دامن بھر دیا کرتا تھا لیکن اب وہ کسی خون آشام بلا کا مسکن ہے جس کی جڑوں میں زہریلے اژدہا بسیرا کرتے ہیں کہ شفقت نغمی کا محمد خان پلٹ پلٹ کر اس کی طرف لپکتا ہے اور ہاتھ پاؤں لہو لہان کر کے لوٹتا ہے۔ یہ سلسلہ جاری ہے۔ سبب اس کے لٹکتے ہوئے شہد کے چھتے ہیں جن میں شفا کی نوید دی گئی ہے اور پھلوں کے ڈھیر ہیں جن سے پیٹ اور ہوس، دونوں کی آگ سرد ہوتی ہے۔ یوں گویا یہ درخت ایک علامت ہے جس کے گرد اس ناول کا تانا بانا بنا گیا ہے۔ کیسا عجب یہ تانا بانا ہے جس میں عقیدے اور عقیدت کی سخت گیری اور آرزؤں کے خواب دونوں شامل ہیں۔ ان کیفیات کے نتائج ہمیں اس ناول کے صفحات پر ملتے ہیں اور بہت سے مجھے اپنے ارد گرد دکھائی دیتے ہیں۔ ناول میں جن نتائج کی تفصیل بیان کی گئی ہے، انھیں میں آپ پر چھوڑتے ہوئے اس زلزلے کا ذکر کرتا ہوں جس نے اس ناول کے مرکزی کردار کا مسکن دو حصوں میں بانٹ دیا یا اس منھ زور آرزو اور اس کی خاطر استعمال کیے گئے ہتھ کنڈوں کو خیال میں لاتا ہوں جو بالآخر ہوس ملک گیری میں بدلا جس کے مظاہر ہمیں کبھی متروکہ املاک پر قبضے کی صورت میں نظر آئے اور کبھی بڑے بڑے شہروں کو مات دینے والی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی صورت میں۔ خیر، ان مذمن امراض کو چھوڑیئے۔ مجھے تو وہ قانونی موشگافیاں بھی نہیں بھولتیں جن میں اخراج ریاح کی مقدار اور آواز میں نفس انسانی کی پیچیدگی کا راز دریافت کیا گیا ہے۔ اس ناول کی کائنات میں جب یہ عوامل اپنی تمام تر حشر سامانی کے ساتھ برگ و بار لانے لگتے ہیں تو نتیجہ ایک ہی نکلتا ہے۔ گرین کارڈ کی بے چین کر دینے والی آرزو۔ قبلہ اشفاق احمد مرحوم کا ایک ڈرامہ ہے شاید ننگے پاؤں جس میں یہی سبز کارڈ ایک متبرک جذبے کی شکل اختیار کر جاتا ہے اور جب یہ حاصل ہو جاتا ہے تو لوگ اس کی زیارت کو بہ ہزار عقیدت ننگے پاؤں غول در غول آتے ہیں لیکن ان معصوم لوگوں کو خبر ہی نہیں ہوتی کہ یہ سبز کارڈ کتنا سبز قدم ہے، اس کے ساتھ ساتھ غربت، بھوک ننگ، حرس و ہوس، جنگیں اور جانے اور کیا کیا چلا آتا ہے پھر اس کے بعد وہ ہا ہا کار مچتی ہے کہ پناہ بہ خدا۔ اشفاق احمد کا زمانہ بھلا تھا، گرین کارڈ تک محدود رہا یا اس کے ساتھ چلی آنے والی چند خرافات تک۔ ببول کے درخت میں چھپی خون آشام چڑیل اور اس کے تنے والا اژدہا ابھی خوابیدہ تھا لیکن بعد کے زمانوں میں ان کے رسے بھی کھلے اور ہم نے اپنی ' بہبودی' کی گلیوں میں جو ہمارا دیس اور مسکن ہے، خون کی ندیاں بہتی دیکھیں۔ اشفاق احمد حیات ہوتے تو ممکن ہے کہ وہ انسانی ذہن پر نقش ہو جانے والا کوئی کھیل ہمیں دکھاتے۔ وہ چلے گئے تو ان کے نقاد اور حاشیہ بردار دونوں ہی اپنا اپنا دامن جھاڑ کر کسی گپھا میں محو آرام ہو گئے لیکن کسی کو تو اس عہد کا آشوب قلم بند کرنا تھا۔ یہ ذمے داری شفقت نغمی نے پوری کی ہے۔ شفقت صاحب کون ہیں اور کیا ہیں، یہ بتانا ضروری ہے۔ میں نے عرض کیا ہے کہ ان کی قبلہ قدرت اللہ شہاب کی پرورش اور پرداخت مکتب میں ہوئی۔ شنید ہے کہ وہ ' شہاب نامہ' جیسی دیو مالا لکھنے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ دیو مالا کبھی وجود میں آ گئی تو پتہ چلے گا کہ یہ جو کبھی کراچی میں آتش و آہن کی بارش ہوا کرتی تھی اور ایک صاحب انگلی کے اشارے سے اس عروس البلاد کو سویا ہوا شہر بنا دیا کرتے تھے ، وہ اتنی طاقت کہاں سے پاتے تھے۔ اس داستان میں یہی ایک کہانی نہیں بہت سی داستانیں ہیں، ایک نئی ہزار داستان سمجھ لیجیے۔ مجھے ڈر ہے کہ ایک نئی داستان کے لالچ میں لوگ باگ ' سات جنم' کو کہیں فراموش نہ کر دیں۔ ہے تو یہ کتاب بھی ایک کارنامہ لیکن مجھے خدشہ ہے کہ اس کی سب سے بڑی علامت یعنی شجر تجسس یعنی ببول کے درخت کے بارے میں آپ کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو جائیں۔ مصنف نے محمد خان کے گاؤں کو ' بہبودی' اور ببول کے درخت سے ٹھنڈے سائے اور خوشبوں اور لذیذ پھلوں کا تصور وابستہ کر کے بڑی چالاکی سے ایک علامت تراشی ہے۔ اس علامت سے آپ کے ذہن میں اگر کوئی ایسا ویسا یعنی جانا پہچانا تصور ابھر رہا ہے تو مجھے آپ سے اختلاف ہے، بڑا شدید اختلاف ہے۔ باقی باتیں کہنے کی نہیں ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل