Loading
پاکستان میں مہنگائی، غربت اور روزگار کے مسائل پر تو اکثر بات ہوتی ہے، لیکن ایک ایسا بحران بھی خاموشی سے ہماری زندگیوں کا حصہ بنتا جا رہا ہے جس کے اثرات شاید مہنگائی سے بھی زیادہ دیرپا ہیں۔ یہ سوال ہمارے سامنے ہے کہ ہم روزانہ جو خوراک استعمال کر رہے ہیں، کیا وہ واقعی محفوظ ہے؟
حکومت کی حالیہ رپورٹ نے اس سوال کو مزید تشویش ناک بنا دیا ہے۔ وزارتِ منصوبہ بندی کے مطابق ملک بھر کی مارکیٹوں سے حاصل کیے گئے پیک شدہ گھی، کوکنگ آئل اور دودھ کے تقریباً 36 فیصد نمونے قومی معیار پر پورے نہیں اترے۔ پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (PCSIR) نے مجموعی طور پر 491 نمونوں کا تجزیہ کیا، جن میں سے 315 معیار کے مطابق جبکہ 176 غیر معیاری قرار پائے۔
یہ محض چند ناقص مصنوعات کا معاملہ نہیں۔ یہ اس سوال کا جواب طلب کرتا ہے کہ پاکستان میں ایک عام شہری اپنی بنیادی خوراک کے بارے میں کس حد تک مطمئن ہوسکتا ہے؟
سب سے زیادہ تشویش گھی کے معیار پر
رپورٹ کے اعدادوشمار میں سب سے زیادہ تشویش ناک شرح بناسپتی گھی کی سامنے آئی۔ 204 نمونوں میں سے 98، یعنی تقریباً 48 فیصد، مقررہ قومی معیار پر پورے نہیں اترے۔ دوسرے لفظوں میں مارکیٹ سے اٹھائے گئے تقریباً ہر دو گھی کے نمونوں میں سے ایک ناقص نکلا۔
بلینڈڈ کوکنگ آئل کے 146 نمونوں میں 40 غیر معیاری قرار دیے گئے، یعنی تقریباً 27 فیصد۔ پیک شدہ مائع دودھ کے 104 نمونوں میں سے 26، یعنی 25 فیصد معیار سے کم پائے گئے۔
یہ مسئلہ صرف ان تین مصنوعات تک محدود نہیں۔ دودھ پاؤڈر کے 18 نمونوں میں سے 8 غیر معیاری قرار پائے، جبکہ ریفائنڈ پام آئل کے 4 میں سے 3 نمونے مطلوبہ معیار پر پورے نہیں اترے۔ ریفائنڈ کینولا آئل کے 13 نمونوں میں سے بھی غیر معیاری نکلا۔
رپورٹ کا شاید سب سے حیران کن پہلو دودھ کا ایک نمونہ ہے، جس میں دودھ کی چکنائی صرف 0.8 فیصد ریکارڈ ہوئی، جبکہ مقررہ کم از کم معیار 3.5 فیصد تھا۔
یہ اعداد صرف لیبارٹری کی رپورٹ نہیں، بلکہ ہمارے کھانے کی پلیٹ تک پہنچنے والے ایک بڑے سوال کی نشاندہی کرتے ہیں۔
مسئلہ صرف ملاوٹ کا نہیں، ہماری ترجیحات کا بھی ہے
پاکستانی معاشرے میں خوراک کے معیار کا مسئلہ نیا نہیں۔ دودھ میں پانی سے لے کر مصنوعی اجزا، گھی میں ناقص خام مال، تیل میں غیر معیاری اجزا، رنگوں اور کیمیکلز کے بے جا استعمال تک مختلف شکایات وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہی ہیں۔
لیکن موجودہ صورتحال کو صرف ’’ملاوٹ مافیا‘‘ کہہ کر نظر انداز کرنا کافی نہیں ہوگا۔ اس مسئلے کے پیچھے ایک پورا معاشی اور سماجی نظام موجود ہے۔
ایک طرف صارف ہے جو محدود آمدنی میں اپنے گھر کا بجٹ چلانے کی کوشش کر رہا ہے، دوسری طرف وہ مصنوعات ہیں جن کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ جب ایک خاندان کے لیے معیاری دودھ، اچھا گھی یا خالص تیل خریدنا اس کی ماہانہ آمدنی کا بڑا حصہ کھانے لگے تو وہ اکثر معیار کے بجائے قیمت کو ترجیح دینے پر مجبور ہوجاتا ہے۔
یہاں سے ایک خطرناک چکر شروع ہوتا ہے: غربت سستی چیز خریدنے پر مجبور کرتی ہے، ناقص خوراک صحت کو متاثر کرتی ہے، بیماری علاج کے اخراجات بڑھاتی ہے اور علاج کا خرچ غربت کو مزید گہرا کردیتا ہے۔
مہنگائی نے ’’سستا‘‘ اور ’’محفوظ‘‘ ایک دوسرے سے دور کردیا
پاکستان میں ایک عام متوسط یا کم آمدنی والے گھرانے کا بجٹ دیکھیں تو خوراک سب سے بڑا خرچ ہے۔ آٹا، چاول، دالیں، سبزیاں، گوشت، دودھ، تیل اور بچوں کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے بعد صحت مند خوراک کے لیے زیادہ رقم باقی نہیں رہتی۔
ایسے میں صارف کے سامنے بظاہر دو راستے رہ جاتے ہیں، مہنگی مگر نسبتاً معیاری چیز خریدے یا کم قیمت مصنوعات کا انتخاب کرے۔
مسئلہ یہ ہے کہ کم قیمت ہمیشہ ناقص ہونے کی علامت نہیں اور مہنگی چیز لازماً معیاری ہونے کی ضمانت بھی نہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ریاستی نگرانی اور موثر لیبلنگ انتہائی اہم ہوجاتی ہے۔
اگر صارف کو یہ معلوم ہی نہ ہو کہ کس کمپنی کا دودھ معیار پر پورا اترتا ہے، کس گھی میں کیا اجزا شامل ہیں اور کس تیل کی کوالٹی واقعی بہتر ہے تو پھر اسے صرف قیمت دیکھ کر فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔
صفائی کا بحران کچن سے باہر بھی موجود ہے
خوراک کی حفاظت صرف فیکٹری میں بننے والی مصنوعات کے معیار کا نام نہیں۔ پاکستان میں کھانے پینے کی اشیا کی ترسیل، ذخیرہ، دکانوں پر رکھنے کا طریقہ، درجہ حرارت، برتنوں کی صفائی اور فروخت کے ماحول بھی اتنے ہی اہم ہیں۔
دودھ کی مثال لے لیجیے۔ اگر دودھ معیار کے مطابق تیار بھی کیا گیا ہو لیکن اسے غیر محفوظ درجہ حرارت پر طویل عرصے تک رکھا جائے، آلودہ برتن میں منتقل کیا جائے یا صفائی کے ناقص انتظامات کے ساتھ فروخت کیا جائے تو اس کی غذائی اور طبی حیثیت متاثر ہوسکتی ہے۔
اسی طرح کھلے تیل، گھی اور دودھ کا معاملہ اس سے بھی زیادہ حساس ہے۔ وزارتِ منصوبہ بندی نے اسی لیے اگلے مرحلے میں کھلے اور غیر پیک شدہ گھی، تیل اور دودھ کی ملک گیر جانچ کی ہدایت دی ہے۔
یہ فیصلہ انتہائی اہم ہے، کیونکہ موجودہ رپورٹ بنیادی طور پر پیک شدہ مصنوعات کے نمونوں پر مشتمل تھی۔ اگر پیک شدہ مصنوعات میں ہی اتنی بڑی تعداد معیار پر پوری نہیں اتر رہی تو کھلی اور غیر پیک شدہ اشیا کی صورتحال جاننا اس سے کہیں زیادہ ضروری ہوجاتا ہے۔
صحت پر قیمت کون ادا کرے گا؟
غیر معیاری خوراک کا نقصان ہمیشہ فوری طور پر نظر نہیں آتا۔ یہی اس کا سب سے خطرناک پہلو ہے۔ ایک ناقص مصنوعات استعمال کرنے سے لازماً اگلے دن بیماری ظاہر نہیں ہوتی، لیکن اگر ناقص یا غیر متوازن خوراک طویل عرصے تک انسانی جسم کا حصہ بنتی رہے تو اس کے اثرات صحت پر مرتب ہوسکتے ہیں۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے بھی نوجوان پاکستانیوں میں دل کے امراض اور دیگر غیر متعدی بیماریوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان میں موٹاپا، ذیابیطس، بلند فشار خون اور قلبی امراض جیسے مسائل پہلے ہی صحت کے نظام پر دباؤ بڑھا رہے ہیں۔ ایسے میں اگر بنیادی غذائی اشیا کے معیار پر بھی سوال اٹھنے لگیں تو معاملہ صرف صارفین کی شکایت نہیں رہتا بلکہ قومی صحت کا مسئلہ بن جاتا ہے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ صحت مند غذا صرف ایک امیر شخص کا حق نہیں ہونی چاہیے۔ اگر ایک کم آمدنی والا خاندان بھی وہی دودھ، گھی اور تیل خریدتا ہے جو امیر خاندان استعمال کرتا ہے تو ریاست کی ذمے داری ہے کہ دونوں کو کم از کم ایک بنیادی معیار کی محفوظ خوراک دستیاب ہو۔
بڑے برانڈز اور چھوٹے برانڈز کا فرق
رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ معروف کثیر القومی پیک شدہ دودھ تیار کرنے والی کمپنیوں کے نمونے مطلوبہ معیار پر پورے اترے، جبکہ نسبتاً کم معروف مقامی برانڈز کی مصنوعات میں معیار کے مسائل سامنے آئے۔
یہ مشاہدہ صارفین کے لیے ایک اہم اشارہ ضرور فراہم کرتا ہے، لیکن اسے تمام چھوٹے برانڈز کے خلاف عمومی فیصلہ نہیں بنایا جاسکتا۔
اصل ضرورت یہ ہے کہ ہر برانڈ، خواہ عالمی کمپنی ہو یا مقامی صنعت کار، ایک ہی معیار کے سامنے جواب دہ ہو۔ صارف کو برانڈ کی شہرت پر نہیں بلکہ شفاف اور قابلِ تصدیق معیار پر اعتماد کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔
ریگولیٹری نظام کہاں کھڑا ہے؟
یہاں سب سے بنیادی سوال ریاستی نگرانی کا ہے۔ پاکستان میں خوراک کے معیار کے لیے ادارے موجود ہیں۔ موجودہ جائزے میں پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (PSQCA) نے نتائج مرتب کیے جبکہ PCSIR نے لیبارٹری ٹیسٹنگ کی۔ صوبائی سطح پر بھی متعلقہ فوڈ اتھارٹیز کام کررہی ہیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ اگر مارکیٹ سے اٹھائے گئے ہر تین میں سے تقریباً ایک پیک شدہ نمونہ معیار پر پورا نہیں اتر رہا تو نگرانی کا موجودہ نظام کس حد تک مؤثر ہے؟
صرف نمونے حاصل کرنا، رپورٹ بنانا اور اجلاس منعقد کرنا کافی نہیں۔ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب غیر معیاری مصنوعات کی نشاندہی کے بعد ان کے خلاف فوری کارروائی بھی ہو، جرمانے ہوں، لائسنس معطل کیے جائیں، خطرناک مصنوعات مارکیٹ سے واپس لی جائیں اور صارفین کو واضح طور پر بتایا جائے کہ کون سی مصنوعات معیار پر پوری نہیں اتر رہیں۔
ریگولیشن کا مقصد صرف کاغذ پر قانون موجود رکھنا نہیں بلکہ مارکیٹ میں اس قانون کا اثر نظر آنا ہے۔
صارف بھی بے بس نہیں، لیکن اسے معلومات درکار ہیں
پاکستانی صارف کو بھی مکمل طور پر بے اختیار سمجھنا درست نہیں۔ لیکن صارف کا بااختیار ہونا صرف ’’اچھی چیز خریدنے‘‘ کا مشورہ دینے سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے واضح لیبل، قابلِ اعتماد معیار، قیمتوں میں شفافیت اور شکایت کا مؤثر نظام ضروری ہے۔
اگر کسی شہری کو کسی دودھ، گھی یا تیل کے معیار پر شک ہے تو اسے شکایت درج کرانے کا آسان طریقہ معلوم ہونا چاہیے۔ شکایت کے بعد کارروائی کی نگرانی بھی ہونی چاہیے اور نتیجہ صارف کے سامنے آنا چاہیے۔ یہ اعتماد کی وہ زنجیر ہے جو پاکستان کی فوڈ سیفٹی کو مضبوط بنا سکتی ہے۔
غریب آدمی کو ’’خالص خوراک‘‘ کی عیاشی نہیں، حق چاہیے
ہم اکثر معیاری خوراک کو ایک طرح کی آسائش سمجھ لیتے ہیں۔ اچھا دودھ، خالص گھی، معیاری تیل اور صاف ستھری خوراک جیسے الفاظ بسا اوقات متوسط اور کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے اضافی اخراجات کی علامت بن جاتے ہیں۔ یہ سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔
غریب آدمی کو بھی وہی حق حاصل ہے جو ایک امیر شہری کو ہے کہ اس کے بچے جو دودھ پی رہے ہیں، وہ مقررہ معیار کے مطابق ہو۔ اس کے گھر میں استعمال ہونے والا تیل صحت کے لیے غیر ضروری خطرہ نہ بنے اور اس کے ناشتے کی بنیادی خوراک ناقص اجزا پر مشتمل نہ ہو۔
اگر ریاست شہری سے ٹیکس وصول کرتی ہے، کاروبار کو لائسنس دیتی ہے اور مارکیٹ کو منظم کرتی ہے تو محفوظ خوراک کی فراہمی بھی اس کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہونی چاہیے۔
اب اگلا قدم کیا ہونا چاہیے؟
وزارتِ منصوبہ بندی کی جانب سے ملک بھر میں کھلے گھی، تیل اور دودھ کے معیار کا سروے کرانے کی ہدایت ایک درست سمت میں قدم ہے۔ لیکن اس سروے کو صرف ایک رپورٹ تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔
اس کے لیے ملک بھر سے باقاعدگی سے نمونے لیے جائیں، صوبہ وار اور شہر وار نتائج سامنے لائے جائیں، معیار پر پورا نہ اترنے والی مصنوعات اور اداروں کے خلاف کارروائی کی تفصیلات عوام کو بتائی جائیں اور دوبارہ ٹیسٹنگ کا نظام بھی قائم کیا جائے۔
اسی مقصد کے لیے وزارتِ منصوبہ بندی، PCSIR اور PSQCA کے ماہرین پر مشتمل خصوصی تکنیکی ذیلی کمیٹی قائم کی گئی ہے جو لیبارٹری نتائج کا جائزہ لے کر شواہد پر مبنی سفارشات پیش کرے گی۔ اس کمیٹی کی سفارشات کو محض سرکاری فائل کا حصہ بنانے کے بجائے عملی پالیسی میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔
اصل مسئلہ ہماری پلیٹ میں ہے
پاکستان میں مہنگائی کا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ اشیا مہنگی ہوگئی ہیں۔ اصل المیہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ مہنگی چیز خریدنے کے باوجود اس کے معیار کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔
ایک طرف ماں اپنے بچوں کے لیے دودھ خریدتی ہے، دوسری طرف اسے یہ معلوم نہیں کہ اس دودھ میں مطلوبہ غذائی اجزا موجود بھی ہیں یا نہیں۔ ایک گھرانہ مہنگائی کے باوجود گھی اور تیل خریدتا ہے، مگر اسے یہ ضمانت نہیں کہ وہ جو چیز خرید رہا ہے وہ قومی معیار پر پوری اترتی ہے۔
یہ صورتحال صرف صارف کے اعتماد کو نقصان نہیں پہنچاتی بلکہ پورے معاشرے کی صحت، معیشت اور مستقبل کو متاثر کرسکتی ہے۔
خوراک کا معیار دراصل قومی صحت کا معیار ہے
اگر حکومت واقعی محفوظ خوراک کو قومی ترجیح بنانا چاہتی ہے تو اسے پیک شدہ مصنوعات سے آگے بڑھ کر کھلی اشیا، چھوٹی دکانوں، دودھ فروشوں، ہوٹلوں، ریسٹورنٹس، گوداموں اور پوری سپلائی چین کو نگرانی کے دائرے میں لانا ہوگا۔
کیونکہ آخرکار سوال یہ نہیں کہ 36 فیصد مصنوعات ٹیسٹ میں ناکام ہوئیں یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم کب تک ایسی خوراک کھاتے رہیں گے جس کے بارے میں ہمیں خود یقین نہیں کہ یہ ہماری صحت کے لیے محفوظ ہے؟ اور اس سوال کا جواب صرف حکومت کو نہیں، صنعت، دکاندار، ریگولیٹر اور ہم سب کو مل کر دینا ہوگا۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل